محکمہ ہیومن رائٹس کمیشن کی خاتون شکنی! ذمہ دار کون؟

ہفتہ مارچ    |    حافظ ذوہیب طیب

8مارچ کو پوری دنیا کی طرح ہمارے ہاں بھی عورتوں کا عالمی دن منایا گیا اور جس کے لئے ملک کے پنچ ستارہ ہوٹلوں کے یخ بستہ کمروں میں بیٹھ کر ڈالر زو پونڈ زدہ لوگوں نے اپنے اپنے آقاؤں کو خوش کر نے اور بینک کھاتوں کو بھر نے کی خاطر ایک خاص ایجنڈے کے تحت کاروائی کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جنگ کا غازی بنتے ہوئے صرف ایک دن خواتین کے مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہانے کا ڈرامہ رچایا ہے ۔

خواتین کا عالمی دن منانے والے ان جیسے جعلی اور بے غیرت لوگوں کے حوالے سے ابھی کل ہی کسی نے وٹس ایپ کے ذریعے بہت خوبصورت پیغام بھیجا ہے جو آپ کے ساتھ بھی شئیر کر رہا ہوں ۔”اس عورت کو بھی یاد رکھنا جس نے خروٹ آباد میں مرتے ہوئے انصاف مانگنے کے لئے آسمان کی طرف آخری بار انگلی اٹھائی۔

(خبر جاری ہے)

اور اس شمائلہ کو بھی یاد رکھنا جس نے ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں اپنے شوہر فہیم کی موت پر انصاف مانگتے مانگتے خود موت کو اپنے گلے لگا لیا۔

اور وقت ملے تو عافیہ صدیقی کی آخری پیشی کی کہانی بھی پڑھنا، کہ اُس نے امریکی عدالت میں آخری الفاظ کیا کہے؟جن کے بعد وہ بار با ر بلانے پر بھی نہ بولی۔اور ہاں! ان ماؤں کو بھی یاد کر لینا جو ایک دہائی تک اپنے بچوں کو ڈرون کی آوازوں والے آسمان کے نیچے سلاتی تھیں تو ان کے دل کیسے کانپتے تھے۔اور ان ماؤں کو بھی جنہوں نے جیٹ طیاروں کی بمباری کے بعد اپنے جگر کے لعلوں کے ٹکڑوں پر وہ بین کیا تھا جس کی آواز وزیرستان سے باہر نہیں سنی گئی۔
اس ماں کو بھی یاد رکھنا جس کے گمشدہ بیٹے سالوں بعد عدالت میں اس حالت میں پیش ہوتے ہیں کہ کئی عرصے اپنے بچوں کی بازیابی کی جنگ لڑنے والی ان پڑھ لیکن بہادر ماں،دل ہار کراُس دن قبر میں جا پڑی“ ۔کتنا کچھ ہے لکھنے کو۔۔۔لیکن بے حس معاشرے میں لفظ بھی بے معنی ہوجا تے ہیں ۔
قارئین ! چھوڑیں اس فضول بحث میں کیا پڑا ہے ۔ آخر یہ کونسے انسان ہیں جو ہم ان کی بات کریں ۔ یہ تو دہشت گرد ہیں ۔ ڈرون، امریکی جیٹ طیاروں اور اپنوں کی بے حسی سے مر نا تو ان کے نصیب میں ہے ۔
میں واپس اپنے موضو ع پر آتا ہوں کہ اس دفعہ یوم خواتین کو حکومتی سطح پر بھی کا فی پذیرائی ملی جس کامنہ بولتا ثبوت وزیر اعظم اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب کے بلند و بالا دعوے تھے جس کا انہوں نے اپنے خطاب میں بھی اظہار فر مایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت نے خواتین کو با اختیار بنا نے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے انقلابی نوعیت کے اقدا مات کئے ہیں۔
قارئین محترم !میں ایک طرف تو وزیر اعلیٰ پنجاب کی یہ تقریر سن رہا تھا جبکہ دوسری جانب اسلا م آبادمیں ہیومن رائٹس کمیشن کے زیر اہتما م چلنے والے ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین کا خط نما نوحہ پڑھ رہا تھا اوراس سوال کاجواب تلاش کر رہا تھا کہ آخر کون سچا ہے؟ اس خط کے کچھ پوائنٹس اپنے قارئین کی نظر بھی کر رہاہوں کہ شاید آپ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں میری کچھ مدد کر سکیں۔

