اندازوں کے گھوڑے

منگل مارچ    |    ندیم تابانی

ایک سوال ہے جس نے اہل کراچی اور اس کے متعلقین کو پریشان کر رکھا ہے ، اس ایک سوال کے پس منظر میں سوالات کی ایک لمبی قطار ہے، جو ہر ذہن کو الجھا رہے ہیں، کسی مبصر اور تجزیہ نگار کے پاس ان کا قطعی اور یقینی جواب نہیں بلکہ محض اندازے ہیں ، صرف اندازے نہیں خدشات اور وسوسے بھی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ 3مارچ جمعرات کے دن سابق ناظم کراچی سید مصطفی کمال نے صحافیوں اور ان کے توسط سے دنیا بھر کے لوگوں سے جو گفتگو کی، اس کی اصل حقیقت کیا ہے ۔
پس منظر، پیش منظر اور تہ منظر۔کیا یہ گفتگو اتنی ہی سیدھی سادہ اور سلیس ہے جتنی مصطفی کمال نے کی ، یا یہ اتنی پیچیدہ ہے کہ جب اس کے پیچ کھلیں گے تو حیرت سے آنکھیں پھٹی اور منہ کھلے رہ جائیں گے،عجب نہیں کئی ایک کے ہوش اڑ جائیں ۔

(خبر جاری ہے)

آئیے دیکھتے ہیں اس بابت کیا کچھ کہا اور سنا جا رہا ہے ۔ یاد رہے کہ صحیح اور غلط کی جانچ کا ابھی کوئی پیمانہ دستیاب نہیں۔ اٹکل پچو باتیں اور اندازے ہیں یہ سب۔
#مصطفی کمال اور انیس قائم خانی در اصل آفاق احمد اور عامر خان کی نئی شکل ہے۔

1992میں کیا جانے والا تجربہ نئی شکل و صورت اور نئے کے ساتھ کیا جا رہا ہے ، مقتدر قوتیں اس ناکام تجربے اور تب سے اب تک کے حالات کی روشنی میں تبدیلی کی ایک مختلف کوشش کر رہی ہیں ۔
#وفاقی حکومت کی ایک چال ہے جو اس نے ممتاز قادری کے ایشو سے نظریں ، سوچیں اور خیالات ہٹانے کے لیے چلی ہے ، کامیابی اور ناکامی پرزیادہ غور و خوض کیا گیا، نہ اس کی ضرورت سمجھی گئی ۔ وقتی ضرورت کے تحت استعمال کیا گیا ۔
اگر یہ دونوں توجہ حاصل کر لیتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ حالات کی روشنی میں ان کو آگے بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔
#وزیر داخلہ چودھری نثار اور آئی ایس آئی سمیت دوسری قوتوں نے بڑے غور و خوض کے بعد کراچی کو متحدہ کے چنگل سے چھڑانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے ۔ انداز دھیما رکھا گیا ہے ۔ اس معاملے پر حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں۔
#متحدہ کی اپنی ایک چال ہے ، جو مقتدر حلقوں، حکومت اور متحدہ مخالف حلقوں کو ناکام بنانے کے لیے اختیار کی گئی ہے،بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے باوجود متحدہ کی طاقت تسلیم نہیں کی جا رہی تھی ، یہ ایشوکچھ وقت چلانے کے بعد ختم کر دیا جائے گا،ممکن ہے ا ن دونوں یا کسی ایک کو دنیا سے چلتا، یا عامر خان کی طرح توبہ تائب کر دیا جائے۔
اس طرح جو لوگ 2013 کے عام یا حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی سے الگ ہو چکے ، یا کچھ متبادل کرنے کا سوچ رہے ہیں وہ اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
#مصطفی کمال نے جو کہا اور ظاہر کیا وہی صحیح ہے ، واقعی اللہ نے ان کو ہدایت دے دی ہے ، اور متحدہ کو سبق سکھانے کے لیے قدرت نے ایک انتظام کیا ہے ، ان کے پیچھے حکومت ہے نہ فوج البتہ ان کی جر ات اور استقامت دیکھ کر حکومت اور فوج ان کا نہ صرف ساتھ دے سکتی ہے بلکہ سرپرستی بھی کر سکتی ہے اور اسے ضرور کرنی چاہیے۔

