افضل گورو اور چدمبرم کی بے وقت کی راگنی!

بدھ مارچ    |    صریر خالد

پارلیمنٹ حملے کے کشمیری ”مجرم“افضل گورو کو انتہائی رازداری کے ساتھ پھانسی دئے جانے کے وقت ہم نے اس سوال کوتشنہٴ جواب چھوڑا تھا کہ گورو کو پھانسی پر لٹکائے جانے سے زائد از ایک دہائی تک اُنکے اردگرد گھومتی رہی انتخابی سیاست با الآخر ختم ہوگئی ہے یا پھر نئی دلی سے سرینگر منتقل ہوچکی ہے۔گورو کی تیسری برسی کے موقعہ پر اس سوال کا بڑی وضاحت کے ساتھ جواب آیا اور معلوم ہوا کہ گورو کی روح جموں کشمیر میں ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں گھومتے ہوئے اور نہ جانے کب تک ”سراسیمگی“پھیلاتی رہے گی۔

جواہر لال یونیورسٹی(جے این یو) میں گورو کی برسی کے موقعہ پر ہوئے احتجاج اور اسکے مابعد پیش آمدہ حالات نے ہندوستان بھر میں ایک طوفان برپا کردیا اور عالمی سطح پر ملک کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

(خبر جاری ہے)

دوسری جانب وزیرِ داخلہ کے بطور گورو کی درخواستِ رحم کو رد کردئے جانے کی سفارش کرچکے سرکردہ کانگریس لیڈر پی چدمبرم نے چونکا دینے والا بیان دیکر گورو سے متعلق ایک اور عنوان دے دیا ہے جس پر مستقبل میں بہت کچھ لکھا جائے گا۔

چدمبرم نے گورو کے مقدمے میں شکوک و شبہات موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ،پہلے سے ظاہر کئے جاتے رہے،اس اندازے کو درست قرار دیا ہے کہ گوروکی پھانسی در اصل ایک سیاسی قتل تھا۔ظاہر ہے کہ اس بیان کے بعد یہ سوال پوچھا جائے گا کہ آ خر جمہوریت کے دور میں سیاسی قتال کیوں اور کب تک جاری رہے گا۔
سابقہ وزیرِ داخلہ اور سرکردہ قانون دان پی چدمبرم نے ان حالات میں افضل گورو کی بے گناہی اور انکے ساتھ ظُلم ہونے کی گواہی دی ہے کہ جب جواہر لال یونیورسٹی میں افضل کی وکالت کو لیکر ہندوستان بھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔
یہ افضل گورو کی تیسری برسی تھی جب جے این یو میں طلباء نے ایک تقریب کا انعقاد کیا اور اس میں گورو کی پھانسی کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے اس سے متعلق کئی اہم اور چُبھتے سوالات اُٹھائے۔اس تقریب کے بعد کیا ہوا اور اسے ریاست نے کس طرح لیا،اس پر بات کرنے کی شائد ضرورت بھی نہیں ہے کہ یہ ایک ایسا طوفان ہے کہ جس کے اثر سے باہر آنے میں ہندوستان کو یقیناََ برسوں لگیں گے حالانکہ نقوش انمٹ ہیں۔چناچہ طلباء لیڈر کنہیا کمار،عمر خالد اور دیگراں کے خلاف کی جاچکی کارروائی کے حوالے سے پہلے ہی بے شمار سوالات پوچھے جارہے ہیں جنکے جواب میں، سرکاری اداروں سے لیکر خود کو ”قومی چمپئن“سمجھنے والے اداکاروں کے جیسے بعض صحافیوں تک ،کئی منھ بڑبڑا تو رہے ہیں لیکن قابلِ فہم جواب تلاشنے یا تراشنے میں ناکام ہیں۔

