بنتِ حوا کے تحفظ کا بل۔۔۔۔۔اور ہمارا معاشرہ

جمعہ مارچ    |    حافظ مزمل رحمان

یہ دل خراش واقعہ اس زمانے کا ہے جب بیٹی کا پیدا ہونا باعث شرم تصور کیا جاتا تھا۔ ایک غیر مسلم حضور کی مجلس میں حاضر ہوا، قبولِ اسلام کی غرض سے بیعت کے لئے ہاتھ بڑھایا اور فوراًہاتھ واپس کھینچ لیا۔ اُس سے اس بے ادبی کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے کہا کہ قبول اسلام سے قبل میرے سابقہ گناہ کس طرح معاف ہوں گے ۔ میں نے تو بہت بڑے گناہوں کا ارتکاب کر چکا ہوں۔ غالباً چار بیٹیوں کو زندہ درگور کر چکا ہوں۔
پھر اس نے آخری درگور کی جانے والی بیٹی کا واقعہ سنایا ، کہ میں کچھ عرصے کے لیے کاروبار کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا۔ اسی دوران میں میرے گھر بیٹی نے جنم لیا۔ میری بیوی نے اسے پڑوس کے کسی گھر میں بھیج دیا تاکہ وہ اپنی سابقہ بہنوں کی طرح درگور ہونے سے بچ جائے۔

(خبر جاری ہے)

میرے گھر پہنچنے پر مجھے بتایا گیا کہ یہ چاند سی بیٹی پڑوس سے کھیلنے آئی ہے۔ وہ روزانہ میرے گھر کھیلنے آتی، میں بھی اس سے کھیلتا، اب مجھے اس سے پیار ہو گیا تھا۔

