کیا کشمیر نوے کی اور لوٹ رہا ہے؟

جمعرات مارچ    |    صریر خالد

یوں تو جموں کشمیر میں بندوق اور بارود کی بو اب کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ قریب تیس سال سے چلی آرہی مسلح مزاحمت کے دوران گولیوں کی گن گرج سے یہاں کے لوگ مانوس ہوچکے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے سرینگر کے مضافاتی قصبہ پانپور میں فوج اور جنگجووٴں کے بیچ ہوئی لڑائی کئی اعتبار سے منفرد تھی۔ایسا نہیں ہے کہ تین دن تک چلی اس معرکہ آرائی سے قبل ریاست میں تعینات لاکھوں فوجیوں کو اس طرح کی لڑائی نہیں لڑنا پڑی ہے لیکن اس لڑائی میں جنگجووٴں کا انداز بھی نیا تھا اور جس طرح فوج کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے وہ بھی۔
پھر اس معرکہ آرائی نے اس اندازے کو بڑی حد تک صحیح ٹھہرایا ہے کہ جموں کشمیر،با الخصوص وادی،میں نئے سرے سے جنگجوئیت کو عوامی حمایت حاصل ہونے لگی ہے جیسا کہ ہندوستان کے تقریباََ سبھی بڑے اخباروں نے رپورٹ ہی نہیں کیا ہے بلکہ اپنے اداریوں میں بھی احساس و اعتراف کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کیا کیا کشمیر میں 1990کے حالات لوٹنے لگے ہیں کہ جب یہاں علیٰحدگی پسند بندوق کی طوطی بولتی تھی؟
ریاست میں ملی ٹینسی کی شروعات کچھ ان حالات اور اس انداز میں ہوئی تھی کہ جب نہ صرف یہ کہ مسلح جنگجو،جنہیں مقامی طور اب بھی مجاہد کہا جاتا ہے،حقیقی ہیرو سمجھے جاتے تھے۔

(خبر جاری ہے)

یہ وہ وقت تھا کہ جب یہاں کے لوگ اپنے دلوں اور دروازوں کو ”مجاہدین“کے لئے وا کر چکے تھے اور یہاں کے بچے اپنے سبھی کھیل بندوق اور ”مجاہدین“تک محدود کر چکے تھے،یعنی بچوں کے کھیل بھی ”آزادی اور مجاہدین“کے ارد گرد گھومتے تھے۔ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ تب تک آوارہ یا ان پڑھ اور گوار سمجھے جاتے رہے کئی نوجوانوں نے جب بندوق اٹھائی تو وہ نہ صرف مشہور ہوگئے بلکہ سماج میں انکی عزت کی جانے لگی اور انہیں ”مجاہد“بن کر وہ رتبہ حال ہوا کہ جسکے وہ اس سے قبل حق دار تو کیا خواب دیکھنے کے قابل بھی نہیں سمجھے جا سکتے تھے۔
پھر سوکاری فورسز کے ہاتھوں کوئی جنگجو مارا جاتا تو کئی کئی میل تک کے لوگ سینہ کوبی کرتے ہوئے جمع ہوجاتے اور تجہیز و تکفین میں شریک ہوکر ”ثواب“کماتے ۔
پھر جب سرکاری فورسز نے جنگجووٴں کے خلاف آپریشن تیز کئے،کیچ اینڈ کِل اور آپریشن ٹائیگر کے جیسی طویل کارروائیوں کے دوران مسلح جنگجووٴں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی نشانہ بنایا اور انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات بڑھنے لگے تو ظاہر ہے جنگجوئیت کی سطح پر بھی صورتحال کچھ تبدیل ہوگئی۔
حالانکہ گزشتہ قریب تیس سال کے دوران ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ جب مقامی لوگ جنگجوئیت کے خلاف صف آرا ہوئے ہوں یا جنگجووٴں کی کسی بڑے پیمانے پر مخالفت ہوئی ہو لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ جنگجووٴں کے لئے وہ پہلے سے دن نہ رہے کہ جب انہیں ہر گھر میں داماد سے بڑھکر جگہ ملا کرتی تھی۔سرکاری فورسز کے خوف یا زیادتیوں کے ساتھ ساتھ مقامی و عالمی سطح پر سیاسیحالات کی تبدیلی اور عالمی سطح پر بندوق کی حوصلہ شکنی کے جیسی کئی وجوہات کو لیکر ملی ٹینسی کا گراف بڑھی حد تک گر گیا یہاں تک کی سرکاری فورسز جموں کشمیر مین جنگجوئیت کے نابود ہو جانے کے دعویٰ کرنے لگی۔

