معلومات کے حصول کے حق کا تحقیقاتی صحافت میں استعمال

جمعہ مارچ    |    بادشاہ خان

دنیا بھر بالخصوص مغرب میں( معلومات کے حصول کے قانون) کے حق کو عوام کے علاوہ صحافی بھی خصوصی استعمال کرتے ہیں ،مغرب میں تحقیقاتی صحافت میں اعداد وشمار،سرکاری معلومات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ،رپورٹر کی رپورٹ میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی جامع معلومات ہیں،حکومت اورمتعلقہ ادارے نے اس کے بارے میں کیا کہا ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب معلومات تک رسائی آسان ہو،تحقیقی اور تفتیشی آرٹیکل میں جاننے کے حق کااستعمال انتہائی ضروری ہے وہاں سرکاری ادارے بھی تعاون کرتے ہیں ،کئی مرتبہ ان تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری میں مہینے بھی لگ جاتے ہیں، ،مگر افسوس سے کہنا اور لکھنا پڑرہا ہے کہ ہماری ہاں اس کے برعکس ہے،یہاں عام آدمی تو کیا صحافیوں کو بھی معلومات تک رسائی نہیں جاتی، بلکہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران اگر معلومات مانگیں تو انھیں بھی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں ،اس صورت حال میں انوسٹی گیٹیو جرنلسٹ کے لئے معلومات کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے،چہ جائیکہ وہ اپنے بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے قانونی طریقے سے معلومات حاصل کرکے تحقیقی رپورٹ سامنے لائے،اسی لئے پاکستان میں اکثر تحقیقاتی اور تفتیشی رپورٹس پولیس ،و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فراہم کردہ یک طرفہ معلومات پر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کئی بوگس رپورٹس بھی سامنے آچکی ہیں اور دوسری بات ہمارے ہاں تحقیقی صحافت کا مفہوم ہی الگ ہے بس مختصر وقت میں رپورٹ تیار کرنی ہوتی ہے جس میں تحقیق سے زیادہ ذرائع پر انحصار کیا جاتا ہے البتہ چند صحافی ہیں کہ جو کوشش کرتے ہیں کہ اچھی تحقیقی رپورٹ سامنے لائیں مگر حکومتی سطح پر ادارے تعاون کے لئے تاحال تیار نہیں ہیں۔

(خبر جاری ہے)


دوسری جانب دنیا بھر میں عوام کو معلومات کی فراہمی کے لئے قوانین کے ساتھ جدید ذرائع نہ صرف موجود ہیں بلکہ عوم صحیح اورجامع انداز میں آگاہی دی جاتی ہے،اس کے لئے ذرائع ابلاغ کے تمام آلات کو استعمال کیا جاتا ہے ،ویب سائٹس کے ذریعے اپ ڈیٹ معلومات فراہم کی جاتی ہیں،حتی کہ سیاسی جماعتیں بھی اپنے پروگرام کے لئے پیپر ورک سامنے لاتی ہیں اور باقاعدہ آڈٹ کرایا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ منتخب ہونے کے بعد بھی اعلیٰ سطح کے حکومتی اہلکار جوابدہ ہوتے ہیں ، ان ممالک میں کرپشن کم ہونی کی ایک وجہ یہ بھی ہے ، شفافیت اورچیک اینڈبیلنس کے اس عمل سے وہاں جمہوری نظام مضبوط ہے،سب سے اہم بات یہ عوام کا بنیادی حق ہے کہ اسے معلومات فراہم کی جائیں ، یہ قانون اقوام متحدہ کے بین الاقومی چارٹر کا حصہ ہے اور پاکستان ان چھہتر ممالک میں شامل ہے جس نے معلومات تک رسائی کے حق کے اقوام متحدہ کے اعلامیہ برائے انسانی حقوق1948)(iccpr)) پر دستخط کئے ہیں اور دونوں کے بارے میں تفصیلات پاکستانی قانون آرٹیکل 19)) میں موجود ہے،مگر موثر قانون نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور مختلف ادوار میں اس کے نام بدلتے رہے کبھی ایسے ’فریڈیم آف انفارمیشن کانام دیا گیا،تو کبھی ایکسس آف انفارمیشن کے نام سے پکارا گیا ،دو سال ہونے کو ہیں اب اسے نئے نام رائٹ ٹو انفارمیشن کے نام سے قانون کی شکل میں خیبر پختون خواہ اور پنجاب میں لایا گیا ہے جس پر کچھ حد تک عمل درآمد ہورہاہے ،جبکہ سندھ بلوچستان سمیت وفاق میں اس قانون پر کام باقی ہے۔