ورکنگ ویمن ہاسٹل7-1 G/ جس کانام تبدیل کر کے اب فیڈل ورکنگ وویمن ہاسٹل رکھ دیا گیا ہے جو 48کمروں پر مشتمل ہے جس میں ہر کمرہ قانون کے مطابق صرف ایک خاتون کو الاٹ کیا جانا تھا لیکن اب اس میں تقریباََ 80خواتین جو مختلف سر کاری، نیم سرکاری اور این۔ جی ۔او وغیرہ میں کام کرتی ہیں رہائش پذیر ہیں ۔ عدم توجہ کی بنا ء پر بلڈنگ کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے او ر مر مت اور بحالی سے مکمل چشم پو شی کی جارہی ہے۔
جبکہ 2007سے ہاسٹل انتظامیہ کا رویہ ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین کے ساتھ انتہائی بے رحم اور ہتک آمیز ہو چکا ہے ۔ خواتین کی حفاظت اور انہیں بہتر سہولیات پہنچانے کی بجائے انتظامیہ انتقامی کاروائیوں میں مصروف عمل ہے
ہاسٹل انتظامیہ نے صرف ایک کام کا بیڑہ اٹھا یاہوا ہے ۔ ہر کچھ ماہ بعد یہاں رہائش پذیر خواتین کو دھمکی آمیز خطوط ارسال کر دئیے جاتے ہیں جس میں بجلی و گیس کے انتہائی نا منا سب بلوں کے ساتھ کرایوں میں 500گنا اضافہ کیا جا چکا ہے ۔
ہاسٹل کے کمروں میں کئی گنا اضافے کے ساتھ بجلی کا بل 1500روپے فی کس جبکہ سوئی گیس کا بل بھی 1500روپے فی کس وصول کیا جا تا ہے یعنی ایک کمرے سے 6000روپے کی ”ٹھگی “ لگائی جا رہی ہے ۔ A.Cچار جز کی مد میں6000روپے علیحدہ سے وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سردیوں میں گیس کی بندش کا یہ حال تھا کہ یہ خواتین ٹھنڈے چولہے کو دیکھ دیکھ کر اکتا گئی تھیں ۔ یاد رہے یہاں رہائش پذیر خواتین کی اکثریت نچلے گریڈز اور15000سے 20000تنخواہ لینے والوں پر مشتمل ہے ۔
ایسے حالات میں وہ کرایہ اور بلوں کی مد میں18000روپے ماہانہ ہاسٹل انتظامیہ کو کیسے ادا ء کر سکتی ہیں؟
قارئین ! ہیومن رائٹس کمیشن اور اسٹبلشمنٹ ڈویژن کے تحت چلنے والے ہاسٹل میں رہائش پذیر یہ خواتین اپنے حقوق کی خاطروزیر اعلیٰ پنجاب کے ماتحت افسران کے دفتروں کا طواف کرتے کرتے تھک گئی ہیں لیکن کوئی ان کا پر سان حال نہیں ۔کیا ہی اچھا ہو کہ حقوق نسواں پر بل پاس کر نے والی اسمبلی کے ارکان، یہاں کے وزیر اعلیٰ اور ان کے بڑے بھائی اپنی ماتحت ،طاقت کے نشے میں مست ،بیورو کریسی کی طرف سے خواتین کو تضحیک اور ذلت کا نشانہ بنا نے پر ایکشن لیتے حقیقی معنوں میں عورت کو با وقار و با اختیار بنا نے کی کوشش کرتے ہوئے پہلی ہی فرصت میں گھروں سے کوسوں دور ،اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کی سعی میں مصروف ورکنگ وویمن ہاسٹل میں رہائش پذیر خواتین کے حقوق پامال کر نے والے ذمہ داران کو قرار واقعی سزادیں اور یہاں کی انتظامیہ کو پابند کریں گے کہ فی الفور فی کمرہ ماہانہ کرایہ کی رقم میں کمی کرتے ہوئے بلوں کی مد میں بھی جائز وصول کی جائے اور اگر اسٹبلشمنٹ ڈویژن اپنی ذمہ داریاں پوری کر نے سے قاصر ہے تو یہ ہاسٹل گورنمنٹ کے کسی اور محکمے کے سپرد کر دیا جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com