اصل بات کو سمجھا جائے !

بدھ مارچ    |    محمد عرفان ندیم

یہ دو الگ الگ مقدمات ہیں ،پہلا مقدمہ تحفظ نسواں بل اور اس کی ضرورت و اہمیت کا ہے اور دوسرا مقدمہ اس کے نفاذا ور اس کے طریقہ کار کا ہے ۔ دونوں مقدمات کو الگ الگ دیکھنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں تک بات ہے پہلے مقدمے کی تو اس حقیقت کو مانے بنا کوئی چارہ نہیں کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کا ہر ملک خواہ وہ ترقی یافتہ وہ ، ترقی پذیر ہو یا تیسری دنیا کا کوئی ملک، خواتین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے اس کے پیش نظر تحفظ نسواں بل کی منظوری لازمی ہے اور خواتین کو ان کے حقوق ملنے چاہییں مگر بات چونکہ اس وقت پاکستان کی ہو رہی ہے بلکہ پاکستان کے ایک صوبے پنجاب کی ہو رہی اس لیے ہم صرف پاکستان کی بات کرتے ہیں ۔
بات صاف اور سیدھی ہے پاکستانی معاشرے میں خواتین پر ظلم ہوتاہے اور اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے ۔

(خبر جاری ہے)

