آداب سے عاری سماج!

ہفتہ مارچ    |    انجینئر عثمان حیدر

زمین پر موجود تمام مخلوقات اپنی نسل کے اعتبارسے اپنا اپنا سماج تشکیل دیتی ہیں۔ اور پھرنقل و حرکت سے لے کر جسمانی نشو نما کیلے خوراک کے حصول تک کے تمام امور اسی قدرتی سماج کے اندر رہتے ہوئے انجام دیے جاتے ہیں۔ انسان بھی اپنے رہن سہن کیلئے ایک سماج کی تشکیل کا محتاج ہے۔ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ سماج بھی خطوں اور ممالک کی بنیاد پر تقسیم ہو چکا ہے۔ پاکستانی سماج بھی ان میں سے ایک ہے۔
دنیا کے باقی سماجوں کی حالت اپنی جگہ لیکن پاکستانی سماج کی شکل کچھ عجیب انفرادیت کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔ چونکہ سماج کی تشکیل کی اکائی فرد ہے تواس کا حسن جمالیاتی بنیادوں کی بجائے انفرادی رویوں کی خوبصورتی میں پنہاں ہوتا ہے۔ اگر افراد کاا نفرادی رویہ احسن اقدار پر استوار ہو تو سماج کسی جنت سے کم نہیں اور اگر یہی افراد بے ڈھنگے اور اجڈ پن کے ”پیکرِ جسیم“ ہوں تو جہنم کی اذیت بھی اس سماج کے سامنے حقیر محسوس ہونے لگتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

جب سماج کے ارکان اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریوں کی پرواہ کرنا چھوڑ دیں اور ہر شخص اپنے معاشرتی معمولات کو محض اپنی آسانی کی بنیادپر ترتیب دینے لگے تو معاشرے میں ایک اکتاہٹ اوربے ترتیبی جنم لیتی ہے جس میں اصول پرست انسانوں کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔بزرگوں کی بیان کردہ روایات کے مطابق ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب اس خطہ ِ ارضی پرلوگوں میں بھائی چارہ ، اپنائیت، خدمتِ خلق اور سماجی تعاون اپنی مثال آپ تھا۔
لیکن آج صورتحال یکسر بدل رہی ہے۔ حالانکہ آج ہمارے معاشرے کی معیشیت ، خواندگی، رہن سہن، سہولیات، انفراسٹرکچر اور ذرائع ابلاغ پہلے کی نسبت کئی سو گنا بہتر ہو چکے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار روز بروز گرتی چلی جا رہی ہیں۔
تعلیمی اور معاشی ترقی کے باوجود ہماری معاشرتی عادات من ہیث القوم بگڑتی چلی جا رہی ہیں۔ گلی محلے کی صورتحال ہو یا شہر اور بازار کے معاملات ہر جگہ بس اپنی ذاتی سہولت اور فائدے کو مقدم رکھا جا رہا ہے۔
لوگ اپنے کسی بھی فعل پر یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے کہ اس سے دوسروں پر کیا اثر پڑ رہا ہے! درج ذیل چھوٹی چھوٹی مثالوں سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ آج ہمارا سماج کس حالت میں ہے۔ (۱) اگر میں کسی پھل فروش کی ریڑھی سے ایک کلو سیب خریدنے کیلئے رکا ہوں تو میری کوشش ہو گی کہ پچاس روپے کلو کی بجائے کسی طرح تیس روپے میں پورا کلو ہاتھ لگ جائے۔ دوسری طرف ریڑھی والے کی حالت یہ ہے کہ وہ منہ مانگی قیمت وصول کرکے بھی آنکھ بچا کر شاپر میں دو چار گلے سڑے ہوئے دانے ڈال ہی دیتا ہے۔
(۲) اگر کسی صاحب کا جانور مر جائے تو بجائے اِس کے کہ آبادی سے دور کسی مناسب جگہ پر اس کی باقیات کو مناسب طریقے سے تلف یا دفن کر دے ، وہ صاحب اپنے گھر سے کوسوں دور جا کر کسی بڑی سڑک سے محض بیس فٹ کی دوری پر پھینک کر چل دیتا ہے۔ جس کے بعد کئی ہفتوں تک سڑک پر سے گزرنے والے افراد اس کی بدبو سے ”معطر‘ ‘ ہوتے رہتے ہیں۔ ا س دوران متعلقہ حکومتی محکمے کے اہلکار تو اس سڑک سے گزرنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
(۳) اگر کسی علاقے میں نئی سڑک بن جائے تو اس سڑک کے کنارے آباد تقریباََ ہر خاندان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے گھر کے سامنے ایک عدد جمپ شریف(سپیڈ بریکر) کا افتتاح لازمی کر دے۔ دوسری طر ف اگر جمپ نہ ہو تو اس سڑک کو استعمال کرنے والے حضرات کی بھی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کسی صورت بھی نیچے نہیں جانا۔ گویا یہ حضرات بھی جمپ کے آگے ہی سیدھے ہیں۔ (۴) چلتی بس میں سگریٹ پینا ، بیچ سڑک کے پان تھوکنا،پبلک پارک میں سپیکر کی فل آواز پر گانے سننا، شاپنگ سینٹر میں اپنے دوستوں کو با آوازِ بلند گالیاں دینا اور تنگ سڑکوں پر 120 کی رفتار سے بائیک دوڑانا تو گویااب ایک عام سی بات ہے ۔