ایسے میں کہ جب جے این یو میں افضل کی بات کرنا”غداری“قرار پایا ہے سابق وزیرِ داخلہ اور سرکردہ کانگریس لیڈر کے علاوہ نامور قانون دان کہلائے جانے والے پی چدمبرم نے ،افضل کی بے گناہی کی گواہی دیکر،ایک اور بم گرادیا ہے۔یہ بات اپنے آپ میں افسوس کی ہے کہ کنہیا کمار اور اُنکے طلباء ساتھیوں کی چھوٹی باتوں کے مقابلے میں پی چدمبرم کے منھ سے نکلی بڑی بات جیسے کسی کے کانوں سے ٹکرا ہی نہ سکی ہو لیکن بات بڑی بھی ہے اور اسے لیکر کئی معاملات و مسائل پر باتیں ہوسکتی ہیں۔
چدمبرم،جو تب بھی مرکزی کابینہ میں شامل تھے کہ جب 2013میں افضل گورو کو پھانسی دی گئی تھی،نے کہا ہے کہ گورو کے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ہونے میں سنگین اور گہرے شبہات ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ سابق وزیرِ داخلہ کو لگتا ہے کہ گورو کو پھانسی دینا بھی درست فیصلہ نہیں تھا بلکہ اُنہیں سزا دینا ہی تھی تو عمر قید ایک مناسب صورت تھی۔2008سے لیکر 2012تک ہندوستان کے وزیرِ داخلہ رہے،جس دوران وہ بڑے مغرور اور اکڑ والے مانے جاتے رہے ہیں،چدمبرم کا کہنا ہے کہ اُنکے نزدیک گورو کی پھانسی کا فیصلہ درست نہیں تھا لیکن حکومت میں رہتے ہوئے وہ اپنی ہی حکومت کے فیصے کے خلاف نہیں بول سکتے تھے۔
چدمبرم نے یہ باتیں ایک معروف انگریزی اخبار کے ساتھ انٹرویو میں بتائی ہیں۔یہ پوچھے جانے پر، کہ کیا اُنکے مطابق گورو کے مقدمے میں عدالت صحیح نتائج پر پہنچی تھی اور کیا گورو کو ملنے والی سزا اُنکے لئے معقول تھی،چدمبرم میں نے تقریباََ وضاحت کے ساتھ کہا ہے کہ اُنکے مطابق اس مقدمے میں نقائص موجود ہیں اور اس کا فیصلہ شائد صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا ہے۔اُنہیں لگتا ہے کہ ایک تو گورو کے پارلیمنٹ حملے میں ملوث ہونے میں ہی گہرے شکوک و شبہات موجود تھے اور دوسرا اگر وہ ملوث تھے تو اس بات میں بھی شکوک و شبہات ہیں کہ وہ کس حد تک ملوث تھے اور اُنکا گناہ کتنا بڑا تھا۔
سابق وزیرِ داخلہ کے مطابق گورو کو اگر سزا دینا ہی تھی تو اُنہیں اُنکی فطری موت تک رہا کئے بغیر جیل میں ڈال کر بھی سزا دی جاسکتی تھی جو کہ بقولِ اُنکے زیادہ موذون و معقول ہوتی۔اُنہوں نے حکومت میں رہتے ہوئے آواز کیوں نہیں اُٹھائی اور اپنی بات کیوں نہیں رکھی؟چدمبرم کے پاس اس سوال کا ایک بچگانہ جواب ہے جو جواب ہونے کی بجائے خود اپنے آپ میں کئی سوالات کا بھنڈار قرار پاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ چونکہ وہ حکومت میں شامل تھے لہٰذا وہ یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ عدالت کا فیصلہ غلط ہوا ہے جبکہ ابھی ایک ”آزاد شخص“کے بطور اپنی رائے کا اظہار کرسکتے تھے۔

