شرمین عبید۔ ایک متحرک زندہ سوچ

اتوار مارچ    |    جاہد احمد

یک نہ شد دو شد۔ جیو شرمین عبید چنائے۔ پاکستان کا نام عالمی سطح پر پھر سے سر بلند کر نے اور چار سالوں میں دو آسکر ایوارڈ جیتنے پرآپ مبارک باد کی مستحق ہیں۔شرمین عبید چنائے نے دستاویزی فلمسازی میں کامیابی اور معیار کے وہ جھنڈے گاڑھ دیے ہیں جنہیں اکھاڑ پھینکنا اب کسی کس و ناکس کے اختیار میں نہیں۔
بطور پاکستانی بات تو خوشی کی ہے لیکن پھر عوامی حلقوں میں اس کامیابی پر اعتراض اور تقسیم کیوں؟آسکر جیتنا غلط ہے یا آسکر کا کسی پاکستانی خاتون کا جیتنا اور وہ بھی دوسری بار قابلِ اعتراض فعل ہے؟
زندہ شخص کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ احساس رکھتا ہے۔
احساس زندگی کی علامت ہے۔زندگی تخلیق سے جِلا پاتی ہے۔ اعلی تخلیقی عمل گہرے احساس کے بنا ممکن نہیں۔

(خبر جاری ہے)

احساسات کے اظہار کا طریقہ ہر تخلیق کار کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔شعر، نثر، مصوری، فلمسازی سمیت دیگر تمام فنون لطیفہ ذریعہ اظہار ہیں۔ موضوعات تخلیق کار کے محسوسات ، سوچ اورترجیحات کے مرہونِ منت ہیں۔ پھر تخلیق کار کی اپنی فنی صلاحیت ہے جویہ طے کرتی ہے کہ موضوعات کسقدر موئثر انداز میں پیش کیے جاتے ہیں اور کیا نتائج حاصل کرتے ہیں۔


شکر کرنا چاہیے کہ پاکستان میں شرمین عبید چنائے جیسے حساس افراد موجود ہیں جو معاشرے کو ناسوروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے اور محض اظہارِ افسوس کرکے آگے بڑھ جانے پر تیار نہیں۔ وہ ان ناسور حصوں کی پہچان رکھتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر ٹھہر جاتے ہیں۔ ان کا بغور معائنہ کرتے ہیں اور وجوہات و کریہات سمیت دنیا کے سامنے فلم کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ناسور چھپانے سے کچھ کم نہیں ہوتا بلکہ پھیلتا ہے۔
یہ سینے سے چمٹائے رکھنے کی نہیں کاٹ پھینکنے کی چیز ہے۔ شرمین عبید چنائے گزشتہ کئی برسوں سے ایسے معاشرتی ناسور موضوعات پر دستاویزی فلمیں تخلیق کر رہی ہیں جو ان کی اعلی درجے کی فنی صلاحیتوں اور اونچی سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ایسی موئثر ترین تخلیقات جو موضوعات سے جڑے افراد اور معاشروں میں مثبت تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔
شرمین عبید چنائے نے2012 میں خواتین کے چہروں پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعات پر ’سیونگ فیس‘ نامی دستاویزی فلم بنا کر آسکر ایوارڈ جیتا تھا۔
2015 میں انکی بنائی ہوئی دستاویزی فلم ’اے گرل ان دی ریور‘ جو کہ غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کئے جانے کے موضوع پر مبنی ہے آسکر ایوارڈ جیت چکی ہے۔پاکستانی عوام اس باصلاحیت فلمساز سے محض اس وقت روشناس ہوئے جب انہیں ’سیونگ فیس‘ کے لئے آسکر ا یوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ’پاکستانس طالبان جنریشن‘ نامی دستاویزی فلم نے 2010 میں ایمی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔مذکورہ اعزازات کے علاوہ بھی شرمین عبید چنائے دیگر متعدد بین الاقوامی ایوارڈحاصل کر چکی ہیں۔

