عشق پھر جیت گیا

منگل مارچ    |    محمد ثقلین رضا

دیکھئے دماغ دلیل مانگتا ہے‘ دل دلیل کے بنا ہی مرمٹنے کادرس دیتاہے‘ خاص طورپر جب معاملات بھی عشق سے متعلق ہوں تو پھر دماغ کی دلیلیں کام نہیں آتیں کیونکہ عشق کاتعلق بھی دماغ سے نہیں دل سے ہوتا ہے سودل کی مانتے ہوئے بند ہ وہی کچھ کرگزرتا ہے‘ یوں بھی ہم جن سے محبت کرتے ہیں‘ عقیدت کاجذبہ ہمارے اندر موجز ن ہوتا ہے وہ لوگ دلیلوں کی بناپر ہمیں اچھے نہیں لگتے بلکہ ہرکسی کیلئے ہمارے اندر محبت ‘عقیدت کا معیار سا قائم ہوجاتا ہے اورہم پھر اسی معیار پر ‘ دل کے دئیے ہوئے راستے پر چلتے ہی جاتے ہیں۔

ہم جس مذہب کے ماننے والے ہیں اس کی بنیاد ہی عشق ہے‘ اپنے رب سے عشق‘ اس کے محبوب یعنی حضوراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عشق‘ آپ کے اہل بیت اطہار‘ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین سے محبت ‘عشق پھر اللہ کے نیک ‘برگزیدہ بندوں سے محبت‘ جب پوچھا جائے کہ آپ اللہ اوراس کے حبیب ‘ان کے احباب سے کیوں محبت کرتے ہیں‘ دل چاہتے ہوئے بھی دلیل نہیں دے پائیگا ‘ جواب میں خدا اوراس کے محبوب کو نہ ماننے والا بھی دلیل پردلیل دے سکتا ہے ‘ لیکن یہ وہ عشق ہے جو بنا کسی دلیل کے ہے اور دلیل کے بناہونیوالا عشق کسی کو دیکھے ‘جانے ‘پرکھے بنا ہی ہوتا ہے‘ ہم خدا کی بابت جانتے ہیں انہیں دیکھا نہیں مگر محسوس کرتے ہیں ‘وہ نظرنہیں آتے مگر دل کے بہت قریب ہیں بلکہ شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں‘ سو یہ عشق ہی ہے جو کہتا ہے کہ خدا سے محبت کرو‘ بنا دیکھے‘ بناچھوئے“بس عشق کرتے جاؤ کرتے جاؤ‘ ایسا ہی نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات بابرکات سے محبت بھی بنادیکھے بنا دلیلوں کے ہی ہے۔

(خبر جاری ہے)


ایک بزرگ کے پاس شیطان آیا اور کہنے لگا کہ تم بڑے ہی عبادت گزارہو یہ بتاؤ تم خدا کو کیوں مانتے ہو‘اس بزگ نے دلیل دی جواب میں شیطان نے اپنی دلیل کے ذریعے ان کی دلیل کو رد کردیا‘ بزرگ نے دوسری دلیل دی مگر رد‘ اس طرح انہوں نے خدا کے ماننے کے حوالے سے سودلیلیں دیں مگر ہردلیل کاجواب دلیل کے ذریعے رد‘ بالآخر اس بزرگ کے دماغ میں خداوند قدوس نے بات بٹھادی ‘ان کے مرشد نے رہبری کی اوروہ فوراً بول اٹھے ”میں خدا کو بناکسی دلیل کے مانتا ہوں“ شیطان مسکرایا اور کہنے لگا کہ ” تمہارے مرشد نے تمہاری رہبری کرکے تمہیں بچالیا“ یہ ہے بنا دیکھے ‘بنا دلیل کے عشق کی داستان ۔

رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے صحابہ کرام  کی محبت کی سینکڑوں نہیں ہزاروں داستانیں موجود ہیں ‘ ایک روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کی ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! کیا ہم سے زیادہ بھی کوئی آپ سے محبت کریگا “ آپ مسکرائے اورفرمایا ” میرے صحابہ ! تم لوگ تو میرے پاس رہتے ہو‘ مجھے دیکھتے رہتے ہو‘ ایک وہ لوگ بھی ہونگے جو مجھے دیکھے بنا ‘مجھ سے محبت کریں گے اوران کی محبت میں عقیدت ‘شدت زیادہ ہوگی“
دل اوردماغ کی بات کرتے ہوئے ایک چھوٹی سی بات ضرور عرض کریں گے کہ آپ کے سامنے ایک بالکل ہی باریک سی تیز دھار والی رسی باندھ دی جائے اورآپ کو کہاجائے کہ آپ اس پر چل کر دوسری پار جاسکتے ہیں دماغ کئی طرح کے وسوسے ‘دلیلیں دے گا ‘ کہ نہیں آپ اس رسی پر چلتے ہوئے گرکر مرسکتے ہیں آپ کے پاؤں زخمی ہوجائیں گے‘ لہٰذا یہ کام چھوڑدیں‘ آپ فوراً دلیلوں میں آگئے اور رسی پر چلنے سے انکار کردیا لیکن جب عاشق کو کہاجائے کہ رسی کی دوسری طرف تمہارا محبوب ہے ‘تم سے جسے دیکھنے‘ پانے کی تمنا رکھتے ہوئے وہ اس رسی کے دوسرے سرے پر ہے‘ دل دماغ کی دلیلیں ماننے سے انکار کردے گا اوراس کی ضد ہوگی کہ ہرقسم کے وسوسوں کورد کرتے ہوئے ‘پاؤں کے زخم کی پرواہ کئے بنابس چلتے جاؤ‘ اس موقع پر دماغ ہارجاتا ہے ‘ اس کی دلیلیں بیکار چلی جاتی ہیں ۔

