یونیورسٹی سے جیل تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگل مارچ    |    حافظ مزمل رحمان

قو مو ں کی عروج و تر قی علم کی مر ہون منت ہے جو قوم علمی سفر میں پیش پیش ہو اسے نہ صرف عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ بلکہ اس قوم کی عزت کا ڈنکا بجتا ہے۔ علم ایسا نور ہے جس سے جہا لت کی تاریکیاں کافور ہوتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی قوت ہے جس سے تسخیر کا ئنات کا سبق ملتا ہے ۔یہ ایسی لازوال دولت ہے جس سے انسان عزت و وقار اور عظمت و سیا دت کے مقام رفیع پر فائز ہو تا ہے ۔ ایٹمی طا قتوں میں چھٹے نمبر پر شما ر ہو نے والا یہ ملک اپنی تعلیمی نظام کی بدولت نا ئجیریا کے بعد دوسرے نمبر پر شمار ہو تا ہے جہاں کا تعلیمی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔
۔ پا کستان کے آ ئین کے مطا بق تعلیم حاصل کرنا اور تعلیمی سہولیات کا میسر ہو نا ہر شہری کا حق ہے۔مگر بد قسمتی سے اس نظام کو صرف کا غذ کی حد تک محدود کر دیا گیا ہے۔

(خبر جاری ہے)

تنگ حالی و بد انتظامی کی وجہ سے ان گنت بچے تعلیم حاصل کر نے سے محروم ہیں جسکی وجہ سے معاشرے میں پھیلا فساد مضبوط جڑ پکڑ چکا ہے۔ تعلیم ایک ایسی شے ہے جو انسان کو بالکل بدل کر رکھ دیتی ہیاور اسے اس مقام پر لے جاتی ہے جہاں اس نے جا نے کا تصور بھی نہ کیا ہو۔


