بھولا ملک

ہفتہ مارچ    |    ندیم تابانی

ماشا ء اللہ خدا نظر بد سے بچائے کراچی کی قسمت جیسے جاگ سی گئی ہے ، ایک طرف سابق ناظم کراچی مصطفی کمال جذبہ خدمت لیے دبئی سے کراچی آن براجے ہیں، دوسری جناب اس شہر کی ”اصل وارث “ میڈم متحدہ قومی مومنٹ نے بھی شہر کی نوک پلک سنوارنے ، میک اپ کرنے اور اسے دلہن کی طرح سجانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور تازہ ترین یہ ہے کہ سندھ سرکار بھی میدان میں آگئی ہے۔چلیے ایک سے تین بھلے۔ کہاں تو شہر کے چپے چپے پر گٹروں کا کھڑاپانی اور لگے کچرے کے ڈھیرتھے اور کسی کے کان پر جوں رینگ رہی تھی نہ کسی کے ماتھ پر بل پڑ رہا تھا، نہ ہی کسی کے نتھنوں میں بو جا رہی تھی اونہ ہی کسی کی آنکھ کے پپوٹے کچر ا دیکھ دیکھ کر سوجے تھے۔
یکا یک رنگ بدلتا نظر آرہا ہے۔
####
سابق صدراسلامی جمہوری پاکستان مسٹر آصف علی زرداری کہتے ہیں:”اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات فوج کے خلاف ہر گز نہیں تھی وہ تو دائیں بازو اور دہشت گردوں کے خلاف تھی ۔

(خبر جاری ہے)

“ بے چارے پی پی والے سر پیٹ رہے ہیں۔ یہ تو وہی معاملہ ہوا جس کی نشان دہی گزشتہ دنوں مصطفی کمال نے کی کہ الطاف بھائی رات کو تقریر میں کہتے تھے کہ ”فلاں کو ٹھوک دو“ صبح رابطہ کمیٹی لغات میں ٹھوکنے کے لفظی ،اصطلاحی اور عرفی معانی ڈھونڈ کے تقریر میں فرمائے گئے جملے کی وضاحت اور تشریح کرتی تھی۔

اب پی پی کے ارکان بھی انسائیکلو پیڈیا کھولیں گے اور دیکھیں گے دائیں بازو کی جماعتوں اور دہشت گردوں کاجنرل کون تھا؟ جس کی مدت تین سال تھی۔ جس کو للکارنے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔
####
سابق وزیر داخلہ مسٹر ملک کہتے ہیں ان کا الطاف حسین سے کوئی رابطہ نہیں ہے، موصوف کی یہ بھی فرمائش ہے کہ را کے ایجنٹوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ،مسٹر ملک نے یہ پیشکش بھی کی ہے ان پر لگے الزامات کی صاف شفاف تحقیق کے لیے حکومت کمیشن بنائے ،وہ پیش ہوں گے،تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے ۔
مسٹرملک! آپ کا نام بھولا ملک ہونا چاہیے ،واقعی آپ نے بڑی معصومیت اور سادگی کے ساتھ بڑے بڑے کام دکھائے ، مسٹر زرداری کے انتخاب کی داد نہ دینا اس صدی کی سب سے بڑی زیادتی ہوگی ،آپ جیسے تین اور بھولے انہیں مل جاتے تو نہ جانے آج پاکستان کہاں ہوتا، آپ کے کارناموں کی چار دانگ عالم میں یوں ہی تو دھوم نہیں، آپ پر الزام لگانا اور الزام کی تحقیق کے لیے کمیشن بنانا کافی زیادہ بے وقوفانہ عمل ہو گا، یہ تو ایسی ہی بات ہوگی جیسے کوئی یہ کہے پی پی کے دور میں وزیر داخلہ کون تھایہ جاننے کے لیے عدالتی کمیشن بنایا جائے۔

####
متحدہ لندن کمیٹی کے مطابق :”الطاف حسین کو کوئی بیماری نہیں بالکل صحت مند ہیں، اپریل میں ہونے والے قومی اورصوبائی نشستوں کے انتخاب کی قیادت بھی کر رہے ہیں، خطاب بھی کیا۔“ یار لوگوں نے گزشتہ روز افواہیں اڑائی تھیں کوئی کہہ رہا تھا: بھائی گزر گئے ہیں ، کسی کی اطلاع تھی بھائی چل بسے ہیں ، کسی کے مطابق بس چلنے ہی والے ہیں ، لبوں پہ دم ہے ۔ لندن کمیٹی کا شکریہ افواہوں کی تردید کردی ،لندن کمیٹی نے ان لوگوں کے خیال کی بھی تصدیق کی جن کا خیال تھابھائی اتنی جلدی دنیا نہیں چھوڑ سکتے ،یا انہیں نہیں چھوڑنا چاہیے، انہیں کھائے پیے اور لیے دیے کا حساب دے کر جانا چاہیے۔
اس درجے کے لوگوں کوایسے نہیں جانا چاہیے۔
####
چیر مین نیب نے شریف برادران سے متعلق تمام کیسوں کی فائلیں منگوالی ہیں، میاں جی حضرات کے مخالفین کے منہ میں پانی آگیا ہے ، خیال کیا جا رہا ہے ، بڑی گردنیں پھنسیں گی ، میاں حضرات شکنجے میں آئیں گے ۔ اس کو خوش فہمی کا نام دیا جائے یا غلط فہمی سمجھا جائے ، یہ خیال رہے چند ہفتے کی چھان پھٹک کے بعد نیب سربراہ میاں برادران کے ہاتھ اور دامن صاف ستھرے قرار دے سکتے ہیں۔
ایسا ہو گیا تو بے چارے بغلیں بجانے والوں پہ کیا گزرے گی ،وہ اس کے سوا کیا کہیں گے کہ میاں نے نیب سربراہ کو بھی خرید لیا ہے ۔
####
کچھ ذرائع دعوی کر رہے ہیں کہ پاکستان کے حاضرسروس سب سے بڑے جنرل بڑی اسکرین پر آنے والے ہیں، فرمائشیں کی جا رہی ہیں ، بڑے جنرل کو بڑا فیصلہ کرناہے کہ وہ بڑی اسکرین پر آئے یا نہ !آج بڑی اسکرین پر آنے کی فرمائش کل کسی فہمائش اور اس کے بعد گرمائش کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم تابانی کے جمعہ مارچ کے مزید کالم