اس طرح کی تاویل و جواز جب ہندوستان کے سابق وزیرِ داخلہ کی حیثیت کے شخص کی جانب سے آئے تو حیرانگی ہونا فطری بات ہے۔چناچہ اُنکے اس جواب کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ ملک میں جمہوریت فقط نام کی ہے جبکہ حکومت کا ایک سینئر ترین رکن چیزوں کو دوسرے انداز میں سمجھنے کے باوجود بھی اپنی رائے رکھنے کے جمہوری حق کو استعمال کرنے کی جُرأت ہی نہیں کر پاتا ہے!۔اس جواب سے بطور قانون دان کے بھی چدمبرم نے خود اپنے آپ پر سوال کھڑا کیا ہے کہ جب اُنکی سمجھ ایک انسان کے بچاوٴ کی وجہ بن سکتی تھی تب وہ جُرأت ہی نہیں کرپائے اور یہ بھی کہ اُنکے جیسے اونچی حیثیت کے سیاستدان بھی سچائی و حقائق پر پارٹی کی مرضی اور مفادات کو ترجیح دیتے ہیں،ایسے میں لوگ انصاف کی اُمید بھی کیسے کرسکتے ہیں ،یہ بھی ایک حیرانکن سوال ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر وہ تب وزیرِ داخلہ ہوتے تو کیا کرتے ،پی چدمبرم کہتے ہیں”میں تب وزیرِ داخلہ نہیں تھا،اگر ہوتا تو میں اس(گورو)کے معاملے میں کیا کرتا ،نہیں بتاسکتا۔یہ تبھی بتایا جاسکتا ہے کہ جب آدمی اپس کرسی پر بیٹھا ہو اور فیصلے لے رہا ہو“۔یعنی اب اس بات کا احساس ہونے کے باوجود بھی کہ گورو کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے پی چدمبرم واضح نہیں ہیں کہ فیصلہ لیتے وقت وہ کیا سوچ رہے ہوتے اور کیا کرتے۔
یعنی اس بیان سے سیاستدانوں کے اندر سیاسی مفادات اور حقائق و انصاف کے تقاضاوٴں کے بیچ چلنے والی جنگ کا پتہ چلتا ہے۔چناچہ وہ اس حد تک جانتے ہیں کہ گورو کے مقدمے میں شکوک و شبہات موجود ہیں اور اُنہیں دی جاچکی سزا معقول و مناسب بھی نہیں تھی لیکن وہ اب بھی واضح طور یہ نہیں کہہ پارہے ہیں کہ وہ ہوتے تو اس طرح کے ”نا معقول و نا مناسب“فیصلے نہیں ہونے دیتے۔
افضل گورو کے سولی پر چڑھائے جانے کے تین سال بعد پی چدمبرم کو،وہ بھی اُسوقت کہ جب جے این یو معاملے کو لیکر ہندوستان بھر میں افراتفری کا ماحول ہے،افضل گورو کی ”بے گناہی “کی گواہی دینے کی کیا سوجھی یہ وہی بہتر بتاسکتے ہیں لیکن بحیثیت وزیرِ داخلہ کے اُنکے گورو کے مقدمے کے ساتھ تعلق کی تاریخ کچھ اور ہی کہتی ہے۔
چناچہ جب افضل گورو تہاڑ جیل میں قید تھے اور اپنے بچاوٴ میں مقدمہ لڑ رہے تھے پی چدمبرم بیشتر وقت وزیرِ داخلہ رہے۔گورو کی اہلیہ تبسم گورو نے صدرِ ہند کے سامنے ضابطے کے تحت رحم کی درخواست پیش کی تو یہ پی چدمبرم ہی تھے جنہوں نے اس درخواست کو رد کردئے جانے کی سفارش کی۔یاد رہے کہ ہندوستان میں اگرچہ صدرِ مملکت آئینی سربراہ کی حیثیت رکھتے ہیں تاہم اُنہیں مختلف وزارتوں کیمشوروں پر منحصررہتے ہوئے فیصلے سنانا ہوتے ہیں۔
یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وقت کی حکومت کو بعض معاملات کو لیکر اپنے فیصلے کا اعلان صدارتی محل یا رشٹرپتی بھون سے کرانا ہوتا ہے اور یہ محض ایک خانہ پُری ہے۔چناچہ سزائے موت پر نظر ثانی کے جیسے معاملات میں درخواست صدر سے کرنا ہوتی ہے لیکن اُنہیں وزارتِ داخلہ سے حتمی رائے پوچھنا ہوتی ہے۔10/اگست2011کو پی چدمبرم ہی وزیرِ داخلہ تھے کہ جب صدرِ ہند کو لکھا گیا کہ گورو کی درخواستِ رحم کو مسترد کرتے ہوئے اُنکی سزائے موت کو برقرار رکھا جائے۔
یہ دو ایک سال بعد الگ معاملہ ہے کہ جب صدر نے افضل گورو کی عرضی سمیت کئی درخواستیں وزارتِ داخلہ کو تازہ مشورے کے لئے لوٹا دیں تو پی چدمبرم کے جانشین سُشیل کمار شنڈے نے درخواست کو مسترد کرنے کی سفارش کی اور پھر اُنہوں نے ہی گورو کی سزائے موت پر عمل در آمد کا حیرانکن فیصلہ ایک ایسے انداز میں روبہ عمل لایا کہ جو تاریخ بن چکا ہے۔
افضل گورو کی بیوہ تبسم کہتی ہیں کہ پی چدمبرم اپنی سیاست کے لئے سوگوار خاندان کے زخموں پر نمک رگڑ رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں”اگر وہ پہلے بولتے تو افضل کا عدالتی قتل،جیسا کہکشمیر میں اسے سمجھا جارہا ہے، رُک سکتا تھا“۔وہ کہتی ہیں کہ پی چدمبرم نے نہ صرف یہ کہ رحم کی درخواست کو مسترد کردئے جانے کی سفارش کرکے بلکہ افضل کو پھانسی دئے جانے کے وقت خاموش رہکر حکومت کی اس میں مدد کی ہے اور اب وہ اپنے مفاد کے لئے بولنے لگے ہیں۔وہ کہتی ہیں”افضل کی پھانسی انصاف کا قتل تھا جس میں پی چدمبرم برابر کے شریک ہیں تاہم وہ اب اپنے اغراض و مقاصد اور سیاست کے لئے سچ بولنے لگے ہیں جس سے ہمارے زخموں کی نمک پاشی ہوتی ہے“۔
تبسم گورو کا دعویٰ ہے کہ افضل گورو کی ”بے گناہی“اور وہ رازداری کہ جسکے ساتھ اُنہیں تختہٴ دار پر لٹکایا گیا تھاطویل مدت تک ہندوستان کے تعاقب میں رہے گی۔
حالانکہ کانگریس نے خود کو سلیقے سے چدمبرم کے بیان سے دور کھنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ فیصلہ عدالت و قانون کے تقاضاوٴں کے عین مطابق تھا اور اس پر بحث کرنا لاحاصل ہے لیکن چدمبرم کا بیان پہلی بار نہیں ہے کہ جب پارٹی نے گورو کے معاملے میں ندامت کا اظہار کیا ہو۔
غلام نبی آزاد ،جنہوں نے چدمبرم کی حمایت میں آگے آتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اُنکے ساتھی نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ہے کہ جو اُنسے منسوب کیا جارہا ہے،شائد بھول چکے ہیں کہ راجیہ سبھا میں اپنے انتخاب کے وقت اُنہوں نے جموں کشمیر میں ایک آزاد ممبرِ اسمبلی انجینئر رشید کا ووٹ لینے کے لئے اُنہوں نے تحریری طور گورو کی پھانسی پر معافی مانگی ہے۔دلچسپ ہے کہ افضل گورو کی پھانسی کو عمر قید میں بدل دئے جانے کے لئے اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرچکے ممبرِ اسمبلی انجینئر رشید نے غلام نبی آزاد کو اسی شرط پر ووٹ دینے کی حامی بھرلی تھی کہ اگر کانگریس افضل گورو کی پھانسی پر معافی طلب کرے۔
چناچہکانگریسکے کم از کم نو ممبرانِ اسمبلی نے اپنے دستخط کے ساتھ انجینئر رشید کو ایک بیان سونپ دیا جس میں گورو کی پھانسی پر ندامت کا اظہار کیا گیا تھا،انجینئر نے یہ بیان اخبارنویسوں کو دکھایا اور پڑھکر سُنایا جسکے بعد ہی اُنہوں نے غلام نبی آزاد کو ووٹ دیکر راجیہ سبھا میں لوٹنے کے قابل بنادیا۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا اعزاز رکھنے والے ملک کے سیاستدان کس طرح اپنے مفاد میں سفید کو کالا اور کالے کو سفید بنادیتے ہیں اور حاجت پوری ہوتے ہی ان رنگوں کی پھر سے ادلا بدلی کرتے ہیں۔

