عاشق کاجنازہ بھی کیادھوم سے نکلا

منگل مارچ    |    عمر خان جوزوی

ایک وہ جنازہ تھا کہ میت سامنے پڑی تھی اور بیگانوں کے ساتھ اپنوں میں بھی کوئی جنازہ پڑھنے کیلئے تیار نہیں تھا۔۔۔۔ ایک یہ جنازہ تھا کہ جنازہ پڑھنے والوں کیلئے جگہ ہی نہیں مل رہی تھی۔۔۔۔ سندھی۔۔ بلوچی۔۔ پختون۔۔ پنجابی کیا۔۔ ڈاکٹر۔۔ انجینئر۔۔ سیاستدان۔۔ علماء۔۔ وکلاء۔۔ بوڑھے۔۔ جوان اور بچوں سمیت ہر ایک کی خواہش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس جنازے میں شریک ہوں۔ لیکن راولپنڈی کی وہ زمین جہاں جنازے کا اہتمام کیا گیا تھا پوری وسعت اور کشادگی کے باوجود عوام کے جم غفیر اور لاکھوں کے اژدھام کو اپنے اندر سمونے سے قاصر دکھائی دی۔
چوک۔۔ چوراہا۔۔ شجر۔۔ حجر۔۔ مکانوں اور دکانوں کی چھتوں تک جس کو جہاں بھی پاؤں رکھنے کی جگہ ملی اس نے اسی کو غنیمت جان کر جنازے میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کی۔

(خبر جاری ہے)

تاریخی لیاقت باغ کے وسیع و عریض رقبے کے ساتھ پارک سے ملحقہ چاروں اطراف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ ممتاز قادری کا تاریخ ساز جنازہ دیکھ کر مجھے امام احمد بن حنبل کا وہ تاریخی قول یاد آیا۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا تھا کہ ہمارے اور باطل پرستوں کے درمیان فیصلہ جنازوں پر ہوتا ہے جبکہ خود امام احمد بن حنبل کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت نے یہ فیصلہ کر کے گواہی دے دی تھی کہ امام احمد بن حنبل اور ان پر کوڑے برسانے والوں میں سے کون حق پر تھا۔

