ان انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر !

منگل مارچ    |    محمد عرفان ندیم

تین سال پہلے کی بات ہے ملک کی ایک معروف علمی شخصیت کا انتقال ہو گیا ،میڈیا نے اس انتقال کو کوئی خاص کوریج نہ دی اور چند ایک اخبارات میں کالم چھپنے کے بعد بات آئی گئی ہو گئی ۔ تقریبا ایک ماہ بعد میں لاہور میں ایک مشہور عالم کی خدمت میں حاضر ہوا ،وہ ابھی تک اس شخصیت کی وفات کے صدمے سے باہر نہیں آئے تھے ،وہ بار بار ان کا تذکرہ کرتے اور ان کی باتیں دہراتے ،مجھے کچھ مبالغہ آرائی محسوس ہوئی اور میں نے عرض کیا ” حضرت ہر انسان نے اس دنیا سے جانا ہے اور وہ بھی ایک انسان تھے تو افسوس کس بات کا “ وہ بولے ” بات انسان کی نہیں علم کی ہے ، ایک عام آدمی جب دنیا سے جاتا ہے تو وہ اکیلا ہوتا ہے لیکن جب ایک عالم کی وفات ہوتی ہے تو پورا علم کا ایک جہا ن ہوتا ہے جو اس کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ،علم کی گود پچاس ساٹھ سال پرورش کے بعد ہمیں ایک ہیرا تراش کر دیتی ہے اور ہم اگلے ہی لمحے اسے کھو دیتے ہیں “ بات میری سمجھ میں آگئی تھی لیکن انہوں نے مزید وضاحت کی ” تم اپنے چوبیس میں سے کتنے گھنٹے علم اور تعلیم پر خرچ کرتے ہو “ میں نے عرض کیا ” میں چوبیس میں سے تقریبا سولہ گھنٹے علم اور تعلیم سے متعلقہ سرگرمیوں پر خر چ کرتا ہوں “ وہ بولے ” سولہ گھنٹے دینے کے باوجود تمہارے پاس کتنا علم ہے ، تم کس فن میں ماہر ہو ، تمہاری کتنی تصانیف ہیں ، کتنے لوگوں نے تم سے استفادہ کیا اور تمہارے کتنے شاگرد ہیں “ اتنے سارے سوالو ں کے جواب میں میرا جواب صفر تھا ،وہ بولے ” خود اندازہ لگاوٴ سولہ گھنٹے علم اور تعلیم پر خرچ کرنے کے باوجود تمہارے پا س علم کی الف اور ب بھی نہیں اور اگر تم مزید تیس چالیس سال بھی جی لو تب بھی تمہارا یہی حال ہو گا اور تب بھی تم اسی جگہ پر کھڑے ہو گے لیکن یہ جو شخصیت گئی ہیں تمہیں اندازہ نہیں کہ وہ کتنے بڑے صاحب علم اور کتنے بڑے عالم دین تھے ،ان کی علم، تعلیم ، قرآن ،حدیث ،فقہ اور دیگر علو م وفنون میں کتنی خدمات تھیں کیا تم یہ سب جاننے کے بعد بھی اسے ایک عام شخصیت کا انتقال کہو گے “ اس دن مجھے سمجھ میں آیا کہ ایک عالم کی موت عالم کی موت ہوتی ہے اور ایک عام انسان اور ایک علمی شخصیت کے انتقال میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔

(خبر جاری ہے)