خاص کر ہمارے دیہات اور دور دراز علاقے اس جرم میں سر فہرست ہیں ، ہمارے ہاں خواتین کو ونی بھی کیا جاتا ہے ،قرآن سے شادیاں بھی کی جاتی ہیں ، جائیدا د اور وراثت سے محروم بھی کیا جاتا ہے ، کھیتوں ،فیکٹریوں اور بازاروں میں کام کاج پر مجبور بھی کیا جاتا ہے اور والدین اور بہن بھائیوں کو چھوڑنے کی ”ہدایات “ بھی جاری کی جاتی ہیں ۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارا گھر اور باہر کا غصہ بیوی ،بیٹی یا بہن پر اترتا ہے اور ہمارے ” پڑھے لکھے “ شوہر کھانے میں نمک یا چائے میں چینی کو بہانا بنا کر عورت پر ہاتھ اٹھانے میں زرہ بھر تردد نہیں کرتے ۔ہمارے ہاں عورت کا یہ روپ بھی ہے جہاں مرد سارا دن برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ کر حقہ پیتے اور خواتین کو پہلے گھر اور پھر کھیتوں میں جا کر ڈھور ڈنگروں کا کام بھی کرنا پڑتا ہے،جہاں عورت وہ زر خرید غلام ہے جس پر مرد جب چاہے ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔
یہاں عورت کا وہ روپ بھی ہے جس میں جاہل ،اجڈ اور گنوار شوہر اپنی بیویوں پر تیزاب پھینک دیتے ہیں اور ان پر پٹرول چھڑک کے آگ لگا دی جاتی ہے ۔ یہ تمام جرائم جرم ہیں اور یہ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں ،اس لیے ان جرائم کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی بہر حال ضرورت ہے ۔ اس لیے اگر کوئی دانشور یا مذہبی پیشوا اس قانون کی مخالفت کرتا ہے تو اس کو اپنے رویے اورموقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
دوسرا مقدمہ اس قانون کے نفاذ ، اس کی نوعیت اور اس کے طریقہ کار کا ہے ، یہاں یہ بات سمجھے کی ہے کہ ہمارے قانون ساز اداروں اور ہمارے مذہبی اداروں میں کمیونیکیشن گیپ ہے جس کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ، دونوں اداروں میں کمیونیکیشن نہ ہونے کی وجہ سے سیدھی سادھی بات بھی ایک سازش لگنے لگتی ہے ، شروع میں جب یہ بل پاس ہوا تھا اس وقت اس کی مخالفت میں جو شدت تھی شاید اب وہ نہیں رہی ،کیوں ؟کیوں کہ جب دونوں اداروں میں کمیونیکیشن ہوا تو بات کافی حد تک واضح ہو گئی ، اب دونوں گروہ بات چیت کے زریعے مسئلے کو حل کرنے اور بل کی نوعیت اور اس کے نفاذ کے طریقہ کار پرنظر ثانی کے لیے تیار ہیں ، لیکن ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ سب کچھ پہلے ہوتا ، قانون ساز اداروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے تھی کہ ایک مسلم سماج میں قانون کے نفاذ اور اس کی نوعیت سے پہلے علماء سے مشاورت کی جاتی ، بل کی اختلافی شقوں پر ان کی رائے لی جاتی اور اس کے بعد اسے سماج کا حصہ بنایا جاتا لیکن چونکہ یہ سب پہلے نہیں ہوا اس لیے یہ سب اب ہو رہا ہے۔
جہاں تک بات ہے اس طبقے کی جو اس قانون کی ضرورت سے ہی منکر ہے تو یہ بات سراسر غلط ہے اور انہیں وہ سب حدیثیں ذہن میں رکھنی چاہیئں جن میں محسن انسانیت نے عورتوں کے حقوق کی بات کی ہے ، ایک حدیث میں ارشاد فرمایا” مجھے دنیا کی چیزوں میں عورت اور خوشبو پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ، دوسری جگہ فرمایا ” تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے بہترین ثابت ہے اور میں خود اپنے اہل وعیال کے لیے تم سب سے بہتر ہوں ، ایک اور جگہ فرمایا ” کامل ترین مومن وہ ہے جو اخلاق میں اچھا ہے اور اپنے اہل وعیال کے لیے نرم خو ہے ،ایک اور موقعہ پر ارشاد فرمایا ” عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کہ تم نے انہیں اللہ سے امانت کے طور پر حاصل کیا ہے “ ۔
دوسری بات یہ ہے کہ پہلے حکومت غلطی کرتی ہے اور اور رہی سہی کسر ہمارے دانشور اور کالم نگار پوری کر دیتے ہیں اور یوں ہمارا مذہبی طبقہ دفاعی پوزیشن پر آ کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔ ہمارے میڈیا ، ہمارے اینکرز اور کالم نگاروں کو چونکہ معاشرے میں رائے سازی کا اختیار حاصل ہے اس لیے انہیں مذہبی معاملات میں رائے سازی سے پہلے اصل مسئلے کو سمجھ لینا چاہئے، جب یہ لوگ اپنی سطحی معلومات کی بنا پر انوکھی دلیلیں گھڑتے اور ایسے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں تو یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے ،بات اجارہ داری کی نہیں کہ مذہبی طبقہ سماجی قانون سازی کا ٹھیکے دار بن گیا ہے بلکہ بات تخصیص اور شعبے کی ہے کہ علماء ان علوم میں تخصیص کا درجہ رکھتے ہیں اس لیے ایسی قانون سازی میں وہی بہتر راہنمائی کر سکتے ہیں ۔
جس طرح وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ بین الاقوامی تعلقات کیسے ہونے چاہییں ،پاکستان کی خارجہ پالیسی کیسی ہو اور داخلی امور کو کیسے چلا یا جائے کیونکہ یہ ان کی تخصیص کے شعبے نہیں اسی طرح ہمارے دانشوروں اور رائے سازی کا اختیار رکھنے والے اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ مذہبی معاملات میں حد سے ذیادہ مداخلت نہ کریں اور علماء کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔
اب آخر میں منظور شدہ قانون کی وہ شقیں جن پر علما ء کو اعتراضات ہیں اور ایک سلیم الفطرت انسان بھی اس سقم کو سمجھ سکتا ہے ۔
کسی قانون کے غیر اسلامی ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہوبلکہ اگر کوئی قانون مجموعی طور پر مقاصد شریعت اور قواعد عامہ سے متصادم ہو تو اس کا یہی حکم ہو گا اور یہ صرف اسلامی فقہ کی بات نہیں بلکہ ملکی اور بین الاقوامی قانون میں بھی ان اصولوں کو قانون سازی کا بنیادی ماخذ شمار کیا گیا ہے ۔ جہاں تک تعلق ہے اباحیت اصلیہ کا تو اس کمزور تصور کا سہارا لے کر مقاصد شریعت اور قواعد عامہ کی مخالفت نہیں کی جا سکتی ، ہمارے بعض دانشوروں اور کالم نگاروں نے اس تصور کو بنیاد بنا کر عجیب عجیب دلیلیں گھڑی ہیں ۔
او ر اس قانون میں صرف بیوی نہیں کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی عورت پر ہونیوالے تشدد پر اس کا اطلاق ہو گا حتیٰ کہ باپ ، بیٹا ، بھائی اور دیگر تمام رشتہ دار بھی اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں ۔ہم جو سنتے آئے ہیں کہ مغرب میں بیٹی نے بھائی یا باپ کو جیل میں بھیج دیاتو کیا یہاں یہ صورتحال پیدا نہیں ہو سکتی ۔مزید یہ کہ جرم میں مدد کرنے والی خواتین ساس نند اور دیگر خواتین بھی اس قانون کا شکار ہو سکتی ہیں اور آخری بات یہ کہ ویمن پروٹیکشن آفیسر بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہو سکے گا اور اس کو پولیس اور دیگر اداروں کی مدد حاصل ہو گی، ہماری پولیس جو پہلے ہی چادر اور چاردیواری کا سبق نہیں جانتی سوچیئے اس قانون کے بعد کیا ہو گااور یہ بات بھی اہم ہے کہ ویمن پرو ٹیکشن آفیسر کے لیے عورت ہونا ضروری نہیں بلکہ یہ مرد بھی ہو سکتا ہے ۔
یہ اور اس جیسی دیگر شقیں جو متنازع ہیں ان پر بہر حال نظر ثانی ہونی چاہئے اور متعلقہ اداروں کا اپنا کام کرنے دیا جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے منگل مارچ کے مزید کالم