یہ الگ بات ہے کہ ”غور طلب وجوہات کے لئے افسپا جیسے کالے قوانین کو کا العدم نہیں کیا گیا لیکن جہاں ”مناسب“سمجھا گیا وہاں ارباب حل و عقد نے یہ تک دعویٰ کیا کہ جموں کے علاوہ وادی کے بیشتر علاقوں میں سے ملی ٹینسی اب مکمل طور ختم ہو گئی ہے اور اب یہاں کے حالات مختلف ہیں۔بہت وقت نہیں ہوا کہ جب جنگجووٴں کے خلاف عوامی طور کوئی ردِ عمل سامنے تو نہیں آیا لیکن ہاں جنگجووٴں کے جنازوں میں ہزاروں لوگوں کی شرکت بھی قائم نہیں رہ پائی تھی اور ساتھ ہی یہ ”روایت“بھی جاچکی تھی کہ کوئی جنگجو مارا جائے تو سوگ میں عام ہڑتال کا اعلان ہو جائے۔
اس دوران میں مقامی جنگجووٴں کی تعداد میں بھی بہت کمی آچکی تھی اور سرکاری ذرائع کا دعویٰ تھا کہ اگر ریاست مین ملی ٹینسی کے نشانات کہیں باقی ہیں بھی تو وہ غیر کشمیری جنگجووٴں کی وجہ سے ہیں اور وہی اس ہانڈی کو بہت دھیمی آنچ پر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان ذرائع کا دعویٰ تھا کہ دراندازی کی کوششوں کو تقریباََ نا ممکن بنائے جانے کی وجہ سے ملی ٹینسی کا ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی جلد ہی پوری طرح بجھ جائے گا۔
شائد یہ اسی بدلے ہوئے ماحول کا کرشمہ تھا کہ 2014میں اسمبلی کے لئے ہونے والے انتخابات میں،سڑک پانی اور بجلی کے لئے ہی سہی،لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جمہوری ماحول کو پنپنے کا پھر ایک موقعہ نصیب کیا۔اتنا ہی نہیں بلکہ خود علیٰحدگی پسند خیمے میں سے، دبی دبی ہی سہی،بندوق مخالف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی تھیں اور بعض لوگ سلیقے سے یہ بات رکھنے کی کوشش میں تھے کہ بندوق مسئلہ کشمیر کے حل کی بجائے اس میں ایک بڑی رکاوٹ کے مانند ہے جسے ہٹایا جانا چاہیئے۔

حالانکہ حقیقت پسند اور دور کی سوچنے والوں کا مکرر یہ کہنا تھا کہ جو تبدیلیاں جموں کشمیر کے ماحول میں محسوس کی جانے لگی ہیں وہ در اصل عارضی ہیں اور سنجیدہ و دیر پا سیاسی اقدامات کے بغیر ان تبدیلیوں کا قیام یخ کی ایک تختی پر سمجھا جائے گا کہ جسکے معمولی تپش سے پگھل جانے کے ساتھ ہی یہ عمارت دھڑام سے ڈہ سکتی ہے۔تاہم بعض کوتاہ اندیشوں کو اس تبدیلی پر نہ صرف فخر تھا بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اسکے مزید پختہ ہونے کا اندازہ لگانے لگے تھے…جو مگر غلط ہی نہیں بلکہ بہت غلط ثابت ہوگئے۔