کہتے ہیں کے تعلیم انسان کو شعور اور اخلاقیات سکھاتی ہے۔ لیکن یہ بات اب بے وزن معلوم ہوتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی چندعادات عمومی معاشرے کی ہیں جن میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔ پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور طلباء پر غور کریں تو حالات مزید بھیانک نظر آتے ہیں۔ اس طبقے کی حالت یہ ہے کہ عام معاشرتی اصولوں کی پامالی تو ان کے نزدیک فیشن کا درجہ رکھتی ہے۔اگر راہ چلتے کبھی آپ دیکھیں کہ کالج جاتی لڑکیوں کے رکشے کے پیچھے دو نوجوان موٹر سائیکل سوار مستقل مزاجی سے لگے ہوئے ہیں تو ایک بار ان کا تعارف ضرور پوچھ لیجئے گا ، دونوں بڑے فخر سے اپنے کالج اور یونیورسٹی کا نام بتادیں گے۔
اگر کالج یا یونیورسٹی کے چار اسٹوڈنٹس اکٹھے کسی سڑک پر چہل قدمی شروع کر دیں تو آدھی سے زیادہ سڑک کَورکر کے چلنا اپنے لیے باعثِ تکریم سمجھتے ہیں۔ اور اگر آپ راستہ لینے کی خاطر ہارن تھوڑا تیز بجائیں گے تو ان کے” متفقہ تیو ر“ آپ کو سبق سکھانے کیلئے ہر دم تیار نظر آئیں گے۔ اور اگر آپ نے ان کے سامنے ڈٹ جانے کی کوشش کی تو نوبت طلبا یونین کے پر تشدد احتجاج تک بھی جا سکتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم اور اعلیٰ اقدار کے آپسی تعلق کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جس شہر میں کوئی نیا کالج یا نئی یونیورسٹی قائم ہوتی ہے اس شہر میں اسٹریٹ کرائم کی شرح پہلے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
اگر یقین نہ آئے تو ان شہروں کے متعلقہ تھانوں کا ریکارڈ چیک کر لیجئے۔ ۔۔سرکاری اداروں کی تو بات ہی الگ ہے اب کسی نجی بینک میں بھی اگر آپ قطار میں لگ کر ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں تو بس قطار ہی آپ کا مقدر بن جاتی ہے، کیشئر یا کسی اور بینکر کے ذاتی تعلقات اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ قطار والے بس دل ہی دل میں کڑھتے رہ جاتے ہیں۔
الغرض انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کے ہم بحیثیتِ معاشرہ اعلیٰ سماجی اقدار سے دن بہ دن دور ہوتے جا رہے ہیں۔
ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ ہم وقت کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی برائیوں کے خاتمے اور بہتر معاشرتی اقدارکی ترویج کی طرف جاتے لیکن افسوس کے ہم اس کے برعکس چلتے نظر آتے ہیں۔ اس کے ذمہ دار نہ تو یہود و ہنود ہیں اور نہ ہی کوئی بیرونی طاقت۔ بلکہ اس سماجی بگاڑ کے ذمہ دار میں ، آپ اور ہمارا معاشرتی کردار ہے ۔اپنے اوراپنی آنے والی نسلوں کے سماجی و اخلاقی رویوں میں بہتری لائے بغیر ہم اپنے سماج کو خوبصورت اقدار سے مزین نہیں کر سکتے۔
اور یہ بہتری لانے کیلئے گراس روٹ لیول پر از سرِ نو محنت درکار ہو گی۔ جس میں سب سے پہلا کردار بچو ں کی گھریلو اخلاقی تربیت ہے جو وہ ان کے والدین کی ذمہ داری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق انسان کے کردار کی بیشتر تشکیل چار سے آٹھ سال کی عمر کے درمیان ہوجایا کرتی ہے۔لہٰذا گھر کی تربیت کے بعد سکول کی سطح پر اخلاقی تربیت کے مربوط نظام سے بچوں میں اعلیٰ سماجی اور اخلاقی اقدار پروان چڑھائی جا سکتی ہیں۔
چونکہ میٹرک لیول کے بعد بچے کی عادات پختہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں توکالج اور یونیورسٹی کی نسبت سکول کی تربیت اس تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔تربیت کے حوالے سے ہمارے پاس اسلام جیسا عظیم نظام پہلے سے موجود ہے جو ہر مقام پر ہماری وضح راہنمائی کیلئے دستیاب ہے۔ لیکن شاید ہم نے اسلام کو محض دم درود کیلئے ہی مختص کر رکھا ہے۔ ویسے تو حکومتوں سے توقع رکھنا خام خیالی ہی ہے لیکن اس ضمن میں حکومت ِ وقت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سماجی ، معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزیوں پر بھی جامع احتساب کو یقینی بنائے۔
انفرادی طور پر مجھ سمیت ہم سب کو ایک بات اپنے پلو سے باند ھ لینی چاہئے کہ ہمارا ہر وہ فعل جو دوسروں کیلئے جسمانی و ذہنی پریشانی، تکلیف یااذیت کا باعث بنے ایک اخلاقی جرم ہے۔ اوراگر ہم نے اس جرم سے اجتناب شروع کر دیا توامید ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستانی سماج کو” آداب سے عاری سماج“ لکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

انجینئر عثمان حیدر کے ہفتہ مارچ کے مزید کالم