مردم شماری ایک بار پھر موخر

جمعرات مارچ    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

پاکستان میں مردم شماری ہر دس سال کے بعد ہوتی ہے۔سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چارسال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور1998 میں ہوئی۔1972 والی مردم شماری اصل میں 1971 کو ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔ پاکستان میں آخری بار مردم شماری 1998ء میں کرائی گئی۔
جنوبی ایشیاء کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لئے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔
20 کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے۔ 796095 مربع کلومیٹر (307,374 مربع میل) کے ساتھ یہ دنیا کا چھتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے۔ اس کے جنوب میں 1046 کلومیٹر (650 میل) کی ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ عرب سے ملتی ہے۔

(خبر جاری ہے)

پاکستان کے مشرق میں بھارت، شمال مشرق میں چین اور مغرب میں افغانستان اور ایران واقع ہیں۔ پاکستان کو شمال میں ایک تنگ واخان راہداری تاجکستان سے جدا کرتی ہے جبکہ اس ملک کی سمندری سرحدی حدود عمان کے سمندری حدود سے بھی ملتی ہیں۔


کسی بھی ملک کی پالسیاں بننے اک انحصار وہاں کی آبادی کے درست اعداو شمار پر منحصر ہوتا ہے لیکن اگر آپکو یہی پتہ نہ ہو کہ آپکے گھر میں کتنے افراد کتنی عمر اور ان کی ضرورتیں کیا ہیں آپ اس گھر کا بجٹ نہیں بنا سکتے یہ تو پورے ملک کی بات ہے۔ مردم شماری کے حوالے سے گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کے اتفاق رائے سے مارچ 2016 میں ملک میں چھٹی مردم شماری کرانے کا اعلان کیا تھا۔ جس میں ضرورت پڑنے پر سول آرمڈ فورس اور پاک فوج کی خدمات بھی فراہم کی جانے کی بات بھی سامنے آئی تھی ۔
یہ فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔اجلاس میں چھٹی مردم شماری اور خانہ شماری مارچ 2016 میں کرانے کی منظوری دے دی گئی تھی جس پر تیرہ ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور فیصلہ کیا گیا تھا کہ مردم شماری کیلئے جہاں ضرورت پڑی سول آرمڈ فورس اور پاک فوج کی خدمات بھی فراہم کی جائیں گی۔
لیکن نامعلوم اور ناگزیر وجوہات کی بنا پر پندرہ سال بعد ہونے والے مردم شماری پھر موخر کر دی گئی اور کہا گیا کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گاپاکستان میں حکومت نے ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز کی وجہ سے مردم شماری کا عمل موخر کرنے کا فیصلہ کیا ۔
یہ فیصلہ بھی وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کی صدارت میں منعقدہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔اس سلسلے میں وزیرِ اعظم ہاوٴس سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا کہ مردم شماری کی نئی تاریخ کا اعلان تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔بیان کے مطابق ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز اور فوج کی مصروفیات کی وجہ سے ماضی میں دی گئی تاریخ پر مردم شماری کروانا ممکن نہیں ہوگا۔
۔اس سے قبل ملک میں پانچ مرتبہ آبادی کا تخمینہ لگانے کے لیے مردم شماری کروائی گئی ہے۔ پاکستان میں آخری مردم شماری سنہ 1998 میں ہوئی تھی۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پہلے ہی مجوزہ مردم شماری پر تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بعض بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں کے درمیان یہ بات ہمیشہ متنازع رہی ہے کہ بلوچستان میں کون اکثریت میں ہے۔
ماضی میں جو مردم شماریاں ہوئیں انھیں پشتون قوم پرستوں نے تسلیم نہیں کیا جبکہ اس مرتبہ بلوچ قوم پرست جماعتوں کا کہنا ہے کہ سازگار حالات کے بغیر مردم شماری ہوئی تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔بلوچ قوم پرستوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین بھی آباد ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد نے پاکستانی شہریت کی دستاویزات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔
معلوم اعداد و شمار اور دانشوروں کے مطابق مردم شماری پاکستان میں ایک انتہائی چیلنجنگ اور متازع امر رہا ہے۔
جب ایک قوم درست طور پر اپنی آبادی کی تعداد گننے سے قاصر ہوتی ہے تو سیاسی، معاشی، عمرانی اور ترقیاتی اعتبار سے اس کے اہم نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک کی شہری آبادی جنوبی ایشیاء میں سب سے زیادہ ہے۔مردم شماری عوام کی گنتی سے زیادہ ایک اہم کام کرتی ہے، یہ اہم سماجی اور معاشی عوامل کی نشاندہی کرتی ہے جس میں آبادی میں اضافے کی شرح اور اس کا پھیلاوٴ، دیہی اور شہری آبادی کی تقسیم، عمر کا ڈھانچہ، شرح خواندگی، تعلیم کا حصول، ملازمت، ہجرت اور صحت عامہ کی سہولتوں کی نشاندہی۔
یہ تمام عوامل ترقیاتی منصوبہ بندی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور صحت اور تعلیم کیلئے وسائل مختص کرنے کیلئے اہم ہیں، آج صوبائی تعلیم کے صوبائی محکمے اہم مصرفی فیصلوں کیلئے مبہم اعدادوشمار استعمال کرنے پر مجبور ہیں اور پھر قومی وسائل میں سے صوبوں کے حصوں کی تقسیم کا اہم ترین مسئلہ بھی ہے، قومی اقتصادی کمیشن (این ایف سی) کا گزشتہ ایوارڈ 1998ء کے اعدادوشمار کی بنیاد پردیا گیا حالانکہ اس کی وجہ سے وسائل کی تقسیم میں آبادی کی بنیاد کے محرک کے وزن کو کم کردیا گیا تاہم آبادی 82 فیصد کے ساتھ وسائل کی تقسیم میں سب سے بڑا محرک رہا۔
اس کی وجہ وسائل کی تقسیم کا فیصلہ آبادی کے موجودہ اعدادوشمار کی بنیاد پر کرنا بے حد ضروری ہوگیا، جوکہ صرف مردم شماری سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ وہ تنازعات جن کی وجہ سے مردم شماری متعدد مرتبہ التواء کا شکار ہوئی ان کا تعلق صوبوں کی جانب سے قومی وسائل میں سے حصے کا دعویٰ کرنے اور صوبوں میں اندرونی سطح پر لسانی جھگڑے ہیں لیکن مردم شماری کو خاص طور پر ان تنازعات کی نذر نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبے کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ نادرا کے پاس عوام کی ذاتی معلومات اور شہریوں کی شناخت کے اعدادوشمار جمع کرنے کیلئے کمپیوٹر اور جدید ٹیکنالوجی موجود ہے لیکن اعدادوشمار جمع کرنے کی بنیادی مشق نہیں کی جا سکتی۔سوچنے کاا مر تو ہے مگر سوچنے کا تردد کون کرئے؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

مردم شماری

ڈاکٹر اویس فاروقی کے بدھ مارچ کے مزید کالم



متعلقہ کالم