از خود نوٹس

جمعرات مارچ    |    میر افسر امان

ملک کے لوگوں کی نظریں پاکستان کے چیف جسٹس کی طرف لگی ہوئی ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے متعلق سیدمصطفیٰ کمال سابق میئر کراچی کے انکشافات پر از خود نوٹس لیں اور اپنے منصب کے عین مطابق ملک کے ساتھ غداری کرنے والوں پر الزامات لگنے کی مکمل تحقیقات کریں اور عوام کا مطالبہ پورا کریں۔ پاکستان سے غداری ثابت ہونے پر قررار واقعی سزا دیں اور الطاف حسین کی قائم کردہ ایم کیو ایم پر پابندی لگائیں۔
ملک کی سیاسی پارٹیاں جن میں تحریک انصاف اورجماعت اسلامی بھی شامل ہیں نے بھی یوڈیشنل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل سابق چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری نے کراچی میں ۲۰/ سال سے جاری قتل و غارت پر از خود نوٹس لیا تھا۔ کراچی میں جن سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز تھے جو بے نقاب ہوئے تھے۔

(خبر جاری ہے)

ویسے تو پاکستان میں سب لوگوں کو پتہ تھا کہ سیا سی جماعتیں اپنے اپنے عسکری ونگ رکھتیں ہیں۔عسکری ونگ کے ذریعے وہ اپنے مخالفوں کوٹکانے لگاتیں رہیں ہیں ۔

