ایک نئی کتاب

اتوار مارچ    |    عارف محمود کسانہ

میں نے جب اخبارات و جرائد میں لکھنا شروع کیا تو اُس وقت یہ ذہن میں نہیں تھا کہ اپنی ان تحریروں کو کسی وقت کتاب کی صورت میں شائع کیا جائے گا۔لیکن بہت سے احباب اور قارئین نے اصرارکیا کہ چونکہ میری اکثر تحریریں مستقل نوعیت کی ہیں اس لیے انہیں ایک کتاب کی شکل میں شائع ہونا چاہیے۔ اسی نوعیت کا مشورہ محترم غلام صابر چیئرمین اقبال اکیڈمی اسکینڈے نیویا ڈنمارک اور محترم پروفیسرمحمد شریف بقا ، صدر مجلس اقبال لندن نے بھی دیا۔
یہ دونوں حضرات خود بہت بڑے محقق، اہل علم، بہت سے کتابوں کے مصنف اور یورپ میں فکر اقبال کو متعارف کرانے میں ہر لمحہ مصروف عمل ہیں۔ محترم غلام صابر کواُن کی ایک کتاب پر صدر پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا ہے۔

(خبر جاری ہے)

محترم محمدشریف بقا اسلام، قرآن حکیم، پاکستان اور اقبالیات پر ساٹھ سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اہل قلم اور احباب نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا تو میں نے اپنے لکھے گئے مضامین سے اُن کا انتخاب کیا جو قارئین کی جانب سے بہت پسند کیے گئے تھے ۔

یہ کالم چونکہ مختلف اوقات میں لکھے گئے اس لیے ممکن ہے کہ ایک ہی بات کئی ایک جگہ پرپڑھنے کو ملے ۔ میرے نزدیک یہ کتاب کا حسن ہے کہ مصنف جس بات کو اہم سمجھتا ہے اُسے مختلف زاویوں اورطریقوں سے قارئین تک پہنچاتا ہے۔یہ انداز میں نے قرآن حکیم کے مطالعہ سے سیکھا ہے کہ رب العالمین تصریف آیات سے ایک ہی بات کو مختلف مقامات پر بار بار دہراتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ قارئین بھی اسے پسند کریں گے۔قرآن حکیم انسان کو اُس کے اصل مقام سے آگاہ کرتے ہوئے سوچنے سمجھنے اور غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے عمل کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔
فکر اقبال سے بھی ہمیں یہی درس ملتا ہے ۔ وحی خداوندی کی رہنمائی میں عقل انسانی سے تمام مسائل کا حل دریافت کیا جاسکتا ہے ۔ آئین نو اور افکار تازہ میں انسانی ترقی کا راز پنہاں ہے۔ انسانوں اور حیوانوں میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ حیوان سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس سلسلہ مضامین کا سب سے اہم مقصد غوروفکر کی دعوت دینا ہے اور اب یہ کتاب کی صورت میں افکار تازہ کے نام سے شائع ہوگئی ہے
کسی بھی لکھنے والے کو حرمت قلم کا امین ہونا چاہیے تاکہ وہ پوری دیانت داری سے اپنی بات قارئین تک پہنچا سکے۔
الحمد اللہ یہ اہمیت ہمیشہ میرے پیش نظر رہی اور بفضل تعالیٰ اس ذمہ داری کوبطریق احسن نبھایا ہے۔ اپنے قلم کو نہ تو غلو اور خوشامند کی آلائشوں سے آلودہ کیا اور نہ ہی حق اور سچ بات لکھنے میں کوئی خوف اور تردُد ہوا۔ حکیم الامت کی پیروی میں ساز سخن کو بہانہ بناتے ہوئے اپنے جذبہ، جنون ، لگن اور افکار کو لفظوں میں پرویا جو اس کتاب کی صورت میںآ پ کے سامنے ہے۔ مجھے اردو کا کوئی ادیب یا ماہر ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ یہ اردو سے محبت کا بھی اظہار ہے کہ سویڈن اور شمالی یورپ میں اپنی بساط کے مطابق اس کے فروغ کے لیے کوشش کی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے جس کے تحت چند اور کتب جلد ہی قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی۔
مستقبل میں جب بھی کوئی سویڈن اور اسیکنڈے نیویا میں اردو کی تاریخ لکھے گا تو وہ اس کوشش سے صرف نظر نہیں کرسکے گا۔
یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ بیرون ممالک میں مقیم ہیں وہ حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہیں اور وہ ہر معاملہ میں جس ملک کو وہ چھوڑ کر آئے ہوتے ہیں،اُس کا وطن ثانی کے ساتھ موازانہ کرتے ہیں۔ ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ جس ملک سے ہجرت کی تھی وہ بھی خوشحالی، امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔
میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے اور اس کا عکس قارئین کو میری تحریروں میں واضع طور پر نظر آئے گا۔اس کتاب کی اشاعت میں جن احباب نے جس طرح سے بھی تعان کیا میں اُن سب کا مشکور ہوں ۔ افکار تازہ اب کتاب کی صرت میں شائع ہوگئی ہے اور پاکستان و آزادکشمیر میں دستیاب ہے۔ اس کتاب کو Amazon نے بھی شائع کیا ہے اور بیرون ملک مقیم احباب یہ کتابwww.amazon.comسے حاصل کرسکتے ہیں۔ قارئین سے مجھے یہی کہنا ہے کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے سیکھنے کے عمل سے گذرتے ہوئے جوکچھ محسوس کیااسے سپرد قلم کرکے قارئین کی خدمت میں پیش کررہاہوں ۔ قارئین سے گذارش ہے کہ کتاب پڑھنے کے بعد اپنی رائے سے مجھے ضرور آگاہ کریں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں سوچنے سمجھنے اور پھر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔امین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ مارچ کے مزید کالم