سیاست ضرور کریں ۔۔۔۔ مگر!!!!

پیر مارچ    |    حافظ مزمل رحمان

ہر کام کو اس حد تک بیگاڑ لینا کہ سدھار کی کوئی صورت نہ ہو یہ شاید ہمارا قومی وطیرہ بن چکا ہے ۔ اور پھر جب ملک میں کسی بڑے بحران کا شور سننے کو ملتا ہے تو اس پر سیاست شروع کرنا بھی ہمارا قومی فریضہ ہے ۔ ویسے تو سیاست کرنا بری بات نہیں ہے مگر صرف اس سوچ کے ساتھ کہ "ہم نہ مانے ہار" یا دوسرے کی مخالفت میں ہی سب کچھ کہنا ہماری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے ۔ یہ سراسر غلط بھی ہے اور خطر ناک بھی ۔
کالا باغ ڈیم کا منصوبہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور یہ ہمارے انہی مسائل کی وجہ سے آج تک ملتوی ہے ۔ جب موٹر وے تعمیر ہونے لگی تھی تو اس پر بھی بہت سی باتیں ہوئی تھیں مگر آج سب اسی سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ میٹرو کا آغاز ہوا تو سب نے بے دریغ تنقید کرنے کی ذمہ داری اپنے اپنے سر لے لی ۔

(خبر جاری ہے)

لیکن اب پشاور والے بھی خواہشمند ہیں اور کراچی والے بھی ۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے پر بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور وہ لوگ بھی تنقید میں پیش پیش ہیں جنہیں اس کے روٹ کا پتہ بھی نہیں ہے۔

اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بننے لگا تو اپوزیشن خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی اب اس پر کام شروع ہوا تو احتجاج بھی کیا جارہا ہے اور عدالتوں کے دروازے بھی کھٹکھٹائے جا رہے ہیں۔ شاید اورنج لائن ٹرین سے اتنا نقصان نہ ہو جتنا کہ اس مرحلے پر اس کو روک کر گرانے پر ہو ۔ لیکن عوام کی کس کو فکر ہے ۔ سیاست کرنا بھی تو مجبوری ہے صاحب! اور اب باری ہے PIAکی ! جی ہاں ایسی ائیر لائن جو پوری دنیا میں پاکستان کے پرچم کو لے کر اڑتی ہے جس نے مختلف ائیر لائن کی تربیت بھی کی آج ایسا وقت ہے کہ خود کو بھی بچانا مشکل دکھائی دے رہا ہے ۔
دنیا کے لیے مقامِ حیرت ہو گا کہ ایٹمی طاقت کہلانے والا یہ ملک تو اپنا جہاز بھی نہ رکھ پائے جبکہ یہاں کے لیڈروں کے پاس خود کے ذاتی جہاز ہیں۔ حکومت کے کہنے کے مطابق PIAانتہائی خسارے میں ہے بلکہ اب تو سُننے میں آرہا ہے کہ PIAکے ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے کروڑوں کا نقصان ہوا ہے اور حکومت کے ہی اعداد و شمار کے مطابق جب نارمل حالات میں PIAورکنگ میں ہو تو اربوں کا نقصان ہوتا ہے اب کروڑوں بچائیں یا اربوں یہ تو حکومت کو ہی طے کرنا ہے ۔
مگر حکومت نے اب اس کو بچانے کی ٹھان لی ہے اور اس کا حل نجکاری کی صورت میں متعین کیا ہے ۔ اب اس نقصان کے خلاف جہاد کرنے کا وقت آگیا ہے اور اس لشکر کا امیر محمد زبیر صاحب کو بنایا گیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کو خواب ِ خرگوش سے جاگ اس وقت ہی کیوں آتی ہے جب پانی سر سے گزر جاتا ہے ؟ کیا PIAراتوں رات خسارے میں چلی گئی؟ کیا اچانک سے نقصان لاکھوں سے اربوں تک جا پہنچا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی؟ ہمیں تو لگتا ہے صاحب اس میں بھی کوئی بیرونی ہاتھ ملوث ہے یا شاید کوئی گہری سازش ہو رہی ہے کیونکہ یہی تو وہ سوچ ہے جو ہمیں ہر مشکل کے بعد دی جاتی ہے ۔
جب بھی کوئی گھمبیر صورتِ حال سامنے آتی ہے تو یہ کہہ کر جان چھڑانا قدرے آسان ہو جاتا ہے کہ کوئی بیرونی ہاتھ ملوث ہے یا پھر یہ کے سارا قصور پچھلی حکومت کا ہے۔ اس بات کو اگر سچ بھی مان لیا جائے کہ یہ سب کیا دھرہ پچھلی حکومت کا ہے اور پچھلی حکومت کے مطابق اُس سے پچھلی حکومت کا اور یہ سلسلہ شاید کبھی نہ رک سکے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ موجودہ حکومت جب اپوزیشن میں تھی تو اُس نے اس ظلم کے خلاف علمِ جہاد کو اُس وقت بلند کیوں نہ کیا؟ کیا موجودہ حکومت اُس وقت حقیقی اپوزیشن کا کردار نبھانے میں ناکام رہی تھی یا اب حکو مت چلانے میں ناکام ہو رہی ہے۔
حکومت اپنی مقررہ آئینی مدت کا تقریباََ نصف گذار چکی ہے مگر عام آدمی کی زندگی میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی ۔ PIAکے ملازمین ہڑتال کی کال پر ایک ہو گئے تھے اور پھر احتجاج شروع ہوا ۔ اس احتجاج کے دوران دو لوگ لقمہِ اجل بھی بن گئے اُنہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کو بچانے کے لیے جان دی ہے یا PIAکو۔ مگر جان تو چلی گئی اب اُن کے گھر کے حالات کیا ہیں اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ نہ تو PIAکی نمائندہ تنظیم پالپا نے اُن کی خبر لی ہے اور نہ ہی حکومت کو خیال آیا ہے ۔
اور بہت ہی جلد ہمارے سیاسی لیڈر بھی یہ بھول جائیں گے جیسے ضرب عضب کے متاثرین کو سب بھول چکے ہیں ۔ اگر نجکاری کر کے ہی PIAکو بچایا جا سکتا ہے تو جو کام نجکاری کے بعد ہو گا وہ حکومت اپنے ذمہ لے کر خود کیوں نہیں کر دیتی۔ اگر اُن کے مطابق یہ آسان نہیں ہے تو جس سے نجکاری کی جائے گی وہ یہ گھاٹے کا سودہ کرنے پر کیونکر تیار ہو گا۔ حکومت کی یہ راکٹ سائنس حکومت خود ہی جانے۔ بہر حال اگر PIAکو بچانا ہے تو اِس کے لیے باقاعدہ ترجیہی بنیادوں پر منصوبہ بندی کی جائے اس کے لیے کچھ ایسے پراجیکٹ جو بعد میں بھی بن سکتے ہیں جن پر بے پناہ پیسہ لگایا جا رہا ہے اُن کو اگر روکنا بھی پڑے تو روک لیے جائیں اور PIAپر انوسٹمنٹ کی جائے۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ PIAکے ملازمین کی تعداد بہت زیادہ ہے ایک جہاز کے بدلے میں 700ملازمین ہیں مگر حالیہ BBCکی رپورٹ کے مطابق اس وقت PIAکے پاس 38طیارے ہیں جبکہ ملازمین کی تعداد 14771ہے ۔ ان عداد و شمار کے مطابق ایک طیارے کے حصے میں 389ملازمین آتے ہیں ۔ PIAکے بیرونی ملک ہوٹلز کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ PIAسری لنکن ائیر لائن سے مماثلت رکھتی ہے سری لنکن ائیر لائنز کے 313ملازمین فی طیارہ ہیں سری لنکن کے پاس 21طیارے ہیں اور 6578ملازمین ہیں اگر سری لنکن ائیر لائن چل سکتی ہے تو پھر پاکستانی کیوں نہیں؟ پاکستانی حکومت کو باقی معاملات کی طرح دوسری حکومتوں سے اس معاملے میں بھی رہنمائی لینی چاہیے۔
حالات کچھ بھی ہوں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ PIAپاکستان کا اثاثہ ہے اور اس کو ہر قیمت پر چلنا چاہیے۔ اللہ کرے کوئی معجزہ ہو اور ملک کے حالات ٹھیک ہو جائیں اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنی اپنی پارٹیوں کے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی ترقی اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے اکھٹی ہو جائیں اور غریب کے گھر کا چولہا جلتا رہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ مزمل رحمان کے پیر مارچ کے مزید کالم