گذشتہ دنوں اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی(پلڈاٹ)کے زیراہتمام ورکشاپ منعقد کی گی جس میں ملک بھر کے صحافیوں نے شرکت کی ،راقم بھی ان میں شامل تھا،ورکشاپ کے آغاز میں پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب(پاکستان میں حق حصول معلومات کے قانون کا استعمال تحقیقاتی صحافت میں کتنا اہم ہے)اور اس قانون کے فوائد و اغراض ومقاصد اور دنیا بھر میں اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت اور قانون سازی پر اظہار خیال کیا،اور مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا پلڈاٹ کے زیر اہتمام اس ورکشاپ سے احمد بلال محبوب کے علاوہ انڈیا سے آئے مہمان پروفیسر جگدیپ ایس چوکرنے انڈیا میں اس حوالے سے ہونے والی قانون سازی اوراپنے تجربات پرمبنی انتہائی معلوماتی لیکچر دیا ، تحقیقاتی صحافت میں اس قانون کا استعمال کتنامفیدہے ،اس پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

پہلے بھی ایک بار نشاندہی کرچکا ہوں کہ وفاق کے بعد ہمارے صوبے سندھ میں․ جاننے کا حق․کے حوالے سے قانون سازی انتہائی فرسودہ اور ناقص ہے ہے بلکہ بیساکھوں کا محتاج ہے،سندھ میں یہ قانون ابھی تک آزاد انفارمیشن کمشنرز کے بجائے صوبائی محتسب سندھ پر انحصار کرتا ہے اور مزے کی بات صوبائی محتسب کے اختیارات بھی واضح نہیں ہیں،مفاد عامہ کے لئے مقررہ معیاد کے بعد استثئنی کی طریق کار بھی موجود نہیں ،موجودہ قانون میں حق حصول معلومات کے قانون میں جرائم کا ذکر تو ہے مگر ان جرائم کے مرتکب افراد اور سرکاری اہلکاروں کے لئے سزائیں موجود نہیں ہیں،مواخذہ کا خوف نہ ہونے سے بھی یہ قانون عملا غیر موثر ہو چکاہے ۔
سب سے اہم بات جیسے نظر انداز کیا جاتا ہے کہ یہ‘ جاننے کا حق ہمیں مغربی تہذیب نہیں بلکہ اسلام نے دیا ہے اور مواخذے سے کوئی مستثنیٰ نہیں ہے ، آج جب ہم مغرب کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے تو پھر اس حوالے سے قانون سازی اور عمل درآمد پردوہرا معیار کیوں ہے؟مغرب میں اگر معلومات کے حصول کے حق کے لئے وزیر اعظم ہاوس اور صدراتی محل تک جوابدہ ہیں تو یہاں استثنئی کیوں؟۔
بہرحال معلومات کے حصول کے حق کے قانون پر عمل درآمد سے ہی حکومت اور معاشرے میں کرپشن کی روک تھام اور شفافیت اور احتساب کا موثرنظام لایا جاسکتا ہے کیونکہ جب معلومات دینے کے لئے ادارے پابند ہونگے ان کی ویب سائیٹس پر ٹینڈرز سے لیکر ہر قسم کی معلومات اپ ڈیٹ موجود ہوں۔
توکرپشن کے بہت سے راستے بند ہوسکتے ہیں،ایک بات اور معلومات مانگنے والوں کو بھی تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ عام آدمی تو دور کی بات معلومات مانگنے پر صحافیوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں ،اگرمواخذے کا خوف ہوگا تو کم از کم عوامی مسائل میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے رہی بات میڈیا کی تو اس نے ہمیشہ حکومت اور عوام کے مفادات کے درمیان کردار ادا کیا ہے اور کرنا چاہیے یہ نہیں کہ ہرمسئلہ نیشنل انٹرسٹ(قومی مفاد) کے نام پر چھپایا جائے،آخری بات اگر پاکستان میں معلومات کے حصول کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اسٹوری اور تحقیقاتی صحافت کو فروغ دیا جائے تو بہت ہی مثبت اور جامع رپورٹنگ ہوسکتی ہے اس سے صحافتی اداروں پر اٹھنے والے اعتراضات بھی ختم ہوسکتے ہیں اور حکومتی اداروں میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام رائج ہوسکتا ہے ،اس قانون کا تمام صوبوں کے ساتھ ساتھ وفاق میں بھی موثر شکل میں لایا جانا اور نافذ کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔
پلڈاٹ کے زیر اہتمام یہ ورکشاپ انتہاہی اچھی کوشش ہے جو کہ آگاہی کے ساتھ ساتھ تجربات شئیر کرنے کا بہترین فورم ثابت ہوا،مگر اس قانون سے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے جس کے لئے ابھی بہت کام باقی ہے،خود صحافیوں کی بڑی تعداد نابلد ہے چہ جائیکہ عوام اور یہ آگاہی کس طرح ہوگی؟ کونسے ذرائع ابلاغ کا استعمال ضروری ہے ؟حکومت اس کے لئے کیا کررہی ہے؟ ملک میں کئی مسائل اور سوالات ہیں ، جواب ایک ہے کہ کون اس پر کام کرے گا
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com