سلمان تاثیر ،ممتاز قادری،مُلّا اور میراثی

ہفتہ مارچ    |    خواجہ محمد کلیم

رسول خدا ﷺ کو رحمت اللعالمین کالقب کیوں عطا ہوا؟اس لئے کہ یہ وصف ان کے تمام اوصاف پر حاوی ہے ، اسی طرح جیسے خالق کا کرم اس کے قہر پر بھاری ہے ۔ایک مجلس میں اسلام کا نام لینے کا گناہ کر بیٹھا !سوال ہوا اسلام کو کیوں بیچ میں لاتے ہو،کہا اسلام کی جگہ انسانیت کر لیں !لیکن اسلام اور انسانیت میں کوئی فرق ہے تو مجھے سمجھا دیجئے!فرق کوئی ہوگا تو سمجھائے گا!خاکسار اس بات پر ہمیشہ سے نالاں رہا ہے کہ یہ قوم اعتدال کیوں روا نہیں رکھتی ۔
جواب ہمیشہ ایک ہی پایا کہ علم کی کمی اس کا سبب ہے۔علم !جس کے حصول کا حکم خالق نے سب سے پہلے اپنے محبوب کو دیااور پھر کتاب نے واضح کردیا کہ ”کیا علم والے اور بے علم برابر ہوسکتے ہیں“۔
بخدا مرحوم سلمان تاثیر رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کے مرتکب نہ تھے اور ممتاز قادری کو دہشت گرد قراردینا یا اس کے جنازے میں شرکت کو انتہا پسندی کی حمایت قراردینا بھی مناسب نہیں ہے۔

(خبر جاری ہے)

سزائے موت کے مخالفین کا اس پھانسی کے خلاف ایک لفظ نہ بولنا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ انسانی حقوق کا واویلاکرنے والوں کا اصل ہدف کچھ اور ہے ۔

آپ سلمان تاثیر کو شرابی کہیں یا عورتوں کا دلدادہ،اس کی سو خامیاں گنوائیں ،میں مان لوں گا لیکن جس جرم کے نام پر ان کا سینہ چھلنی ہوا وہ اس کے مرتکب نہ تھے اور اس کی وضاحت انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کردی تھی ۔سلمان تاثیر تو کیا ہم میں سے کوئی بھی چاہے وہ کتنا ہی گیا گزرا مسلمان ہو اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور غیر مسلم !دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ وہ یہ حماقت کیسے کر سکتے ہیں؟ہاں توہین رسالت کے قانون کوسلمان تاثیر نے کالا قانون ضرور قرارد یا ،خود سلمان تاثیر کی وضاحت کے مطابق اس لئے کہ اس قانون کی آڑ لے کر لوگ اپنی ذاتی دشمنی اور بدلے کی آگ ٹھنڈی کرتے ہیں۔
ذاتی طور پر میں نے آسیہ بی بی کے ساتھ بیٹھ کر ان کی پریس کانفرنس کی تب بھی مذمت کی تھی اورآج بھ اس کو ایک غیر قانونی فعل سمجھتا ہوں اور لیکن اس کو توہین رسالت قراردینا غلط ہے۔اورغلطی پر اصرار رحمت اللعالمین ﷺ کے پیروکاروں کو زیب نہیں ۔
اور رہا ممتاز قادری !تو وہ ایک سیدھا سادھا کلمہ گو مسلمان تھا جو جذبات کی رو میں بہہ کر یہ بھول گیا کہ اس کا فرض قانون کی حفاظت اور پاسدار ی ہے نہ کہ قانون کوہاتھ میں لے کر خود ہی فیصلہ صادر کردینا ۔
ایک نیم خواندہ بھولا بھالا انسان ، جو بھول گیا کہ اس کا مذہب اس سے اپنے فرض کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے۔اس سے تو چوک ہوئی لیکن اس مُلّا کا کیا !جس نے اس معاشرے کی رگوں سے رواداری اور برداشت کا خون نکال کر نفرت اور دشمنی کا زہر بھر دیا ہے ،اصل مجرم تو وہ ہے جو صاف بچ نکلا ہے۔ملک ممتاز عطاری قادری!بادی النظر میں مولانا الیاس قادری کا مرید یا دعوت اسلامی کا پیروکار معلوم ہوتا ہے۔کل ہی ایک دوست کے توسط سے مولانا الیاس قادری کی ایک ویڈیو دیکھی جس میں وہ اپنے مریدوں کو نصیحت کر رہے ہیں کہ مجرم چاہے جوتا چوری کا ہو یا توہین رسالت کا مرتکب ،آپ اس کو انگلی سے بھی نہیں مار سکتے ۔
آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اسے پکڑ کر قانون کے حوالے کردیں۔
اِ لّا یہ کہ بڑے بڑے مفتی اور علامہ اور جبہ پوش ،تمیز اور تہذیب کی ہر حد پھلانگ کر ایک وزیر کے ساتھ جو بہرحال احترام آدمیت کا حقدار ہے توہین آمیز اور ذلت پر مبنی رویہ اختیار کریں۔ اپنے تئیں تو آپ کے جوتے بھی مقدس ہیں لیکن اس سارے قصے میں وزیرموصوف کا کیا قصور؟۔اصل گھپلا یہاں ہے،جہاں مذہب کے نام پر سادہ لوح انسانوں کو بیوقوف بنایا جاتاہے۔
یہودی عالم رب کے نام پر ر بی بنا،عیسائی عالم نے خالق کو فادر کہا اور پھر خود ہی فادر بن بیٹھا اور مالک کو مولا بتانے والا مولانا ہوگیا۔خالق کی طرف تو مخلوق کو جانے ہی کوئی نہیں دیتا سب نے اپنی ہی ذات کے طواف پر لگا رکھا ہے۔امام احمد بن حنبل کا ایک بیان بہت تیزی سے پھیلایا جارہا ہے کہ ” ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ ہم میں حق پر کون ہے“۔شائد کسی جاہل مُلّانے اس موقع پر یہ دور کی پھبتی کسی ہے کیونکہ یہ فرمان امام نے حاکم شہر کے سامنے ارشاد فرمایا تھاجب حاکم نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا ۔
اس کو ایک عام اصول کے طور پر لاگو کرنا درست نہیں ۔ کسی کو اس اصول کی حقیقت جاننی ہے تو داماد رسول حضرت عثمان غنی سے لے کر حضرت امام موسیٰ کاظم رضا تک کی تاریخ پڑھ لے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے ۔ برصغیر کے وہ صوفیاء یاد آتے ہیں جن کو گذرے صدیا ں ہوئیں لیکن عظمت آج بھی ان کے مزارات کی امین ہے۔لاہور کے داتاخواجہ ہجویر،سطان الہند خواجہ معین الدین چشتی،خواجہ نظام الدین اولیا،حضرت بہاالدین زکریا،شاہ رکن عالم ،بابا تاج الدین نا گپوری اورحسن اُ خریٰ سید محمد عظیم برخیاجیسے قلندر،انسانیت سے محبت جن کا مذہب تھا اورآج بھی بلاتفریق مذہب و ملت انسانوں کے گروہ انہیں عقیدت کا خراج پیش کرتے ہیں۔

