جذبات اہم۔۔۔لیکن ٹیم بھی اپنی

جمعرات مارچ    |    سید شاہد عباس

لالہ نے بھارت میں جب پریس کانفرنس کر کے محبت کی پینگیں بڑھائیں تو راقم خود تنقید کرنے والوں میں شامل تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ دل و دماغ میں ظاہری حالات کی کارسازی بھی تھی۔میں تنقیدی جائزے کے طور پہ لکھ بھی چکا ہوں کہ بے شک لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچی ہے۔ اور کروڑوں کی دل آزاری بھی ہوئی ہے ۔ یقینا لوگ شاہد خان آفریدی سے اس بیان کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اور راقم نے بھی یہی لکھا کہ جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔
لیکن تھوڑا سا افسوس یہ ہوا کہ صرف تنقید ہی موضوع بنا لیا گیا ہے۔ ایک لکھاری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ میں دونوں پہلو عوام کے سامنے رکھوں اور لوگوں کو خود فیصلہ کرنے دوں کہ بے شک اس بیان پر تنقید بھی بجا ہے لیکن اس بیان کا سیاق و سباق کیا ہے۔

(خبر جاری ہے)


آفریدی کے بیان کے بعد پورا ملک تپا بیٹھا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں تو باقاعدہ رٹ دائر کر دی گئی ہے کہ باز پرس کی جائے۔ جاوید میاں داد کی ایک ویڈیو بھی گردش میں ہے جس میں وہ لالہ کو لتاڑ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ سابق کھلاڑیوں کی اکثریت نے بھی لالہ کی وہ کلاس لی ہے جس کی توقع نہیں کی جا رہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ سری لنکا کے خلاف میچ میں صفر پر آؤٹ ہونا بھی لالہ کے خلاف گیا۔ اور تلخ و مزاح سے بھرپورلطائف وجود میں آنا شروع ہو گئے۔ کوئی شک نہیں کہ بیان غلط موقع پر دیا گیا اور بظاہر اس کا تاثر بھی غلط جا رہا ہے لیکن اس امر پہ غور کرنا بھی ضروری ہے کہ ایسے وقت میں جب آپ حفاظتی حصار میں کھیلنے پر مجبور ہوں۔
پچ اکھاڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں۔ نقصان پہنچنے کا اس قدر احتمال ہو کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کی انشورنس کروا لے۔ تو ایسے موقع پر اس بیان کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہاں کی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنا مقصد تھا۔
صرف ایک لمحہ رک کر جائزہ لیں کہ سخت ٹینشن کے اس ماحول میں آفریدی کے بیان سے فرق کیا پڑا؟ اس بیان سے جہاں بظاہر پاکستانی قوم کو لگ رہا ہے کہ بناء سوچے سمجھا دیا گیا ہے۔
وہیں اس بیان کے بعد بھارتی رائے عامہ اور بھارت میں موجود شدت پسند عناصر آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ اب اگر شدت پسندانہ بیان سامنے آتا ہے تو کچھ بعید نہیں کہ وہاں کے عوام ہی ان عناصر کے خلاف اٹھ کھڑئے ہوں گے جو کرکٹ کو روکنے کے درپے ہیں۔ پہلے دن بھارتی میڈیا نے آفریدی کے بیان کو کسی قدر تمسخرانہ انداز میں پیش کیا لیکن ایک دن بعد ہی یہ روش بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ ساور گنگولی، سچن ٹنڈولکر، کپل دیو پاکستان کے حق میں بیانات دیتے نظر آ رہے ہیں۔
بے شک ان کے بیانات کرکٹنگ علم کے حوالے سے ہیں لیکن بہر حال آفریدی کے بیان کے بعد آئے۔ جیسے ٹنڈولکر نے کہا کہ پاکستان آسان حریف نہیں ہے اور محمد عامر اور وہاب جیسے ورلڈ کلاس باؤلر پاکستان کے پاس ہیں جو کسی بھی ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اب عمران خان بھی میچ دیکھنے جائیں گے۔ اور شنید ہے کہ سارو گنگولی انہیں ایک ایوارڈ سے بھی نوازیں گے۔ اب اگر عمران خان بھی محبت کا شکریہ ادا کریں تو کیا اس پہ بھی اعتراض ہو گا؟
ایک لمحے کے لیے آفریدی کو بطور کھلاڑی بھول جائیں اور صرف بطور قائد یاد رکھیں۔
جو ایک ایسے موقع پر کھلاڑیوں کی راہنمائی کر رہا ہے جب دہشت سی ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔ میچ تک منتقل ہو چکا ہے۔ پچ اکھاڑنے کی دھمکی دی جا چکی ہے۔ ایسے موقع پر کیا وہاں کی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے بیان دیا بھی گیا ہے تو کیا کچھ ایساانہونا ہو گیا ہے جو پہلے نہیں ہوا؟ اتنی تنقید تو ماضی قریب میں پاکستانی شہریت چھوڑنے والے عدنان سمیع پہ نہیں ہوئی ۔عاطف اسلم یہاں بے سُرا کہلایا جاتا تھا۔
وہاں گیا تو ہمارا بھی ہیرو بن گیا۔ اسے سنگر ہم نے تو نہیں بھارتیوں نے ہی بنا کر واپس بھیجا۔ راحت آج راحت ہے تو اس میں دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ وہاں گا کر بنا۔ یہاں تو اس کوئی پوچھتا نہ تھا۔ عام بھارتی شدید تنقید کے باوجود بھی غلام علی سے تعلق چھوڑنے پہ تیار نہیں جب کہ یہاں کتنے لوگ ہیں جو انہیں اتنا والہانہ چاہتے ہیں۔یہاں کے ناکام پتے وہاں سے کامیاب گھوڑے بن کے آ جاتے ہیں تو ہمارے ہیرو بن جاتے ہیں۔
جذبات اپنی جگہ اہم ہیں لیکن یاد رکھیں ٹیم ہماری اپنی ہی ہے۔
خدارا! راقم بھی آفریدی کے بیان پر اختلاف رکھتا ہے اور اس کا پہلے شائع ہونے والے ایک کالم میں اظہار بھی کھلے لفظوں میں کر چکا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ آفریدی ٹیم نہیں پاکستان کا نمائندہ ہے۔ اسے ایسے سخت نا مساعد حالات میں بھی 15خاندانوں کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ جانوں کا خطرہ درپیش ہو تو ایسے بیانات سے کوئی آسمان نیچے نہیں گر جاتا۔
ایک سیاہی کا قطرہ بھی وہاں ان کی طرف بڑھتا ہے تو کیا عزت رہ جائے گی پاکستانی دستے کی ؟ تمام ٹیم کو شہریار خان نے ملاقات میں آپشن دیا کہ کوئی بھی چاہے تو دورے سے انکار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک بھی کھلاڑی نے انکار نہیں کیا۔ تنقیدی عناصر کو بھی ذرا انہی حالات میں وہاں بھیجیں تا کہ حالات کی سنگینی کا انہیں بھی اندازہ تو ہو۔ دست بدست عرض ہے کہ اگر آغاز سے پہلے ہی ایسا رویہ رکھیں گے تو جیت کا تصور بھی چھوڑ دیں۔ مہم شروع بھی نہیں ہوئی اور کھلاڑی ہماری اپنی وجہ سے ہی دباؤ میں آ گئے۔ تو آگے کیا ہو گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے جمعرات مارچ کے مزید کالم