2014کے انتخابات میں دیگر عام باتوں کے علاوہ ایک خاص بات یہ تھی کہ جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار بھاجپا کے خلاف ووٹ مانگا جارہا تھا۔چناچہ سابق وزیرِ اعلیٰ مفتی سعید،جو دو ایک ماہ قبل ہی فوت ہوچکے ہیں،نے ریاست میں سنگھ پریوار کی آمد کی ایک ایسی ہوا کھڑا کی کہ ریاست،با الخصوص وادی،کے لوگ واقعتاََ ڈر گئے اور انہوں نے کسی بھی طرح سنگھ کو ریاست سے دور رکھنے کی ٹھان لی۔یہ غالباََ پی ڈی پی اور بھاجپا کے دوران پہلے سے موجود کسی انڈرسٹینڈنگ کا نتیجہ تھا کہ بھاجپا نے پہلی بار وادی میں زبردست انتخابی مہم چلائی،تقریباََ ہر حلقے پر اپنا امیدوار کھڑا کیا اور اخباروں میں لاکھوں روپے کی اشتہاری مہم چلا کر اس خوف میں اضافہ کردیا کہ جو فوت شدہ مفتی سعید نے قائم کردیا تھا۔
انتخابات ہوئے تو بھاجپا کو وادی میں زبردست شکست کا سامنا ہوا تاہم جموں میں اسے واضح منڈیٹ مل گیا اور لوگوں کو تب حیرانی ہوئی کہ جب انہی مفتی نے ،کہ جو اس سے قبل بھاجپا کا ڈر بٹھا کر لوگوں کو پولنگ مراکز کی جانب کھینچ لائے تھے،خود اسی بھاجپا کے ساتھ ہاتھ ملایا اور وزیر اعلیٰ ہو گئے۔یہ واحد وجہ تو نہیں ہوسکتی ہے البتہ وادی کے لوگوں کے مزاج میں جو تبدیلی اب محسوس ہورہی ہے مذکورہ بالا صورتحال کا اس میں عمل دخل ضرور ہے۔
حالات نے رخ بدلنا شروع کیا ہے اور ابھی سرینگر سے دلی اور دلی سے دور دنیا تک اس بات پر باتیں ہورہی ہیں کہ 2016کا جموں کشمیر 1990کے جموں کشمیر کی جانب لوٹتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
چناچہ جس عارضی تبدیلی کو لیکر بعض کوتاہ اندیش بڑا خوش ہوئے جارہے تھے اور اسے دائمی سمجھنے کی غلطی پر تھے انکے غرور کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے اس دوران مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی پیشرفت کرنا تو دور اس پر غور کرنے تک کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
چناچہ دلی کے میڈیا کی جانب سے نوجوان وزیرِ اعلیٰ کے بطور مشہور کرائے گئے عمر عبداللہ کا پورا دور دھونس دباوٴ کی پالیسی پر مبنی رہا یہاں تک کہ انہوں نے بزرگ علیٰحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی کو برسوں اپنے گھر میں یوں نظربند کئے رکھا کہ مقامی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کا انکا خواب مہینوں بلکہ برسوں پورا نہیں ہوسکا۔دوسری جانب مرکز میں مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر کو اور پھر کود کشمیر کو اس انداز سے نظر انداز کرنے کی افسوسناک پالیسی اپنائی کہ جیسے ایک طویل لڑائی کے بعد جموں کشمیر کو فتح کیا گیا ہو اور اب اس علاقے سے بغاوت کا بدلہ لیا جارہا ہو۔
مودی سرکار کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سرگرمی یا علیٰحدگی پسندوں کو مصروف کرنے کے جیسی چیزوں کی توقع کرنا تو دور انہوں نے مفتی سعید جیسے ”فخریہ ہندوستانی“کے سرخم کرنے کے باوجود بھی جو کچھ انکے ساتھ کیا وہ مفتی کی موت کے بعد فی الواقع انکے دشمنوں کو بھی ورطہٴ حیرت میں ڈالنے والے حقائق ہیں۔
عارضی تبدیلی کو دائمی سمجھ لینے یا بعض کے مطابق اسے کشمیریوں کی تھکاوٹ اور انکے سرنڈر پر آمادہ ہونے کے اشارے سمجھے جانے کی وجہ سے پہیئے نے اچانک ہی واپسی کا چکر لینا شروع کیا۔
یہ پہلی بار ہورہا تھا کہ انٹرنیٹ پر کشمیر کے تازہ دم اور نئے جنگجووٴں نے ہتھیاروں کے ساتھ اپنی نمائش کرنا شروع کی۔یہ لڑکے چہروں پر نقاب چڑھا کر اپنی شناخت چھپا کر سامنے نہیں آرہے تھے بلکہ کھلے عام جنگی وردی میں ملبوس ،بدن پر بم اور بندوق سجاکر گویا مرنے مارنے کے لئے تیار ہونے کا اعلان کر رہے تھے۔دیکھتے ہی دیکھتے جنگجووٴں کی اس تازہ کھیپ،جو یقیناََ آسودہ حال گھرانوں میں نازوں سے پلے اعلیٰ تعلیم یافتگان پر مشتمل ہے،کے نوجوان کمانڈر کے بطور مشہور برہان وانی جموں کشمیر میں ”یوتھ آئیکن“بن گئے اور ایک طرح سے چھا گئے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ،میڈیا رپورٹوں کے مطابق،برہان کو ہندوستان کے مختلف شہروں سے بھی نوجوان لڑکیوں کی جانب سے عاشقی کے پیغامات ملنے لگے۔