لیکن افسوس صد افسوس کے ان تمام کارہائے نمایاں اور اعلی ترین اعزازات کے حصول کے باوجود شرمین عبید چنائے اور ان کا کام پاکستانی عوام کے لئے متنازعہ حیثیت رکھتا ہے۔لیکن کیا کہیے گا ایسی قوم بارے جو نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو یہود و ہنود کا ایجنٹ گردانے۔ ایسی قوم جو آج تک دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کو پاکستانی سپوت تک تسلیم نہیں کر سکی۔
ایسی قوم شرمین عبید چنائے کو اتنی آسانی سے کیونکر قبول کرے گی جو معاشرے کے کوڑھ زدہ جسم کو پردے کے نیچے چھپائے رکھنے پر تیار نہیں۔ مسئلہ شرمین جیسے غیر معمولی افراد کی قابلیت کا نہیں بلکہ مسئلہ کلی طور پر معاشرے کی معمولی ذہنیت کا ہے ، قدامت پرستی ،جعت پسندی اور جامد سوچ کا ہے۔جمود کا شکار معاشرہ ہر اس عمل کی مزاحمت کرتا ہے جو اس کی پھنسی پڑی سوئیوں کوسرکانے کی کوشش کرے۔شرمین عبید چنائے اپنے کام سے اس جمود میں ارتعاش پیدا کرنے کی خطا کار ہے۔

کسی نابغہ روزگار نے آوازہ کسا کہ ’فاحشہ‘ ہے۔ کسی نے اعتراض اٹھایا بھئی پاکستان کا منفی رخ اجاگر کرنے پر ’یہود‘ اسے نوازتا ہے۔ کوئی بولا پاکستان کی اچھائی اس کو دکھائی نہیں دیتی۔ایک نے کہا ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کی برائی کرتی ہے اسے کیا معلوم پاکستان کیا ہے۔سوال یہ ہے کہ چلو شرمین عبید چنائے تو مغرب کو خوش کرنے کے مقصد سے بہت برے کام سرانجام دے رہی ہے لیکن ناقدین کا ذہنی معیار کیا ہے جو معاشرے میں پھیلی برائی پر بات کرنے تک کو ممنوع و حرام سمجھتے ہیں؟اُس عزت نفس کو کون سے طاقت کے انجکشن لگا کر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں جو بات شروع ہونے سے پہلے ہی مجروح ہو جاتی ہے؟
یہ سمجھنا پڑے گا کہ برائی ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اولین قدم کے طور پر برائی کو کم از کم برائی تصور کیا جائے۔
اس کی پہچان کی جائے ،سامنے رکھا جائے، اس پر بحث کی جائے اور سدباب کے طریقے وضع کیے جائیں۔برائی کو قالین کے نیچے سرکانے سے کام نہیں چلے گا اسے سمیٹ کر کوڑے دان میں ڈال کر صفایا کر دینا ہی واحد حل ہے۔کوڑا قالین کے نیچے پڑا رہے گا تو گل سڑ کر اور زیادہ جراثیم پیدا کرے گا، مزید بیماری پھیلائے گا۔ کسی بھی معاشرے میں اچھائی کا بڑھ جانا برائی کے سدباب سے مشروط ہے۔لیکن ضروری ہے کہ برائی کو برائی تسلیم تو کیا جائے۔
ایسے معاشرے جو برائی کوبرائی کہنے میں بھی ابہام کا شکار ہوں مردہ معاشرے کہلاتے ہیں۔ زندہ معاشروں میں اچھائیوں پر چھلانگیں مارنے سے زیادہ برائی پر چیخ اٹھنا اہم فعل سمجھا جاتا ہے۔ شرمین عبید چنائے جیسے افرادتمام تر نفی اور رد کے باوجوداس انتہائی بنیادی اور ابتدائی عمل کو آگے بڑھانے میں جس موئثر انداز میں عمل پیرا ہیں یقینا قابلِ ستائش ہے۔ پاکستان کا زندہ مستقبل ایسی ہی متحرک زندہ سوچ سے منسلک ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

جاہد احمد کے اتوار مارچ کے مزید کالم