دنیاوی چہل پہل آرائش و زیبائش اور مادی ترقی علم کا ہی کرشمہ ہے اگر انسان مادی خسارے کا شکار ہو جائے اس سے مال و متاع چھن جائے کوئی آفت یا حادثہ اس کی مملوکہ اشیا کو نیست و نابود کر دے تو اس کی تلافی ممکن ہے بشرطیکہ علم کا سرما یہ اس کے پا س ہولیکن اگر وہ علم سے تہی دامن ہو تو نہ صرف اس کے لئے نقصان کا ادراک نا ممکن ہے بلکہ معاشرے مین عزت کی زندگی بسر کرنا اور بلند مقام حاصل کرنا بھی محال ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ نے پہلی وحی میں شرک جیسی بیماری کو چھوڑنے کی طرف نہیں بلکہ علم کی طرف متوجہ کیا پھر قلم کی قسم اُٹھا کر علم کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا۔
جب رسول ﷺ نے پیغمبرانہ لہجے میں فرمایا کہ علم میرا ہتھیار ہے تو اس صدا سے جہالت کے ایوانوں میں کہرام مچ گیا ۔علمی ہتھیا ر کے استعمال کا یہ اعلان عالم انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لانے کا اعلان تھا کیونکہ انسان اگر علمی ہتھیا ر سے مسلح نہ ہو تو میدان حیات میں ادیام و خرافات کے دبیز پردوں میں چھپ جاتا ہے اور اگر اس کے ہاتھ میں علم کی شمع روشن ہو تو جہالت کی تاریکیوں کو کاٹتا ہوا تسخیر مظاہر فطرت کا سفر کرنے لگتا ہے یہ علم کی ہی بر تری تھی جس نے انسا ن کو آغاز پر ہی مسجود ملائک کے ارفع و اعلیٰ مقام پر متمکن کر دیا ۔
مگر اس تمام حقیقت کے باوجود پاکستان میں تعلیم کا جو حشر ہو رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ پاکستان میں شرح خواندگی صرف58 فی صد ہے۔ملک میں تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل نہ ہو نے کی و جہ سے معیار کا بھی بُرا حال ہے ملک میں آبادی کے لحاظ سے یونیورسٹیوں کی تعداد خاصی کم ہے ۔ حال ہی میں مختلف سرکاری یونیورسٹیوں کے سب کیمپسز کے خلاف ایچ ۔ ای ۔سی کے بیان سے ان یونیورسٹوں کے سب کیمپسز کے طلباء نے احتجاج کیاتھا۔
سرکاری یونیورسٹوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت یہ کیمپسز کھولے ہیں ۔ اس طرح کے کُل کیمسز کی تعداد 11 ہے اور ان کیمسز میں پڑنے والے طلباء کی تعداد 32000 سے زائد ہے ۔ لاہور میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے طلباء کے احتجاج پر وزیراعظم پاکستان نے نوٹس لیا اور ایچ ۔ای۔ سی کے چیئرمین کو دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی اور بعدازاں پنجاب کے وزیرتعلیم رانا مشہود کی یقین دہانی پر طلباء نے مسائل حل کروانے کی شر ط پر احتجاج ختم کیا۔
اور اب وزیراعلی کی بنائی ہوئی کمیٹی نے ان کیمپسزکو اس شرط پر اجازت دی ہے کہ وہ 180 دنوں میں اپنے تمام ماملات ٹھیک کریں اور ایچ۔ای۔سی سے منظوری لیں اور یہ ایک اچھا فیصلہ ہے یہاں ہی بات بھی قابل ذکر ہے کہ بہاوالدین زکریایونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر خواجہ علقمہ کو نیب نے یونیورسٹی کے لاہور میں سب کیمپس کھولنے میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔جہا ں علم کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں ہے وہاں اس علم کی روشنی کو پھیلانے والوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ۔
علم پھیلانے والا معلم کسی ملک کے بادشاہ سے بھی زیادہ قابل احترام رہا ہے اور خود رسول ﷺ نے بھی خود کو معلم کہلوایا ہے مگر پاکستان میں ان اساتذہ کے ساتھ جو سُتیلی ماں جیسا سلوک رواں رکھاجاتا ہے ۔ خواجہ علقمہ کا گھرانہ پاکستان بنانے کے حوالے سے بہت اہم ہے ۔ خواجہ نظام الدین اور خواجہ خیرالدین کے گھرانے کا یہ چشم و چراغ ،خواجہ علقمہ ، کرپشن کے چارچز کا سامنا کر رہا تھا جو سابق سفیر بھی رہا ہے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد اس درویش انسان کے پاس اپنا خو د کا گھر تک نہیں ہے۔
خیر یہ بات تو الگ ہے کہ ان پرکرپشن کے الزامات ثابت ہوتے ہیں یا نہیں مگر اخبارات نے جس طرح ایک ریٹائرڈ پروفیسر کو ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنے ہوئے دکھایا اور پولیس اہلکاروں نے جس طرح اُن کو دبوچ رکھا تھا اُ س یہ معلوم ہو رہا تھا کہ شاید کوئی بہت ہی خطرناک دہشت گرد ہاتھ لگا ہو۔جب کہ دوسری طرف اسی ملک میں ایان علی جس کے پاس سے بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی برآمد ہونے کے باوجود جس شان و شوکت سے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اُس سے اس معاشرے کا دہرا معیار سامنے آجاتے ہے کہ ایک استاد پر صرف الزام کی صورت میں دہشت گردوں جیسا سلوک اور جس سے رنگے ہاتھوں کرنسی برآمد ہوئی اُس کو پوری شان کے ساتھ کمرہ عدالت تک لے کے جایا جاتاہے۔
اس موقع پر مجھے اشفاق احمد مرحوم کا واقع یاد آرہا ہے جو اُنہوں نے خود نقل کیا۔ لکھتے ہیں کہ ” میں اٹلی میں یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا کہ ایک دن میرا چالان ہو گیااور مصروفیت کی وجہ سے چالان جمع نہ کروا سکا جس کی وجہ سے کورٹ جانا پڑا۔جج کے سامنے پیش ہوا تو اُس نے وجہ پوچھی ۔ میں نے کہا کہ،پروفیسر ہوں ،ایسا مصروف رہا کہ وقت ہی نہ ملا۔اس سے پہلے کہ میں بات پوری کرتا،جج نے کہا "A Teacher is in the Court"اُستا د عدالت میں؟ سب لوگ کھڑے ہوگئے اور مجھ سے معافی مانگ کر چالان کینسل کر دیا گیا۔
اُس دن میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا “ ۔
خیر اچھی خبر یہ ہے کہ اب سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواجہ علقمہ کو ضمانت پر رہا کر دیا ہے اور نیب کو چھ ماہ میں کوئی ثبوت پیش نہ کرنے پر خبردار کیا ہے ۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز ہے؟ ایک پروفیسر جس نے ساری زندگی اس ملک کی خدمت کی اُس کو اس طرح بنا ثبوت کے چھ ماہ قیدوبند کی عصوبتیں دیں۔ کیا پاکستان میں کوئی ایسا قانون ہے کہ جو اس شریف و نفس پروفیسر کو اس کی عزت اور یہ چھ ماہ واپس لوٹا دے؟ ایک طرف تو ایسے لوگ جو قانون کو اپنے بوٹوں تلے روند دیتے ہیں اُن کو گارڈ آف آنر دیا جاتا ہے پھر جب پاکستان کی ایک عدالت ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرتی ہے تو قانون میں جرات نہیں ہوتی کہ قانون پر عمل درآمد کر کے اُسے عدالت میں پیش کیا جائے بلکہ اُسے بڑی آسانی سے اس مُلک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے اور دوسری طرف ایک اُستاد کو اس طرح سے رسوا کیا جاتا ہے۔
میرا تو ان قانون کے رکھوالوں سے یہ سوال ہے کہ جب کوئی بااثر شخص جرم کرتا ہے تو اُسے سزا کیوں نہیں دی جاتی؟ اور جب کسی کو گرفتار کیا جاتا ہے اور کورٹ اُس کو رہا کر دیتی ہے تو ملزم کی جگ ہنسائی اور اُسکے نقصان کی تلافی کے لیے کیا کوئی قانون ہے؟ کیا اُس کی نفسیاتی تکلیف کا کوئی مداوا ہے؟ بہر حال خواجہ علقمہ نے یونیورسٹی سے جیل تک کا سفر کیا ہے جن ہاتھوں مین قلم ہوتا تھا اُن ہاتھوں نے ہتھکڑیوں کو جھیلا ہے خدا کرے خواجہ علقمہ کو انصاف ملے تاکہ مُلک میں اُستاد کا وقار بُلند ہو کیونکہ اُستاد قوم کا معمار ہوتا ہے اگر ہم اقوام عالم میں ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اپنے اساتذہ کو وہ عزت دینی ہو گی جس کے وہ حقدار ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

جیل

حافظ مزمل رحمان کے پیر مارچ کے مزید کالم



متعلقہ کالم