ایک دن میری بیوی نے یہ کہہ کے راز سے پردہ اٹھا دیا کہ یہ آپ ہی کی بیٹی ہے۔ یہ سن کر میری محبت نفرت میں بدل گئی اور میرا خون کھولنے لگا۔ چنانچہ ایک دن میں نے بچی کو سیر کے بہانے تیار کیا اور جنگل کی راہ لی۔ بچی خوشی خوشی ساتھ چل رہی تھی۔ جنگل پہنچ کر میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا۔ اس دوران میرے کپڑوں پر مٹی گِرتی تو میری بیٹی جلدی سے میرے کپڑے ہاتھ سے صاف کرتی ۔ مجھے اس کی بے پناہ محبت دیکھ کر بھی ترس نہ آیا۔
اس نے گڑھا کھودنے میں میری مدد بھی کی۔ پھر میں نے اپنی ہی بیٹی کو گڑھے میں ڈال دیا۔ وہ رو رو کر مجھ سے اپنا قصور پوچھتی رہی اور میں اس پر مٹی ڈالتا رہا۔ وہ بار بار کہتی رہی کہ بابا اگر آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں تو میں کبھی آپ کے سامنے نہ آوٴ گی مجھے چھوڑ دیں۔ وہ مجھ سے زندگی کی بھیک مانگتی رہی اور میں نے ہمیشہ کے لیے اس کی آواز کو بند کردیا۔
یہ واقعہ سننے کے بعد حضور نے چہرہ مبارک اٹھایا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے اور ڈارھی مبارک بھیگ چکی تھی۔
آپ نے اعلان فرمایا کہ اگر کسی نے دو بیٹیوں کی اچھی پرورش کی اور اچھی جگہ شادی کی تو وہ جنت میں اس طرح میرے ساتھ ہو گا جس طرح یہ دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔
ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اگر کسی کی ایک بیٹی ہو تو ؟
یہ وہ ہی معاشرہ تھا جس میں عورت کی اہمیت ایک جانور کی سی تھی اور اب صحابی کا یہ سوال بیٹی سے محبت کی دلیل تھی اُس نے محبت کی وجہ یہ سوچا کہ اُس کی تو ایک بیٹی ہے اور اعلان ایک بیٹی کے بارے میں ہے جس پر آپ نے فرمایاکہ اس کے لیے بھی یہی انعام ہے۔
یہ اسلامی بل تھا جو رسول اللہ ﷺ نے پاس کیا تھا۔
ہر زمانے کے لوگ اپنے آپ کو ماڈرن اور روشن خیال سمجھتے ہیں ۔ عرب معاشرہ ان تمام برائیوں کے ساتھ خود کو روشن خیال تصور کرتا تھا۔ عورت کو ذلت اور نحوست کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیا ہے اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔
حالیہ پنجاب حکومت نے ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2016ء کے تحت بل پاس کروایا ہے جس سے خواتین کے خاص طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
کچھ لوگ کھلم کھلا اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ بل کے مطابق بیوی اپنے شوہر کے ظلم کے خلاف شکایت کر کے اسے سزا دلوا سکتی ہے۔ شوہر کو معمولی سزا کے طور پر 48گھنٹے گھر سے باہر رہنے کی پابندی کا سامنا کرے گا اور بیوی کو گھر سے نہیں نکال سکے گا۔ اس بل کے ناقدین یہ کہتے ہیں کہ جب شوہر دو دن گھر سے باہر رہنے کے بعد جب گھر واپس آئے گا تو کیا اس کے دل میں بیوی کے لیے محبت ہو گی یا نفرت؟ اس طرح تعلقات میں مزید ڈراڑ پیدا ہو گی یا مضبوطی آئے گی؟ ہلکی پھلکی اَن بَن تو ہر گھر میں ہو جاتی ہے۔
اگر شوہراور بیوی میں لڑائی ہو جائے اور بیوی میکے چلی جائے توشوہر جیل جائے گاچاہے وہ لڑائی شاپنگ نہ کروانے پہ ہوئی ہو اور اگر شوہر بیوی کو طلاق دے دے تو اس کے لیے حکومت نے کیا لائحہ عمل تیار کیا ہے اُس کو طلاق دے کر ہمیشہ کے لئے میکے بھیجنے سے روکنے کا کیا کوئی قانون بنے گا؟ اور اسی طرح کے بہت سے اعتراضات ناقدین اُٹھا رہے ہیں؟ بہر حال لوگ اس بل کے حق میں ہوں یا مخالف ہر ایک کی اپنی رائے ہے مگر میں تو یہ سوچ کے پریشان ہو رہا ہوں کہ وہ عورت جو کہ بیٹی ہو تو اس کی پرورش پر جنت کی بشارتیں دی گئی اور اس کو گھر کی رحمت کہا گیا اور اگر یہ عورت بیوی ہو تو اس کو گھر کی ملکہ کہا گیا۔
اگر ماں ہو تو اس کے قدموں کے نیچے جنت کو رکھ دیا گیا۔عورت کو وراثت میں حق دیا گیا۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے سے پیار اور محبت سے پیش آنے پر نیکیاں دینے کا اعلان کیا گیا۔ جہاں شوہرکے مجازی خدا ہونے کا تصور ہے وہاں بیوی پر پیار کی نگاہ ڈالنے کو بھی ثواب قرار دیا گیا بلکہ یہاں تک کہ بیوی کے منہ میں شوہر اگر خود نوالہ ڈالے تو اس کو صدقے سے تعبیر کیا گیا۔ شوہر کو پابند کیا گیا کہ وہ بیوی کی تمام ضروریات کا خیال رکھے ۔
گھر کے تمام اخراجات کو برداشت کرنے اور کام کرنے کی ذمہ داری شوہر پر ڈالی گئی اور بیوی کو گھر کی ملکہ مقرر کیا گیا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ کس طرح تبدیل ہوا۔ یہ سارے احکامات کس طرح پسِ پشت ڈال دیے گئے اور ہمارا معاشرہ ان احکامات اور اس طرح کی محبت کی فضا کو قائم کرنے کے لئے کیا اقدامات کر رہا ہے؟۔ آج خواتین کو پروٹیکشن دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ اسلام نے تو وراثت میں عورت کو محبت دی ہے تو پھر ایسا کیوں؟ ان برائیوں کی وجہ کیا ہے اس پر کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ معاشرے میں اخلاقیات کی اس تنزلی کو روکنے کے لئے کیا کیا جا رہا ہے؟ ہم سب اپنی خاندانی نظام کو کامیاب بنانے کے لیے کس قدر سنجیدہ ہیں ؟ ہم اپنی بیٹیوں کو کیا سکھا رہے ہیں کہ شادی کے بعد اُنہوں نے گھر کی ذمہ داری کو کیسے نبھانا ہے۔
ہمارے نوجوانوں کے اذہان میں شادی کا کیا تصور ہے ان کے ہاں ازدواجی زندگی کی کتنی اہمیت ہے؟ باپ اپنے بیٹے سے اس بارے میں کوئی بات کرتا بھی ہے ؟؟ ماں بیٹی کو یہ سکھاتی ہے کہ ساس کو ماں جیسی اہمیت دینی ہے اور کیا ساس یہ سوچتی ہے کہ میری بہو بھی میری بیٹی ہی ہے تبھی تو وہ اپنا گھر اور سب کچھ چھوڑ کر اُن کے ہاں آئی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جس پر ہم سب کو غور کرنا پڑے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ مزمل رحمان کے جمعہ مارچ کے مزید کالم