الزامات کی سیاست کب تک ؟

جمعہ مارچ    |    پروفیسر رفعت مظہر

کپتان صاحب کاتصوراتی و تخیلاتی انقلاب محض سراب ۔جذباتی نوجوانوں نے جسے بحرِبے کنارسمجھا ،وہ محض حباب ۔دعویٰ قیادت کالیکن قائدانہ صلاحیتیں نایاب ۔ سونامی پتہ نہیں کِس گٹرکی نذر ہو گئی اورنئے پاکستان کے سارے سپنے ادھورے ۔کہاجا سکتاہے کہ
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا
جو چیرا تو اِک قطرہٴ خوں نکلا
تکذیب وتکفیر اُن کی گھُٹی میں پڑی ہوئی مگرسعی سے ہمیشہ گریزاں ۔
یورپی یونین ،دولتِ مشترکہ ،ڈیموکریٹک انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئر ،ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشن ،سبھی نے 2013ء کے انتخابات کوشفاف قراردیا ۔انتخابات سے پہلے قومی وبین الاقوامی سرویز مقبولیت کے گراف میں تحریکِ انصاف کونوازلیگ سے کہیں کم تَرقرار دیتے رہے لیکن نتیجہ جب قومی توقعات اور سرویزکے عین مطابق آیاتو خاں صاحب نے اُسے کھُلے دِل سے تسلیم کرنے کی بجائے احتجاجی سیاست کاڈول ڈالا۔

(خبر جاری ہے)

انتخابات کے بعد الیکشن 2013ء پرتحریکِ انصاف کی اپنی ہی بنائی گئی کمیٹی نے کہاکہ دھاندلی نہیں ہوئی ،جماعت کے اندرسے بھی آوازیں اُٹھتی رہیں،عقیل وفہیم اصحاب نے قائل کرنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن خاں صاحب کی وہی ڈفلی اوروہی راگ ۔”میں نہ مانوں“ کی رَٹ بدستور اورایجنڈا محض افراتفری ۔دراصل وہ نرگسیت کے رَتھ پرسوار ہوکر اتنااونچا اُڑے کہ پہاڑوں کو ٹیلے سمجھنے لگے ۔ 126 روزہ دھرنادے کربھی دیکھ لیا، قدم قدم پریوٹرن بھی لیے، پریس کانفرنسوں اورکنٹینر پرکھڑے ہوکرردی کاغذوں کے پلندے بطور ثبوت بھی لہرائے ،کسی کی ”انگلی“ کھڑے ہونے کاانتظار بھی کرتے رہے ،ضدکرکے جوڈیشنل کمیشن بھی بناکر دیکھ لیالیکن نصیبہ ٹھہری ہزیمت ،صرف ہزیمت ۔
سچ یہی کہ کاٹھ کی ہنڈیا کبھی دوسری بار چڑھی نہ جھوٹ کے کھلیان میں نفرت کے بیج بونے والے کبھی کامران ٹھہرے ۔نتیجہ یہ نکلاکہ اپنوں میں بھی اعتماد کھوتے چلے گئے ۔
ہوسِ جاہ کی ٹپکتی رالوں کے درمیان اتنے جھوٹ بولے کہ ”جھوٹ“ بھی شرم سے منہ چھپانے لگا ۔دعویٰ یہ کہ 90 دنوں میں ملک کی تقدیر بدل دیں گے لیکن ایک ہزار دنوں میں ایک صوبے کی تقدیر بھی نہ بدل سکے ۔ الزامات کی پٹاری کھولی تواپنے پرائے سبھی لپیٹ میں آگئے ۔
جن کی تعریف میں رطب اللساں تھے اُنہی پرالزامات ک بوچھاڑ کردی ،اپنے بھی خفا ،بیگانے بھی ناخوش ۔ایک شیخ رشید ہی باقی بچے ہیں جو ”یوسفِ بے کارواں کی طرح اِدھر اُدھر بھٹکتے پھررہے تھے ۔ گلہ شیخ صاحب کویہ کہ اُن کی بے پناہ صلاحیتوں سے استفادہ کرنے والاکوئی نہیں ۔وہ خاں صاحب کی نظروں میں ایسے جچے کہ اب صرف وہی باقی ہیں ،دوسرے کچھ ”ہوا“ ہوگئے باقی تیاربیٹھے ہیں ۔اب یہ کہے بنا کوئی چارہ نہیں کہ وہ صاحبِ منزل نہیں ،بھٹکے ہوئے راہی ہیں ۔