ممتاز قادری کی پھانسی کو جائز قرار دینے کیلئے طرح طرح کی توجیہات پیش کرنے والوں کی طرح امام احمد بن حنبل پر کوڑے برسانے والے بھی امام احمد بن حنبل کو باغی اور واجب التعزیرقرار دینے کیلئے طرح طرح کے دلائل پیش کرتے تھے لیکن امت مسلمہ نے امام احمد بن حنبل کو حق و سچ کا علمبردار ثابت کر کے ان بے سروپا دلائل اور توجیہات کو یکسر مسترد کردیاتھا۔ آج بھی ممتاز قادری کی پھانسی کو جائز اور ممتاز قادری کو ایک قاتل قرار دینے کیلئے دلائل کے انبار لگائے جارہے ہیں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولی جارہی ہیں۔
لیکن ملک بھر کے ہزاروں نہیں لاکھوں عوام نے مسلکی اختلافات۔۔ لسانیت۔۔فرقہ بندیوں اور نسل پرستی کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ممتاز قادری کے جنازے کو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ بنا کر نہ صرف ممتاز قادری کے مخالفین کے منہ بند کر دئیے ہیں بلکہ ممتاز قادری کی پھانسی کے حوالے سے ان تمام توجیہات اور بے وزن دلائل کو بھی ہوا میں اڑا دیا ہے۔ مخالفین آج بڑی ڈھٹائی کے ساتھ یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ ممتاز قادری نے ایک شخص کو قتل کیا تھا اور قاتل کی سزا قتل ہے۔
ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کررہے لیکن یہ ضرور واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قصاص کے ساتھ اس دیت جس کے ذریعے ریمنڈڈیوس کومعاف کرایاگیا کا حکم بھی تواسی اسلام نے دیا ہے۔ ایک غیر مسلم اگر امریکہ سے آکر لاہور کی شاہراہوں پر دو تین مسلمانوں کو قتل کرکے پھر سرکاری اثرورسوخ پر دیت کے ذریعے معاف اور رہا ہو سکتا ہے تو پھر ایک عاشق رسول کیوں نہیں۔۔۔۔؟ ممتاز قادری کی پھانسی کو جائز قرار دینے کیلئے شرعی و قانونی دلائل دینے والے کیا یہ بتا سکتے ہیں کہ اسلام اور اس ملک کے آئین و قانون میں کہیں یہ ذکر ہے کہ اگر قاتل غریب ہو تو اس کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے اور اگر امیر اور امریکی ہو تو دیت کے ذریعے اس کو معاف کرکے رہا کیا جائے ۔
۔۔۔؟ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ قاتل امیر ہو یا غریب۔۔ امریکی ہو یا پاکستانی۔۔عربی ہویاعجمی۔۔سیاہ ہو یا سفید اس کوقتل کے بدلے قتل کیا جائے یا پھرورثاء کی رضامندی سے دیت کے ذریعے معاف کرکے رہا کیا جائے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اگر اس ملک میں کوئی غریب اگر کوئی جرم کرے اسے تو لمحوں میں سولی پر لٹکایا جائے مگر امیروں اور امریکیوں کو کوئی پوچھے بھی نہ ۔۔۔۔؟ ریمنڈ ڈیوس کو اگر دیت کے ذریعے معافی مل سکتی تھی تو پھر ممتاز قادری کو معافی کیوں نہیں ملی ۔
۔۔۔؟عشق رسولﷺکامعاملہ اگرنکال کر ممتاز قادری کوایک قاتل ہی تصورکیاجائے پھربھی امریکی ریمنڈ ڈیوس سے زیادہ ممتازقادری معافی کے حق دار تھے کیونکہ ایک غیرمسلم کے مقابلے میں وہ پھربھی ایک سچے مسلمان اور پکے پاکستانی تو تھے ہی۔ لیکن افسوس ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے ممتاز قادری کے معالے پر وہی کچھ کیا جو ان کا ہمیشہ خاصا رہا ہے۔ غیروں کو سروں پر بٹھانا اور اپنوں کو سولی پر چڑھانا یہ اس ملک کے حکمرانوں کی فطرت اور عادت ہے۔
دین کے نام لیواؤں اورنبی کریم ﷺ کے عاشقوں سے بغض وعنادرکھنے کے جراثیم توان بدبخت حکمرانوں کے رگ رگ میں سرایت کرچکے ہیں ۔ ایک عاشق رسول کو پھانسی پر لٹکانے کے بعد حکمرانوں نے میڈیا والوں کی بے ایمانی کا بھی کیاخوب امتحان لیا۔وہ میڈیاجواسلام پسندوں کے خلاف بھونکنے کاکوئی موقع ضائع نہیں کرتا۔ممتازقادری کے جنازے کے موقع پراس کی بھی بولتی بندہوگئی۔میڈیاکی آنکھیں بندکرنے اورکانوں میں انگلیاں دینے کے باوجودبھی ممتاز قادری کاتاریخ سازجنازہ کسی آنکھ سے اوجھل نہ رہا۔
مشرق سے مغرب اورشمال سے جنوب تک ہرآنکھ نے میڈیاکے بغیربھی وہ تاریخی لمحات دیکھ کر دل ودماغ میں محفوظ کئے۔ممتازقادری جس شان سے اس دنیا سے گئے وہ مناظر ہر آنکھ اور ہر شخص نے ایک نہیں باربار دیکھے۔۔وہ کیاتاریخی مناظرتھے جب کراچی سے گلگت اورسوات سے کشمیرتک ہرکوئی عاشق رسول کے ایک دیدارکیلئے دیوانہ وارراولپنڈی کی طرف دوڑتاجارہاتھا۔۔ کوئی قاتل تو اس شان سے دنیا سے رخصت نہیں ہو سکتا نہ ہی لیاقت باغ میں جو تاریخی جنازہ ہوا وہ کسی قاتل کا ہو سکتا ہے۔ ہزاروں نہیں لاکھوں عوام نے یہ گواہی دے دی ہے کہ ممتاز قادری قاتل نہیں عاشق رسول تھے اور عاشق رسول جب بھی اس دنیا سے جاتا ہے تو وہ اسی شان سے جاتا ہے جس شان سے ممتاز قادری گئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے پیر مارچ کے مزید کالم