جیسا کہ خود پولس اور دیگر سرکاری اداروں کو اعتراف ہے بدلے حالات میں اعلیٰ تعلیم یافتگان کا ملی ٹینسی کی جانب راغب ہونا ایک چلینج کی طرح کھڑا ہوگیا۔چناچہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کی کمی کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا تو اس سے زیادہ نوجوان جنگجو بن گئے ہوتے کہ جو ابھی تک برہان وانی کے راستے جانے کا اعلان کرکے سرکاری ایجنسیوں کو مطلوب افراد کی فہرست میں اپنے کوائف کا اندراج کراچکے ہیں۔
ان اطلاعات کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ کئی مہینوں کے دوران ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں کہ نوجوانوں نے پولس اور فورسز اہلکاروں پر تیز دھار والے ہتھیاروں سے یا مرچی کے سفوف سے حملے کرکے انکے ہتھیار چھیننے کی کوششیں کیں جن میں سے کئی کامیاب تو کئی ناکام ہوگئیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ جموں کشمیر پولس کے ابھی تک کئی اہلکار بھی سروس ہتھیار لیکر فرار ہوئے ہیں اور پھر جنگجووٴں کی صفوں میں شامل ہوکر ”آزادی کشمیر“کی جنگ لڑنے لگے ہیں۔
ان حالات میں سرینگر اور دیگر علاقوں میں نوجوانوں کا اکثر و بیشتر احتجاجی مظاہرے کرنے،سرکاری فورسز پر سنگبازی کرنے اور اس طرح کی دیگر حرکات کے ساتھ ساتھ پاکستانی یہاں تک کہ آئی ایس آئی ایس تک کے،جسکی دہشت گردانہ کارروائیوں سے حالانکہ کشمیریوں کو فطری طور نفرت ہے،جھنڈے لہرانے کا ایک سلسلہ جیسا چل پڑا ہے۔
”عارضی تبدیلی“کے ختم ہوکر گھڑی کی سوئیوں کے واپس مڑنے کے اس عمل میں محج کچھ نوجوان اور کوئی خاص طبقہ ہی نہیں شامل ہے بلکہ دن بدن اس میں پورا کشمیر شامل ہوتے محسوس ہو رہا ہے۔
چناچہ سالِ رفتہ کی گرمیوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ ایک طرف جنگجووٴں کے سرکاری فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں مارے جانے کے ماتم میں پھر سے ہڑتالیں ہونے لگیں تو دوسری جانب ان جنگجووٴں کی نمازِ جنازہ میں پہلے کی طرح لوگوں کے جم غفیر لگنے لگے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ علاقہ میں تو گزشتہ سال سے کئی بار جنگجووٴں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں کی شرکت سے خود سرکاری اداروں کو اعتراف ہے جبکہ گزشتہ سال ہی لشکرِ طیبہ کے ”خونخار“کمانڈر ابو قاسم کی نماز جنازہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کرکے اپنی طرح کا ایک ریکارڈ قائم کردیا۔