عشق اور پھر عشق بھی اس ہستی سے ‘کہ جس کا ثنا خوان خود خداوند قدوس ہو‘اس ہستی سے عشق کرنیوالا خود بھی افضل ہوجاتا ہے اوراس کا عشق بھی رتبہ حاصل کرلیتا ہے‘ یعنی وہ ایسے محبوب ہیں جن کے دامن سے وابستگی ہی فضیلت اور رتبے کی علامت ہے‘ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو دنیا کے اربوں لوگوں میں سے دل کی ماننے والے بہت سے ہیں‘ اوران ماننے والوں میں سے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو دل کی مانتے ہوئے بنا سوچے سمجھے بس محبت پر قربان ہوجاتے ہیں‘ عشق کیلئے اپناآپ تج دیتے ہیں‘ سو آج دل کی ماننے والا ممتاز حسین قادر ی شہید ہوکر جیت گیا مگر دماغ کی مان کردلیلیں دینے والے ہار گئے‘ گو کہ دلیلیں دینے والے آج اپنی ہار کو چھپانے کیلئے دلیلیں ہی دے رہے ہیں مگر ان کا دل بھی مانتا ہے کہ وہ ہار چکے ہیں‘
غازی علم دین شہید سے لیکر غازی ممتا ز شہید تک عشق کی ایک ایسی داستان دکھائی دیتی ہے جو دل والوں کیلئے ‘عشق کرنیوالوں کیلئے روشن مثال ہی ہے مگر دلیل والے آج تک دلیل دیتے ہیں اور دلیل دیتے رہ جاتے ہیں مگر ان کی کون مانے کہ جہاں دل والے زیادہ ہوں وہاں عقل والے راستہ بھٹک جاتے ہیں‘ آج ممتاز قادری بھی صدیق ‘عمر‘ عثمان  ‘علی کے راستے پر چلتے ہوئے اپنا آپ قربان کرگیا‘ ممتاز قادری نے حضرت اویس قرنی کے بنادیکھے عشق کی انوکھی داستان کو ایک بار پھرتازہ کردیا‘ وہ اویس قرنی جس نے اپنے سارے کے سارے دانت محض اس لئے توڑدئیے کہ پتہ نہیں میرے محبوب کاکونسا دانت شہید ہوا ہوگا‘ان دیکھے عشق کی اس سے بڑھ کر اورکیا مثال ہوگی‘ روایات میں آتا ہے کہ حضوراکرم نے اپناجبہ مبارک اپنے صاحبین کو دیتے ہوئے فرمایا کہ ”اویس سے کہنامیری امت کیلئے دعا کرے“ کہتے ہیں جب صحابہ کرام اویس  کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے پہنچے اورجبہ مبارک عطا کیا ‘باتوں باتوں میں حضرت اویس قرنی نے اپنے محبوب (نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کی ساری نشانیاں بتادیں‘ صحابہ کرام حیران رہ گئے کہ بنادیکھے اویس کیونکر اپنے محبوب کو جان پایا‘ وہی اویس قرنی جب حضوراکرمﷺ کے روضہ اقدس کی زیارت کیلئے جاتے ہیں تو خواب میں نبی مکرم نے اپنے ایک صحابی کو حکم دیا کہ اویس  کو میرے پاس آنے سے روکو‘ اگر وہ میرے پاس آگیا اور میرے روضہ پر آکر اس نے سلام کیا تو اس کے عشق ‘محبت کی بناپر مجھ پر لازم ہوگا کہ میں اپنے روضہ سے باہر نکل کر سلام کاجواب دوں اور میں روضہ اقدس سے باہر آگیا تو پھر قیامت آجائیگی۔
وہ اویس قرنی عشق کی سیڑھی تھا جو آج بھی رہبر ہے دل والوں کا ‘ وہ اویس قرنی آج بھی بنا دیکھے عشق‘ محبت کی انوکھی داستان ہے ‘دل والوں کیلئے ‘ دل والے بنا دیکھے ہی ‘بنا سوچے ہی قربان ہوئے جاتے ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے پیر مارچ کے مزید کالم