نامعلوم افراد بمقابلہ نامعلوم افراد۔۔۔!

ہفتہ مارچ    |    عمران احمد راجپوت

کمال کی انٹری نے جس طرح سیاسی ماحول کو گرمایا ہے سیاسی پارہ کسی صورت نیچے آنے کو تیار نہیں بلکہ یوں معلوم دیتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا سیاسی حدت میں مزید اضافہ ہوتا جائیگا․ کراچی میں جہاں نامعلوم افراد کی جانب سے کمال کے حق میں وال چاکنگ کا سلسلہ شروع ہوا وہاں نامعلوم افراد کی ہی جانب سے فوری ردِعمل کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا․ اب صورتحال یہ ہے کہ وال چاکنگ کا یہ سلسلہ کراچی سے نکل کر سندھ کے دیگر شہروں میں بھی داخل ہوچکا ہے جس کو دیکھ کر ہرطرف نامعلوم افراد کا گمان ہونے لگتا ہے․ دلچسپ امر یہ ہے کہ جیسے ہی کسی ایک نامعلوم افراد کی جانب سے کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے ویسے ہی فلفور دوسرے نامعلوم افراد اپنا ردعمل دکھا جاتے ہیں․ اُڑتی ہوئی پر پھیلائے خبروں کے حوالے سے آج کل سیاسی ماحول نہایت گرد آلود ہے اور ایک قسم کا طوفانِ بدتمیزی برپا ہے وفاداریاں تبدیل کرنے کی ایک عجیب لہر چل نکلی ہے جس کی گرد سے اُڑتی خبریں فضاء کو مزید ابرآلود بنائے ہوئے ہے نیز یہ کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کا یہ سلسلہ کراچی سے ہوکر سندھ کے دیگر شہروں میں بھی داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جبکہ بہت سے لوگ بیوفائی کے اِس اندھے کنویں میں چھلانگ لگانے کو بیتاب بیٹھے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)


پردے کے پیچھے خوشی کے شادیانے بجانے والوں کو شاید اِس بات کا ادراک نہیں کہ بات کس قدر گھمبیر صورتحال اختیار کیے جارہی ہے وفاداریاں تبدیل کرنے کے حوالے سے حالات اُس وقت تک تو پر امن نظر آتے ہیں جب تک بات صرف رہنماؤں یا اہم شخصیات کی ہے لیکن جیسے ہی نچلی سطح پر بکھرے ان کے مقلدین جو کارکنان و ذمہ داران کی صورت میں وفاداریاں تبدیل کرینگے اُس وقت صورتحال انتہائی خطرناک موڑ میں داخل ہوجائے گی․ محفوظ کمروں میں بیٹھے میڈیا کے ذریعے گولہ باری کرنے والوں کی یہ لڑائی گلی محلوں میں جاپہنچے گی․ تب حالات سے نمٹنا اور اسے سمیٹنا کسی کے بھی اختیار میں نہ ہوگاماضی میں اِس طرح کی بہت سی مثالیں موجود ہیں لیکن ماضی سے کب کس نے سبق سیکھا ہے بجائے اِس کے زخموں پر مرہم رکھا جائے انھیں کھرچ کر ہمیشہ اُس پر نمک پاشی کی گئی ہے․ موجودہ صورتحال سے یہ اندازہ لگانا کسی کے لیے کوئی مشکل نہیں کہ حالات کو کس طرف دھکیلا جارہا ہے جبکہ بااختیار لوگوں کی جانب سے اختیار کی گئی خاموشی معنی خیز ہے۔
پرامن کراچی میں ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کا اسٹیج تیار کرکے بھائی کو بھائی سے لڑانے کا اسکرپٹ لکھا جارہا ہے۔ دوسری طرف سابق ناظم کی جانب سے سیاسی پالیسی واضح نہ کرنے کے سبب کراچی کے عوام انکی سیاست سمجھنے سے قاصر ہیں․ فلحال کمال صاحب کی معاملہ فہمی سے ایسا معلوم دیتا ہے کہ وہ خود کو مہاجر سیاست سے الگ رکھنا چاہتے ہیں جبکہ اُنکی جانب سے ماضی میں کی جانے والی سیاست موجودہ سیاست کی عکاسی کرتی نظر نہیں آتی جسکے باعث اِس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ ان کی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہیں ایسی صورتحال میں کراچی کے عوام جو سیاسی شعور میں کسی سے پیچھے نہیں کیونکر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے شخص کو اپنا نجات دھندہ تسلیم کریں․ یہی وجہ ہے کہ جناب مصطفی کمال کو اپنی دھماکا خیز انٹری کے باوجود کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
ہم سید مصطفی کمال کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انکی ذہانت و کارکردگی کو سراہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے پچھلے کالم میں انھیں کراچی کی سیاست کو سمجھتے ہوئے ایک صائب مشورہ دیا تھا اگر وہ اِس مشورہ پر عمل کرلیں تو قوی امکان ہے کہ ان کی سیاست کا روشن باب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکتا نظر آئے․ ہم کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ مصطفی کمال کو اپنی سیاست کا آغاز اردو بولنے والوں کے اُن ایشوز سے کرنا چاہئیے تھا جو ایک عرصہ سے حل طلب ہیں اپنے ساتھ ایک ایسی ٹیم لاتے جو سنجیدہ بنیادوں پر مہاجروں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں محرومیوں کو دور کرنے میں اپنا مثبت کردار اداکرتی کراچی سے نئے چہروں اور نوجوانوں کو متعارف کراتے جیساکہ فکس اٹ مہم کے بانی عالمگیر ہیں اسی طرح سندھ کے بیشمار نوجوان جن کے دل سماجی خدمت کے جذبوں سے سرشار ہیں کو ساتھ ملاتے اپنی نئی پارٹی کی داغ بیل ڈالتے لیکن آپ نے بھی عمران خان کی طرح دوسروں کے باغات سے پکے ہوئے آم توڑنے کی کوشش کی اور اہلِ مکین کی نظروں میں مشکوک بن گئے خدارا اگر آپ کی ڈوریں کسی اور کے ہاتھ میں ہے تو اُن سے جان چھڑائیے اور مثبت ایشوز پر سیاست کیجئیے۔
آخر میں اِتنا ضرور کہنا چاہینگے کہ خوش فہمی میں مبتلا اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ آج سابق ناظم کے حق میں وال چاکنگ کرنے والے کوئی اور نہیں نامعلوم افراد ہی ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمران احمد راجپوت کے جمعہ مارچ کے مزید کالم