#الطاف حسین والا سیٹ اپ بھی را کا بنایا ہوا یا پھر ہائی جیک کیا ہوا ہے، چوں کہ وہ نظروں میں ہی نہیں آیا بلکہ اس کے خلاف پاک فوج کے حساس ادارے کارروائی کر رہے ہیں ، اس لیے را نے ایک نیا سیٹ اپ بنایا ہے ، جس کی کمان مصطفی کمال کے پاس ہے ، لیکن لبادہ نجات دہندہ کا اڑایا گیا ہے ، اس طرح جو بھگدڑ مچے گی ، جو افراتفری ہوگی ، اس کا فائدہ را اور اس کے سرپرستوں کو ہوگا۔جب اصل بات کھلے گی تو بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

#الطاف حسین بالکل ٹھیک انسان ہیں، حق پرستوں کے سرپرست ہیں ، جاگیر داری اور سرمایہ داری کے خلاف ڈٹنے اور لڑنے والے رہ نما ہیں، ایک قوم کو مثالی قوت میں تبدیل کیا ہے ، ان سے حکومتیں بھی خائف رہتی ہیں اور مقتدر ادارے بھی ،اس لیے آئے دن نئی نئی سازشیں کی جاتی ہیں، موجودہ صورت حال بھی ایک سازش اور چال ہے۔
####
پاکستان میں لیڈری اور سیاست ایسا دل چسپ ، مقبول عام اور منافع بخش کام ہے کہ اس کی رنگینی کا شکارہو کر اچھے سے اچھوں اور سچوں سے سچے بھی اپنی اہمیت ،دیانت ،امانت اور وفا گم کر بیٹھتے ہیں ، یا انہیں اتنا بد نام کر دیا جاتا ہے ، وہ کسی کام کے قابل اور لائق اعتماد نہیں رہتے ،لیڈری اور سیاست کی دل چسپیوں اورر نگینیوں نے فوج کے سربراہوں کو ہی نہیں آلودہ کیا عدالتوں کے جج بھی عزت و شوکت سے محروم ہوئے۔
آج تک اچھے اور بُرے ، صحیح اور غلط کا پیمانہ بن سکا ،نہ ہی کوئی فرد یا ادارہ ایسی اتھارٹی بن سکا جو صحیح اور غلط قرار دینے کا اختیار رکھتا ہو، اگر ایسا ہوا بھی تو ریاست کے کسی نہ کسی ستون کو اس سے اختلاف رہا۔
####
آزاد میڈیا کے نام پر پاکستان کے گلے میں مصیبت کا جو ہار ڈالا گیا اس نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور قوم کو ایسا کنفیوژ کر دیا ہے کہ انہیں سوچنے سمجھنے رائے بنانے کے قابل ہی نہیں رہے دیا گیا ، جس قوم کو کھانے پینے اوڑھنے پہننے ، سونے جاگنے کے استعمال کی اشیاء اور ان کی خامیوں خوبیوں اور معیار جانچنے کے لیے ٹی وی کا محتاج بنا دیا گیا ہو،وہ قوم ملکی اور قومی مسائل میں بھی انہی ٹی وی چینلو ں اور ان پر بیٹھے اداکار اور فن کار قسم کے اینکروں کی ہی بولی بولے گی ، جس کو جو اینکر پسند ،جس کا مزاج جس فن کار اور تجزیہ کار سے مل گیا وہی اس کا رہ نما ، اسے اس کی ہر بات درست اور صحیح لگتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم تابانی کے پیر مارچ کے مزید کالم