خبر یہ ہے کہ جہاد کے نام پر پاکستانی ماوٴ ں کے لخت جگر کابل اور قندھا رمیں چھلنی کرانے والی جماعت اسلامی کے امیر اب یہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ممتاز قادری کی فاتحہ پڑھی جائے۔اس لیے نہیں کہ انہیں ممتاز قادری سے محبت ہے اس لئے کہ اس سے بڑی خبر بنے گی اور بڑی خبر سے ووٹ ملنے کی توقع ہے اور ووٹ ہی انہیں ان کی بے وفا معشوقہ ”حکومت“ کے مکمل وصل کی لذتوں سے آشنا کراسکتا ہے۔
میرے نزدیک لبرل یا سیکولر ہونا کوئی جرم نہیں لیکن دوسروں پر اپنی رائے تھوپنا اور عدم برداشت کا مظاہر ہ کرناایک فتنے کے سوا کچھ نہیں ۔
ممتازقادری کمرہ امتحان میں اپنا وقت پورا کرچکا اس کی سزاپر بغلیں بجانے والے یہ مت بھولیں کہ ریاست کے قانون کے مطابق اس نے جو جرم کیا اس کی سزا پالی اور اس سزا کے بعد قانون قدرت کے تحت اس پر کچھ اور واجب نہیں ۔دنیا میں اپنا وقت پورا کر کے روح جب پرواز کر جاتی ہے تو دنیا کے ہرمذہب میں آخری رسومات معاشرتی فرض کا درجہ رکھتی ہیں۔ مالک کے ہاں کون مقبول ہے اس کا فیصلہ وہ ہی کر سکتا ہے۔ سلمان تاثیر اور ممتاز قادری اپناوقت مکمل کر چکے اب جس عدالت میں وہ موجود ہیں وہاں کسی مفتی،کسی علامہ ،کسی لبرل یا کسی سیکولر کی نہیں چلتی اور نہ ہی یہ عدالت اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے کسی دوسری طاقت کی محتاج ہے۔

باقی رہی حکومت !تو وہ اچھا کرے یا برا ،اس پر کوئی بھی راضی نہیں ،قانون پر عملدرآمد بہت اچھی روایت ہے لیکن حکومت کے ہی کچھ دوستوں کی رائے یہ بھی ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینے کی جلدی کیاتھی؟کیوں حکومت نے بم کو لا ت ماری ہے ؟قارئین مجھے حکومت کا تو پتہ نہیں لیکن مفتی حنیف قریشی جیسے مُلّاوٴں کے طرز عمل سے مجھے اپنا بچپن یاد آرہا ہے جب امی ابو ایک کہانی سنایا کرتے تھے معلوم نہیں کیوں مجھے یہ کہانی بار بار یادآرہی ہے۔
گاوٴں کا میراثی اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا گاوٴں کے چودھری کو گالیاں نکال رہا تھا ،اتفاق سے چودھر ی نے بھی سن لیا لیکن نظر انداز کر کے چل دیا۔رات کو چودھری کو خبر ملی کی میراثی اپنا بوریا بستر سمیٹ کر گاوٴں سے ہجرت کر رہا ہے ۔چودھری بھاگم بھاگ پہنچا اور میراثی سے ہجرت کی وجہ پوچھی ۔میراثی روہانسا منہ بناکر ہاتھ جوڑ کر بولا مائی باپ !میرے سے بڑا جرم سرزد ہوا اب آپ مجھے کیسے اس گاوٴں میں رہنے دیں گے میرا ہجرت کرجانا ہی بہتر ہے۔ چودھری سمجھدارآدمی تھا اس نے میراثی کا سامان واپس گھر میں رکھوایا اور اس کو ڈانتے ہوئے کہا !بیوقوف پہلے تو صرف تمہاری بیوی جاتنی تھی کہ تم نے مجھے گالی دی اب تم ساری دنیا کو بتاوٴ گے؟قارئین !اگر آپ کو اس کہانی کی سمجھ نہیں آئی تو میں معذرت چاہتا ہوں کہ آپ نے یہ کالم پڑھ کر اپنا وقت ضائع کیا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

سلمان تاثیر

خواجہ محمد کلیم کے جمعہ مارچ کے مزید کالم



متعلقہ کالم