ایم کیو ایم اس کام میں کچھ زیادہ ہی ملوث رہی ہے۔بوری بند لاشیں ایم کیو ایم کے نام کے ساتھ لازم ملزوم تھیں۔ ایک وقت جب پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ ایم کیو ایم کے دہشت گردوں کے خلاف قانونی کاروائی کر رہے تھے اور مجرموں کو پکڑ رہے تھے تو لوگوں نے ان کو ایم کیو ایم سے ڈرایا تھا ۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ میرے سائز کی بوری ابھی تیار ہی نہیں ہوئی۔ ایم کیو ایم کا خمیر ہی قتل و غارت سے شروع ہوا تھا۔
الطاف حسین نے مہاجروں سے کہا تھاکہ ٹی وی اور وی سی آر بیچوں اور اسلحہ خریدو۔ اب تک ہزاروں لوگ بے گناہ شہید کئے جا چکے ہیں جن میں ایم کیو ایم کے منحرفین بھی شامل ہیں۔ اس دوران ایم کیو ایم پر بھارت سے رابطوں کے بھی الزام لگتے رہے ہیں۔الطاف حسین نے بھارت میں ایک تقریب میں کہا تھا کہ برصغیر کی تقسیم عوام کے ساتھ ظلم تھا۔ کراچی میں پاکستان کا جھنڈا بھی جلایا تھا۔بھارت سے کارکنوں کو دہشت گردی کی مسلح ٹرنینگ بھی دلائی گئی تھی۔
ان سب باتوں کو شہید محمد صلاح الدین اپنے ہفتہ وار رسالے تکبیر میں بیان کرتے رہے تھے۔ اس جرم میں ان کو الطاف حسین نے شہید کروا دیا تھا۔ اُس وقت بھی ایم کیو ایم کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا گیا۔ الطاف حسین نے برطانیہ کو خط لکھا تھا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی کو ختم کروا دو میں اس میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ کچھ دن پہلے نواز حکومت نے بھی اقوام متحدہ اور دنیا کے آزاد جمہوری ملکوں کو بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور دہشت گردی کے ثبوت پیش کرچکے ہیں جس میں ایم کیو ایم بھی شریک ہے۔
ان ثبوت میں ایم کیو ایم کا بھارت سے فنڈ لینا اور بھارت سے ٹریننگ لینا بھی شامل ہے۔اب ایم کیو ایم کے دو منحرف جن میں سیدمصطفی کمال اور انیس قائم خانی شامل ہیں، نے الطاف حسین پر بھارت سے فنڈ لینے کے الزامات لگائے ہیں۔۱۹۹۲ء ایسے ہی الزامات دومنحرف رہمناؤں عامر خان اورآفاق نے لگائے تھے۔ اُس وقت کراچی شہر میں دو قسم کے بینرز آویزاں کئے گئے تھے ایک ایم کیو ایم کی طرف سے جس میں پرنٹ تھا کہ ”جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے“۔
دوسری طرف منحرف رہنماؤں کی طرف سے لگائے گئے بینرز پر پرنٹ تھا کہ” الطاف حسین را کا ایجنٹ ہے“۔ را کا ایجنٹ ہونے کا پہلے گروپ نے بھی لگایا تھا اور اب دوسرے گروپ نے بھی لگائے ہیں۔ الطاف حسین کے را سے رابطے کا تو پاکستان کے سارے محبت وطن عوام تو ایک عرصے سے جانتے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا بھی رپورٹ کر چکا ہے کہ الطاف حسین کے را سے تعلقات ہیں وہ را سے فنڈنگ لیتا رہا ہے۔ را کے چیف سے الطاف حسین ملاقاتیں کرتے رہتا رہا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے کوئی نئی بات نہیں کی ہے اُن کو ثبوت پیش کرنے چاہییں۔ کیا حکومت کو یہ سب کچھ معلوم نہیں ہے ۔ کیا سرفراز مرچنٹ نے میڈیا میں را سے پیسے لینے کے ثبوت نہیں پیش کئے تھے ۔ مصطفی کمال نے اپنی کانفرنس میں الطاف حسین سے طنزیہ انداز میں یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ جو بات اُس نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کو بتائی ہے کہ وہ را سے فنڈنگ لیتا رہا ہے۔ مصطفی کمال کے مطابق اس کی بریفنگ کے لیے دبئی میں پیپلز پارٹی کے رحمان ملک اور انور کو بھیجا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے لوگوں جس میں مصطفیٰ کمال بھی شریک تھا ہمنوا بنایا جائے۔
مصطفیٰ کمال نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا تھا کہ دشمن سے رابطوں کا اپنی مہاجر قوم کو بھی بتائے تاکہ جس نے ساتھ دینا ہو، اسے معلوم ہو کہ ایم کیو ایم را سے فنڈ لے رہی ہے۔ الطاف حسین را کے چیف سے ملاقاتیں کرتا رہا ہے۔را کا سابقہ چیف توالطاف حسین کے حق مین بیان دے چکا ہے کہ الطاف حسین لندن میں ایم آئی سکس کا مہمان ہے۔ دنیا اور پاکستان میں کس کو پتا نہیں کہ را پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے۔
بھارت کا دہشت گرد وزیر اعظم مودی ڈھاکا میں بیان دے چکا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو توڑا تھا۔پاکستان دشمنی اور را سے فنڈ لینے کا سارا ریکارڈ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین کے مکان سے قبضے میں لیا تھا۔ اس لیے الطاف حسین اسکاٹ لینڈ یارڈ سے کچھ بھی چھپا نہیں سکتا تھا۔ یہ سارا ریکارڈ ثبوت کی شکل میں ساری دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے ۔ سرفراز مرچنٹ نے بھی اپنی کانفرنس میں را سے فنڈنگ کے ثبوت میڈیا کے سامنے پیش کئے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے بھی اپنی پہلی کانفرنس میں یہی کہا ہے ۔آج مصطفیٰ کمال اورانیس قائم خانی کے ساتھ مل کر ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما ڈاکٹرصغیر احمد رکن سندھ اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر صحت نے بھی ایم کیو ایم سے استفیٰ دے دیا۔ ڈاکٹر صغیر احمد نے بھی الطاف حسین پر را کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ ہمیں لندن بلا کر کہا گیا کہ دشمن ملک سے مدد مانگ کر کونسی غلطی کی ہے وغیرہ۔اب نہ جانے ہمارے وزیر داخلہ اس کے علاوہ کون سے ثبوت مصطفیٰ کمال سے طلب کر رہے ہیں جبکہ سب کچھ ان کو معلوم ہے۔
وزیر داخلہ کا بیان پاکستان کے عوام کے سینوں پر مونگ دلنے کے برا بر ہے ۔ان کو اپنے بیان سے رجوح کرنا چاہیے۔ فوراً الطاف حسین پر پاکستان سے غداری کا مقدمہ قائم کرنا چاہیے۔ صرف مرچنٹ کے بیان پر کمیٹی بنانا کافی نہیں ہے۔ یہ پورے پاکستان کا مطالبہ ہے۔ اگر وزیر داخلہ ایسا نہیں کرتے توپہلے بھی کراچی بدامنی کے لیے حکومتوں نے بیس سال سے کچھ نہیں کیا اور پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے از خود نوٹس لے کر کراچی کو انصاف دینے کی کوشش کی تھی۔
اس ازخود نوٹس سے کراچی اور پاکستان کے عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا۔لگتا ہے حکومت کی کچھ مجبوری ہے ۔ کراچی اور پاکستان کے عوام موجودہ چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس تمام ثبوتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الطاف حسین کے خلاف پاکستان سے غداری کا مقدمہ قائم کریں اور حقائق کی چھان بین کرنے کے بعد پاکستانی قوم کو اس ملک دشمن سے نجات دلائیں۔ اس کی قائم کردہ ایم کیو ایم پر پابندی لگائیں۔ اس پابندی کے بعد محب وطن مہاجر پاکستان کی سیاست کرتے ہوئے ضرور اپنی نئی جماعت بنا لیں گے جو ان کا حق ہے۔ہم اس سے قبل بھی اپنے ایک مضمون میں پاکستانی عوام سے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے مہاجر سِر آنکھوں پر مگر الطاف حسین نہیں۔ اللہ ہمارے ملک کو دشمنوں سے بچائے آمین۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

میر افسر امان کے جمعرات مارچ کے مزید کالم