الیکشن 2013ء کوختم ہوئے تین سال گزرچکے لیکن خاں صاحب اب بھی الزامات کی پٹاری کھولے جابجا ۔زبان وہی غیر پارلیمانی جوشاید خاں صاحب کی فطرت کاحصہ بن چکی تھی۔جلال پور پیروالہ کے انتخابی جلسے میں اُنہی الزامات اور اُسی غیرپارلیمانی زبان کی گونج سنائی دی۔یہ محض ایک ضمنی انتخابی جلسہ تھا جس میں خاں صاحب نے اپنے خطاب کے دوران نہ صرف حریف اُمیدوارکی ذات پر جملے کَسے بلکہ غیر پارلیمانی زبان بھی استعمال کی ۔
اُنہوں نے کہا ”شریف برادران نے سیاستدانوں کو اپنے پیسے سے نہیں بلکہ جوہرٹاوٴن میں پلاٹ دے کر اورعوام کے پیسے سے وفاداریاں خریدیں ۔پہلے قاسم نون کی بولی لگائی پھر دیوان کو ضلع کی چیئرمینی کالالچ دے کر خریدا۔شریف برادران نہ عوام پر پیسہ خرچ کرتے ہیں اورنہ ہی اِنہیں روزگار دیتے ہیں ۔اب کمیشن کے لیے لاہورمیں دو سو ارب روپے کی اورنج ٹرین بنارہے ہیں ۔یہاں کاپیسہ لوٹ کرباہر بھجوائیں گے جہاں اُن کے بچے یہ پیسہ لندن اوردبئی کی پراپرٹی خریدنے پر لگائیں گے ۔
یہ امیرہو جائیں گے اورقوم مقروض ہوجائے گی“۔ خاں صاحب صرف الزامات کی سیاست کرتے ہیں لیکن اِن الزامات کے لیے نہ توکوئی مناسب فورم استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ہم نوازلیگ کے مدح سرانہیں ،نہ ہی مدح سرائی کاشوق ۔خامیاں اُن میں بھی بیشمار اور خرابیاں قطاراندر قطار ۔اگر خاں صاحب کے پاس اُن کے خلاف کوئی ثبوت موجودہے تووہ نیب یاسپریم کورٹ کی طرف رجوع کیوں نہیں کرتے؟۔ میاں نواز شریف کے صاحب زادے حسین نوازنے اُنہیں مناظرے کاکھُلا چیلنج دے رکھاہے ،وہ اُن کاسامنا کیوں نہیں کرتے ؟۔
اگروہ یہ سب کچھ اقتدارکے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے کررہے ہیں توپھر انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ دین میں تہمت لگانے والے کوکِن الفاظ میں پکاراجاتا ہے اوراُس کی سزاکیا ہے ۔
عمران خاں صاحب توہرضمنی الیکشن میں اپنی” آڑھت“ سجالیتے ہیں ۔شایدہی کوئی ضمنی الیکشن ایساہو جہاں خاں صاحب نے انتخابی مہم میں حصّہ نہ لیاہو یا”میوزیکل کنسرٹ“ نہ سجایاہو لیکن پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں حالانکہ پارلیمنٹ ہی وہ بہترین فورم ہے جہاں ہرالزام کا خاطرخواہ جواب مل سکتاہے ۔
اُن کی پٹاری الزامات سے تولبالب لیکن ثبوتوں سے خالی اسی لیے وہ اِس انتظارمیں ہوتے ہیں کہ کب کوئی ضمنی انتخاب ہواور وہ اپنے دِل کی بھڑاس نکالیں ۔دوسری طرف ضمنی انتخابات کی انتخابی مہم میں نہ کبھی میاں نواز شریف کوحصہ لیتے دیکھا اورنہ ہی میاں شہباز شریف کو ۔نہ ہی اُنہوں نے کبھی خاں صاحب کے الزامات کاجواب دیاہے اسی لیے وہ کامران ہیں۔خاں صاحب کوبھی میاں برادران کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے ایساہی طرزِعمل اختیارکرنا چاہیے ۔اُنہیں چاہیے کہ اپنی تمام تر توجہ خیبرپختونخوا میں ترقیاتی کاموں کی طرف لگادیں اور ”نیاخیبرپختونخوا “ بناکر ثابت کردیں کہ ترقی کسے کہتے ہیں ۔پھر اُنہیں بھوٹ بولناپڑے گانہ یوٹرن لینا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر رفعت مظہر کے جمعرات مارچ کے مزید کالم