جب سے مولانا عبید اللہ اشرفی مرحوم کی وفات کی خبر سنی ہے میں ابھی تک ان کی وفات کے صدمے سے باہر نہیں نکل سکا کیونکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے چوبیس میں سے بائیس گھنٹے اور ساٹھ میں سے پچاس سال علم ، علم اور صرف علم پر خرچ ہوتے ہیں ،یہ لوگ دن رات علم کا دیپ جلاتے ہیں اور علم بھی وہ جسے علم وحی کہا گیا ہے ، یہ لوگ سراپا علم ہوتے ہیں اور علم کو ان پر ناز ہوتا ہے ، یہ لوگ اٹھتے بیٹھتے ،بات چیت اور گفتگو کے دوران بھی علم کی گھتیاں سلجھاتے ہیں ،یہ لوگ حقیقت میں انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ، یہ لب کھولیں تو علم کے موتی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرتے چلے جاتے ہیں ،یہ علم میں اس قدر مستغرق ہوتے ہیں کہ ان ذات بذات خود علم بن جاتی ہے اور ایک لمحے میں ان کی ذات کے روئیں روئیں سے علم کے چشمے پھوٹتے لگتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی امت کی اصلاح و فلاح کے لیے خرچ کر دیتے ہیں ،جن کا ایک ایک پل عالم انسانیت کی فکر میں گزرتا ہے جن کی اپنی کوئی ذاتی زندگی اور ذاتی ترجیحات نہیں ہوتیں ،جب جہاں اور جس وقت مخلوق خدا کی خدمت اور دین اسلام کی سربلندی کا معاملہ درپیش ہو یہ لوگ وہاں کھینچے چلے آتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہیں جن کے دم سے قرن اولیٰ کی درسگاہیں قائم ہیں ،جن کے دم سے حدیث کی مسندیں آباد ہیں او ر جو خواب بھی دیکھیں تو خواب میں امام ابو حنیفہ ، امام بخاری ، امام طحاوی اور شاہ ولی اللہ کو دیکھتے ہیں اور جو اس دنیا سے جاتے ہوئے بھی قال اللہ و قال الرسول کا ورد کر رہے ہوتے ہیں اور اگر جانے والا مولنا اشرف علی تھانوی ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولاناانور شاہ کشمیری کی نسبتوں کا امین ہو تو پسماندگان کا دکھ سوا ہو جاتا ہے ۔
مولانا عبید اللہ کی موت ایک عام انسان کی موت نہیں تھی علم کا ایک جہاں تھا جو اس دنیا سے اٹھ گیا ۔ ایک طالبعلم کی حیثیت سے مجھے بھی ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل ہوا ،بلا شبہہ وہ علم کے پہاڑ تھے ،طحاوی جیسی مشکل کتاب جس سہل انداز میں پڑھاتے تھے صرف کا خاصہ تھا ، ذہانت اور یادداشت کا یہ عالم تھا کہ کبھی مطالعہ کر کے نہیں آئے ، بلکہ کہا کرتے تھے وہ علم ہی کیا جو کتاب کے بغیر مستحضر نہ ہو ،کئی بار چشمہ گھر بھول آتے ،عبارت پڑھنی دشوار ہوتی تو کتاب بند کر دیتے اور کسی طالبعلم سے عبارت پڑھواکر اس کا مفہوم سمجھا دیتے اور جب پریڈ کے آخر میں جانے لگتے توکہتے ”آج میں نے آنکھوں کے بغیر سبق پڑھایا ہے اللہ کرے تمہیں سمجھ آ جائے “ دوران سبق خوبصورت اور بامعنیٰ اشعار سناتے ،کئی بار طلبہ اصرار کرتے اور خوب اشعار سنتے ، انہیں عربی ،فارسی اور اردو کے لاتعداد اشعار ازبر تھے۔
کبھی کبھی یادوں کی پٹاری کھولتے اور طلبا ء کو اپنے ماضی کے واقعات سناتے ، ایک بار بتانے لگے کہ جب میں دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے لیے گیا تو میرے ممتحن شیخ الادب مولانا اعزاز علی قرار پائے ، وہ سخت رویے اورمشکل امتحان لینے کے حوالے سے مشہور تھے ، جب میں ان کے سامنے بیٹھا تو ایک نظر دیکھا اور کہنے لگے خوامخواہ منہ اٹھا کر چلے آتے ہو جاوٴ پہلے جا کر فنون اچھی طرح پڑھو ابھی یہ عمر نہیں دورہ حدیث کی ۔
کہتے ہیں میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا ” حضرت آپ امتحان تو لے لیجئے“ چناچہ انہوں نے امتحان لیا اور میری ذہانت کے قائل ہو گئے ، مشکل سے مشکل مباحث اور مسائل پوچھتے رہے اور میں سب کا جواب دیتا رہا بالآخر پونے دوگھنٹے امتحال لینے کے بعد انہوں نے مجھے داخلہ دہے دیا ۔ ایک بار دوران سبق بتانے لگے کہ میرے جیسی دو خصوصیات حضرت تھانوی کے کسی خلیفہ کو حاصل نہیں ،ایک یہ کہ میں نے پند نامہ سے لے کر بخاری تک ہر کتاب کی ابتدا اور انتہا حضرت تھانوی سے کی اور دوسری یہ کہ حضرت تھانوی نے ا یک مجلس میں جس میں بڑی بڑی شخصیات موجود تھیں میری گدی پر تین بار اپنا ہاتھ مارا اور کہا ” جسے دیکھو نوابزادہ بنا پھرتا ہے “ ۔
دوران سبق بتایا جب میں دارالعلوم سے فراغت کے بعد واپس آنے لگا تو مولانا اعزاز علی نے ایک کتاب تحفے میں دی اور اس پر لکھا ھدیتہ الی فذة قلبی ( یہ ہدیہ میرے جگر کے ٹکڑے کے لیے ہے ) ۔ ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ تھا کہ 95سال کی عمر میں بھی ان کے اندر کا بچپنا پن ختم نہیں ہوا تھا ،خوشی کے موڈ میں ہوتے تو زور دار قہقہہ لگاتے اور کئی بار ہاتھ پر ہاتھ مارنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیتے ۔عموما تسبیح گلے میں ڈال لیا کرتے تھے ، چلتے ہوئے خود سے خودکلامی کرتے رہتے اور منہ میں گنگناتے رہتے ، فقر ،غنا اور سادگی کی ان پر انتہا تھی ۔
ان کی آواز میں جاد و تھا قرآن پڑھتے تو سننے والے ساکت و جامد ہوجاتے ، جمعے کے بعد جب دعا کرواتے اور مخصوص لہجے میں ” اللہ جی اللہ جی “ کہتے تو حاضرین کی آنکھیں بلا ساختہ چھلک جاتیں ۔ ” اللہ جی ایمان کی موت ، پاکستان ، عالم اسلام اور دینی مدارس “ ان کی دعا کا لازمی حصہ تھے ۔ مولانا عبیدا للہ مرحوم جیسے صاحب علم اور صاحب نسبت لوگ امت کا مشترکہ سرمایہ ہوتے ہیں ۔ صاحب علم اٹھ رہے ہیں ، علم کی گود خالی ہوتی جا رہی ہے اور ہم تیزی سے اس دور کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے بارے میں نبیء مہربان نے فرمایا تھا کہ قرب قیامت علم کو اٹھا لیا جائے گا ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر مارچ کے مزید کالم