پی چدمبرم کا بیان اپنے آپ میں بہت اہم ہے حالانکہ اُنکے خلاف کنہیا کمار،عمر خالد یا کسی اور کی طرح کوئی میڈیا ٹرائیل ہوتے نہیں دیکھی گئی۔اس بیان سے وہ خدشات،اندازے اور شکوک و شبہات مزید پختہ ہوگئے ہیں کہ جنکے اظہار کے لئے کنہیا کمار،عمر خالد،ایس اے آر گیلانی اور نہ جانے کون کون جیل میں ڈال دئے جاچکے ہیں۔جے این یو واقعہ کے ردِ عمل میں ریاست کی ”عجیب و غریب“کارروائی نے نہ صرف افضل گوروکو تین سال بعد پھر سے زندہ کرکے ہندوستان میں ہی سراسیمگی نہیں پھیلائی بلکہ عالمی سطح پر بھی گورو اور مسئلہ کشمیر کا چرچہ عام ہوا۔
پھر جے این یو معاملے کے تسلسل میں گزشتہ دنوں اور بھی معتبر آوازیں اُٹھتی سُنائی دینے لگی ہیں اور یہ معاملہ ابھی جاری ہے۔ظاہر ہے کہ یہ معاملہ کہیں رُکنے کی بجائے مزید گونجتا دکھائی دے رہا ہے اور یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ افضل کے مارے جانے کے باوجود بھی وہ نہ جانے کب تک انتخابی سیاست کا محور بنے رہیں گے۔چناچہ جموں کشمیر میں گزشتہ انتخابات کے دوران پایا گیا کہ افضل گورو کی پھانسی کو لیکر نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی یہاں تک کہ کانگریس نے بھی سیاست کرنا چاہی اگرچہ کانگریس نے گورو کو سولی چڑھاکر ملکی سطح پر بی جے پی کے ہاتھ سے ایک ”بہت بڑا“ایشو چھین لیا تھا۔