حالانکہ ابو قاسم جموں کشمیر پولس کے ایک مشہور اور نہایت ہی کارآمد افسر،الطاف احمد عرف لیپ ٹاپ جسکی ہلاکت کو بعض پولس افسروں نے دو سو ایس پی رینک کے افسروں کے مارے جانے سے بھی بڑھکر نقصان بتایا تھا،کو قتل کرنے کے محض چند ہی دن بعد مار گرایا گیا تھا۔الطاف کو انکے آبائی علاقہ میں غالباََ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ دفنادیا گیا تھا جبکہ اتفاق یہ ہوا کہ انکے قاتل ابو قاسم انکے ہی آبائی علاقہ میں مارے گئے تو لاکھ بھر لوگ جمع ہوگئے۔
یہ اپنے آپ میں ایک دلچسپ اور قابلِ گور بات ہے کہحکام نے بنیادی وجوہات کو ایڈرس کرنے کی بجائے اسکا یہ ”جگاڑ“کیا کہ کوئی بھی پاکستانی جنگجو مارا جائے تو اسکی نعش کو پولس اپنی تحویل میں لیکر دور کہیں خود ہی زمین برد کردیتی ہے تاکہ لوگ شامل ہوکر خجالت کا باعث نہ بنیں۔حالانکہ سٹیٹ کے ”جگاڑ“سے چیزوں کے سدھر جانے کی بجائے مزید ”پریشانیاں“بڑھ گئی ہیں۔جہاں پہلے پہل تجہیز وتکفین میں محض مرد ہی شامل ہوا کرتے تھے وہیں اب کچھ عرصہ سے جنگجووٴں کے جنازوں میں عورتوں کو صفِ اول لیتے ہوئے پایا گیا ہے۔
چناچہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں حال ہی ایک جنگجو کی نماز جنازہ میں لوگوں پر فائرنگ کرکے فورسز نے ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ ساتھ ایک نوجوان لڑکی کی بھی جان لے لی جسکا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورتیں بھی،حالانکہ شائستہ جان نامی اس لڑکی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ گھر کے صحن میں بیٹھی تھیں کہ جب فورسز نے کسی اشتعال و جواز کے بغیر انہیں نشانہ بناکر قتل کردیا، جان کی پرواہ کئے بغیر اب ان جنگجووٴں کے جنازوں میں لوٹنے لگی ہیں۔
اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ عرصہ سے لوگوں کو جنگجووٴں کو کسی مکان میں فوج کی جانب سے گھیر لئے جانے کی صورت میں سڑکوں پر آکر جنگجووٴں کو راہِ فرار دینے کی کوشش کرتے بھی پایا گیا ہے اور یہ نئی بات ہے۔سرکاری ذرائع کا شائد ہی اس بات سے انکار ہوگا کہ ابھی حال ہی میں پلوامہ میں لوگوں کے ہجوم نے گولیوں کی پرواہ کئے بغیر ایک گھر میں پھنسے دو جنگجووٴں کو فرار کروانے میں کامیابی پائی جہاں فوج نے پہلے ہی ایک جنگجو کو مار گرایا تھا۔

