تعلیم، سکول اور حکومت

پیر مارچ    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

ہم سب کو اکثر کئی ایسی تقریبات میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے جہاں ہمارے ملک کے وہ مسائل جنہیں ہمیں خود حل کرنا چاہیے پرآگاہی فراہم کرنے کے لئے سیمینار ،ورکشاپ کے زریعے ہمارئے میڈیا ، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کو اعداو شمار کے زریعے بتایا جاتا ہے کہ ہم کن مسائل کا شکار اور ان کا حل کیا ہے۔صفائی سے لیکر ٹریفک قوانیں کی پابندی ،انسانی حقوق کی پاسداری اور تعلیمی اداروں میں کون سی سہولیات کم ہیں بچوں کو کس طرح کا ماحول فراہم کیا جانا چاہیے تا کہ بچے سکولوں سے نہ بھاگیں بھی ہمیں بین الاقوامی غیر سرکاری ادارئے بتاتے ہیں لیکن آفرین ہے ہم پر کہ ہم کوئی کام کی بات سیکھ کر اس پر عمل کریں۔
بچے ہمارئے ،مسائل ہمارئے اور جو ان کی بہتری اور مسائل کو حل کرنے میں ہماری مدد و معاونت کرئے وہ ہمارا دشمن۔

(خبر جاری ہے)

ہماری حکومتوں کا حال بھی عوام جیسا ہی ہے نہ وہ خود کچھ کرتی ہیں اور نہ عوام کو راستہ دکھاتی ہیں ۔یہ بین الاقوامی سچائی ہے کہ تعلیم اور علم کی کمی جہالت کی پرورش کرتی ہے جس کی وجہ سے ہزار طرح کی برائیاں جنم لیتی ہیں صحت کے مسائل پیدا اور معاشرے ڈائریکش لیس ہوتے ہیں۔
تعلیم کی کمی کے حوالے سے ہماری کار کردگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تعلیم کے شعبے کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔

سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی رپورٹیں یہ بتاتی ہیں کہ پاکستان میں اڑھائی کروٹ بچے تعلیم سے محروم ہیں ہمارا آئین حکومت کو اس بات کی پابند بناتا ہے کہ اپنے ملک کے بچوں کی مفت اور لازمی تعلیم کابندو بست لازمی کرنے کے ساتھ انہیں سازگار ماحول اور جملہ سہولیات فراہم کرئے ۔ہمارئے پاس اس بات کے کوئی اعدداد و شمار نہیں ہیں کہ ہمارے بچے سکولوں سے کیوں بھاگتے ہیں۔
ہمارئے مسائل کی بنیادی وجہ ہی مفت، سستی اورمعیاری تعلیم کا نہ ہونا ہے۔
ہمارا معاشرہ میں جو ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اور انتشار تقسیم اور عدم رواداری اور تحمل سے دور ہو رہا ہے اور جہالت کو فروغ مل رہا ہے اس کی بھی بنیادی وجہ میعاری تعلیم کا نہ ہونا ہے ۔تعلیم کو عام تو کیا کرنا تھا غریب بچوں تک پہنچ سکے اس کے لئے بھی کوئی مثبت کوششیں ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ تعلیم کے فروغ اور ہر بچے کی پہنچ تک پہنچانے کے لئے کی جانے والی کوششوں میں غیر سرکاری تنظیموں، اداروں اور افراد کا بڑا ہاتھ ہے جو اپنے سرمائے اور وسائل سے پاکستان کے ہر بچے تک تعلیم پہنچانا چاہتے ہیں ۔
گزشتہ دنوں لاہور میں پلان انٹرنیشل نے تعلیمی شعور اجاگر کرنے کے لئے لاہور پریس کلب سے ”پانچ سے سولہ سال تک بچوں“ کو مفت تعلیم کے حوالے سے رکشہ ریلی کے زریعے آگاہی مہم کا افتتاح کیا اس موقع پر اس تنظیم کے نمائندوں سارہ اکمل اور عرفان شاہ نے کہا آئین کے مطابق مفت تعلیم ہر بچے کا حق ہے جس کے لئے حکومت کو اپنی کوششیں تیز کرنی چاہیں تا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے جبکہ پلان انٹر نیشنل ملک بھر میں تعلیم کے شعبے میں مختلف سیمینارز ،ورکشاپس کے زریعے شعور اورآگاہی کے فروغ کے لئے کام کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ہے جس کی کوششوں کو حکومت بھی سراہتی ہے اس کے کنٹری ڈائریکٹر رشید جاوید کی ذاتی کوششوں سے پاکستان بھر میں تعلیم صرف حق نہیں عمل بھی“ کا پیغام گلی گلی محلے پہنچ رہا ہے ،تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے والے قابل تعریف ہیں۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے والی اس طرح کی تنظیموں کو آسانیاں پیدا کر نے کے ساتھ حوصلہ افزائی بھی کرئے تا کہ پاکستانی بچوں کو زیادہ سے زیادہ علم کی روشنی مہیا ہو سکے۔
یہ افسوس ناک امر ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں دنیا بھر کے ممالک سے کوسوں پیچھے ہیں ہمارے ہاں دستخط کرنے والے کو بھی خواندہ گردانا جاتا ہے جبکہ میعاری تعلیم کا تو تصور ہی محال ۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پاکستان میں تعلیم کی صورتِ حال پر ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سے سولہ سال کے ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری سکولوں کے خراب معیار استائذہ کی غیر حاضری ، سخت روئیوں ،اور دیگر سہولیات کی کمی کی وجہ سے پہلی جماعت کے نصف سے زیادہ بچے یا تو سکول جانا چھوڑ دیتے ہیں یا پرائیوٹ سکول منتقل ہو جاتے ہیں اس صورت حال کا حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہیے دیہاتوں میں تو صورت حال اور بھی خراب ہے ۔
والدین بچوں کو بہت محنت سے راضی کر کے سکولوں میں داخل کرواتے ہیں لیکن سرکاری سکولوں کا ماحول دوستانہ نہ ہونے کی بناپر بچے جلد ہی اکتا جاتے ہیں اس ضمن میں ریاست اپنی زمہ داری پوری نہیں کرتی۔
سرکاری سکولوں میں عملہ نہیں ہوتا، پینے کا صاف پانی اور نہ واش روم۔ ”جب والدین اور بچوں کو اچھا ماحول نہیں میسر ہو گا تو وہ کیوں اپنے بچوں کو سکول بھیجیں گے۔پنجاب حکومت کی جانب سے ”فری اینڈ کمپلسری ایکٹ“ پر من و عن عملدرامد سے صورت حال میں کافی بہتری آسکتی ہے۔
سکولوں سے بچوں کیوں بھاگتے ہیں حکومت کو ان وجوہات کا کھوج لگا کر ان کا خاتمہ کرنا چاہیے جبکہ سرکاری و پراوئیٹ تعلیمی اداروں میں ٹیچرز کے روئیوں اور ان کے پڑھانے کے طریقہ تعلم کو بھی مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک اچھا استاد ہی بچے کی بہترین تربیت کے ساتھ اس کی مثبت زہن سازی کر سکتا ہے ۔
اس کے ساتھ ہی حکومت کو جدید دنیا کے تعلیمی نظام اور طریقہ کار سے استفادہ کرنا چاہیے تا کہ بچوں کو جاذب نظر اور دوستانہ ماحول میسر آسکے اور وہ سکولوں سے بھاگنے کو ترجیح نہ دیں
یہ سچ ہے کہ جب تک ہم اپنے بچوں کو بہتر ماحول فراہم نہیں کریں گے ان کی تعلیم میں دلچسپی پیدا نہیں ہو سکے گی اس کے لئے ایک طرف حکومت کو کردار ادا کرنا ہے کیونکہ ملکی بچوں کو جملہ سہو لیات صرف حکومت ہی فراہم کر سکتی ہے جس کے لئے ایک طرف حکومت کو تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرنا چاہیے تو دوسری طرف موجودہ قوانین کے نفاذ اور ان پر عمل درامد پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے دوسری جانب والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کوسکولوں میں داخل کروائیں تا ایک بہتر پڑھے لکھے پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکے کیونکہ تعلیم کے بغیر قومیں اندھی بہری اورگونگی ہوتی ہیں جن کی کوئی پہچان اور آوازکہیں نہیں ہوتی، دنیا میں آبرو مند زندگی گزارنے، ترقی یافتہ اور خوشحالی کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

تعلیم

ڈاکٹر اویس فاروقی کے پیر مارچ کے مزید کالم



متعلقہ کالم