کب کیا ہوا؟
سرینگر// پارلیمنٹ پر ہوئے حملہ سے افضل کی پھانسی تک کے واقعات:
#13دسمبر2001:پانچ جنگجووں کا نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاوس پر حملہ 9افراد کی موت 5زخمی۔
#15دسمبر2001:دہلی پولیس افضل گوروکو واد سے گرفتار کرتی ہے،پروفیسر ایس اے آر گیلانی کو ذاکر حسین کالج سے گرفتار کیا جاتا ہے جب کہ بعدازاں افشان گورو اور اس کے خاوندشوکت حسین گورو کو بھی حراست میں لے لیا جاتا ہے۔
#29دسمبر 2001: افضل گورو کو 10روزہ پولیس ریمانڈ پر دے دیا جاتا ہے۔

#4جون 2002:افضل گورو، ایس اے ا?ر گیلانی،شوکت گورو اور افشان گورو کے خلاف فرد جرم عائد کی جاتی ہے
# 18دسمبر2002: گیلانی، شوکت گورو اور افضل گورو کو موت کی سزا دی جاتی ہے جب کہ افشان گورو کو رہائی ملتی ہے۔
#30اگست 2003:پارلیمنٹ حملہ کے سرغنہ اور جیش محمد کے کمانڈر غازی باباسرینگر میں ایک انکاونٹر کے دوران جاں بحق ہوتے ہیں۔
#29اکتوبر2003: گیلانی کو اس معاملہ سے بری کر دیا جاتا ہے۔
#4اگست 2005:سپریم کورٹ افضل کی پھانسی کی سزا کو برقرار رکھتی ہے جب کہ شوکت کی سزائے موت کو 10سال کی قید با مشقت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

#26ستمبر2006:دہلی کی عدالت نے افضل کو پھانسی دینے کے احکامات جاری کر دئے۔
# 3اکتوبر2006:افضل کی اہلیہ تبسم گورو نے صدر ہند اے پی جے ابولکلام کے سامنے رحم کی عرضی دائر کی۔
#12جنوری 2007:سپریم کورٹ نے افضل کی سزا پر از سر نو غور کی درخواست رد کر دی۔
# 19مئی 2010: دہلی کی حکومت نے ان کی رحم کی درخوست مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت برقرار رکھنے کی سفارش کر دی۔
# 30دسمبر2010:شوکت گورو کو تہاڑ جیل سے رہا کر دیا گیا۔
# 10دسمبر2012:وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈھے نے بیان دیا کہ وہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد افضل گورو کی فائیل کا معائنہ کریں گے۔
#3فروری2013:صدر ہند پرنب مکھرجی نے افضل کی رحم کی درخواست مسترد کر دی
#9فروری 2013:افضل کو تہاڑ میں پھانسی سے دی گئی۔ (بشکریہ عالمی سہارا دلی)
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

صریر خالد کے منگل مارچ کے مزید کالم