پانپور میں سی آر پی ایف کی ایک کانوائے پر حملے کے بعد ایک سرکاری ٹرننگ انسٹیچیوٹ (ای ڈی آئی)میں پناہ لیکر تین دن تک ہزاروں فوجیوں کو مصروف رکھنے کے دوران زائد از نصف درجن اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی جوانوں اور افسروں کی جان لینے والے جنگجووٴں کے لئے کشمیری خواتین نے ”ونون“(وہ خاص گانے جو شادی بیاہ کے موقعہ پر دلہا دلہن کے لئے خاص انداز میں گائے جاتے ہیں“کیا۔چناچہ انڈین ایکسپریس،ہندوستان ٹائمز اور اس سطح کے دیگر معروف اخباروں میں شائع ہوئی رپورٹوں کے مطابق خود اس معرکہ آرائی میں شامل رہے جوانوں نے بتایا ہے کہ آگے سے گولیوں اور پیچھے سے گالیوں اور پتھروں کے درمیان وہ خود کو پھنسیا ہوا پارہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک طرف علاقے کی عورتیں اینکاونٹر کی جگہ کے قریب جنگجووٴں کے لئے گانے گا رہی تھیں اور انکی بھلائیں لے رہی تھیں تو دوسری جانب مرد لوگ فوجیوں پر پتھروں اور گالیوں کی بارش جاری رکھے ہوئے محصور جنگجووٴں تک،جو پہلے ہی فوج کے کم از کم تین افسروں اور کئی اہلکاروں کو ہلاک کر چکے تھے، پہنچ کر انہیں فرار کا موقعہ دینے کے لئے جتن کر رہے تھے یہاں تک کہ انتظامیہ کو علاقے میں کرفیو نافذ کروانا پڑا۔
یہ کیسی تبدیلی ہے اور کیوں؟مبصرین کے ساتھ ساتھ بہر حال ارباب اقتدار و اختیار کو اس بات پر سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ جو لوگ بندوق سے کنارہ کرتے محسوس ہونے لگے تھے اور ابھی سال ڈیڑھ سال قبل ہی پولنگ مراکز کے سامنے قطاریں لگارہے تھے،اچانک ہی مرنے اور مارنے پر آمادہ ریاست کے ساتھ جنگ کرنے کا عملی اعلان کر رہے ہیں۔پھر یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا کشمیر واپس 1990کی صورتحال کی جانب واپس مڑ رہا ہے؟ریاست کے ایک سرگرم ممبرِ اسمبلی انجینئر رشید کے پانپور واقعہ سے متعلق اخباری بیان میں اس سوال کا کسی حد تک جواب ڈھونڈا جاسکتا ہے کہ جس میں انہوں نے نئی دلی سے پوچھنا چاہا ہے کہ آخر کشمیری لوگ جنگجووٴں کے جنازوں میں یوں جوش کے ساتھ شریک کیوں ہوجاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ در اصل فورسز کی زیادتی،حکمرانوں کی جانب سے دھونس دباوٴ کو مسائل کا حل سمجھنے اور سب سے بڑھکر کشمیریوں کے تسلیم شدہ حق خود ارادیت سے انکار کی وجہ سے کشمیری عوام مایوس ہیں اور جنگجووٴں کو اپنے واحد نجات دہندہ تصور کر رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ لوگوں نے سیاست سے توقع ضرور کی تھی لیکن انہیں لگنے لگا ہے کہ اس میں انکے سوالوں کا جواب ہے اور نہ مسائل کا حل جسکی وجہ سے وہ پر خطر راہوں پر لوٹنے کو آمادہ ہیں۔

یہ فقط ایک انجینئر رشید ہی نہیں ہیں بلکہ ایسا سوچنے والوں کو اب دلی جیسے شہروں میں بھی ڈھونڈا نہیں بلکہ پایا جاسکتا ہے کہ جہاں کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہوئے ایک معمولی سیمینار کو لیکر کھڑا ہوئے فتنے کے پہاڑ پر چڑھ کے ان لوگوں کی خاص تعداد نظر آنے لگی ہے کہ جو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس طرح سوچنے لگے ہیں۔کیا ان لوگوں کو کنہیا کمار اور عمر خالد کی طرح چُپ کرانے کی کوشش کی جائے گی یا اب کے ”جگاڑ“کی بجائے سنجیدہ ہوکر سوچنے کی مشق کی جائے گی۔پہلی صورت میں یقیناََ بندوق برداروں کو جموں کشمیر میں 90/کی دہائی میں حاصل رہ چکا مقام واپس مل سکتا ہے اور اگر آج کی تاریخ میں ویسا ہوا تو اسکے نتائج کا کوئی ادنیٰ سوچ کا حامل شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

صریر خالد کے جمعرات مارچ کے مزید کالم