نائی کی دکان!

ہفتہ مارچ    |    نبی بیگ یونس

میں اُس کو نہیں جانتا تھا لیکن ایک ہی علاقے میں رہنے کی وجہ سے چہرہ شناسا لگ رہا تھا۔ بہت گالیاں دے رہا تھا میڈیا والوں کو، بہت غصے میں لگ رہا تھا، کہہ رہا تھا کہ میڈیا نے ممتاز قادری کے جنازے کوکوریج نہیں دی، اُس کا نام تک نہیں لیا۔جو گالیاں منہ میں آرہی تھی دیتا جارہا تھا۔ میں بھی ہیئر ڈریسر کی ہی دکان پر بال بنوارہا تھا اور آئینے سے اُسے گور رہا تھا۔وہ پڑھا لکھا ہوتا تو جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے میں اُسے حقائق بتا ہی دیتا، لیکن میں دل کو تسلیاں دیتا رہا کہ اَن پڑھ آدمی سے بحث میں الجھنا بیوقوفی ہے۔

میڈیا کو گالیاں دینے سے بھی اُسکی پیاس نہ بجھی تودل کو ٹھنڈا کرنے کیلئے نواز شریف کو گالیاں دینے لگا کہ اُن کے کہنے پر میڈیا نے قادری صاحب کے جنازے کو سکرین پر نہیں دکھایا۔

(خبر جاری ہے)

اپنی بے تُکی تقریر کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگااگلا وزیر اعظم عمران خان اور صدر پرویز مشرف ہونگے، باقی سب کی چھٹی۔ ۔۔ یہ سننے کے بعد مجھے بخوبی اندازہ ہوا کہ یہ اَن پڑھ ہی نہیں بلکہ اپنا دماغ بھی کہیں چھوڑ آیا ہے۔

یہ کچھ دنوں پہلے کی بات ہے جب کہا جاتا تھا کہ مشرف بہت بیمار ہیں اور وہ علاج کیلئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، اور اگر انہیں فوری طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت نہ ملی تو انہیں فالج کا خطرہ ہے۔ لیکن ہر ذی شعور انسان سمجھتا تھا کہ یہ ایسا ہی ڈرامہ ہے جیسا مشرف صاحب پہلے بھی کرچکے ہیں، مشرف صاحب پہلے بھی اے ایف آئی سی میں 89 دن تک رہے اور یہی تاثر دیا تھا کہ وہ بہت علیل ہیں، بعدازاں پتہ چلا کہ وہ سب ٹوپی ڈرامہ تھا ۔
اس مرتبہ بھی دبئی پہنچتے ہی وہ سگار سلگاتے نظر آئے۔ مشرف صاحب کا ماضی یہی کہتا ہے کہ وہ کمانڈو نام کے ہیں وہ اندر سے ڈرپوک ۔
جہاں تک عمران خان کی بات ہے وہ اچھے کرکٹرضرور رہے ہیں ، لیکن ضروری نہیں کہ جو شخص ایک پیشہ میں اچھا ہو وہ ہر فن مولا بن جائے۔ خان صاحب جتنے اچھے کرکٹر تھے سیاست میں اتنے ہی لائق ثابت نہیں ہوئے۔یہ صرف میں نہیں بلکہ خان صاحب کے چاہنے والوں کی بھی اب یہی رائے ہے۔
یہ تو کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک ٹیلی وژن ٹاک شو میں ان سے کینسر ہسپتال کی پراگریس پر سوال کیا گیا تو جواب میں موصوف نے کہا کہ ہمارا لاہور کا کینسر ہسپتال اتنی ترقی کررہا ہے کہ افغانستان سے ایک اعلیٰ طالبان کمانڈر بھی یہاں سے علاج کرواکے گیا اور بعد ازاں طالبان نے مجھے شکریہ کا خط بھی لکھا۔۔۔ اس بات کا انکشاف خان صاحب نے ایسے وقت پر کیا جب ڈاکٹر عاصم کے خلاف اِس بنا پر انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا گیا کہ ان کے ہسپتال میں طالبان سے تعلق رکھنے والوں کے علاج کرانے کا شبہ تھا۔
خان صاحب کا انٹرویو شام پانچ بجے ریکارڈ ہوا اور اِسے رات آٹھ بجے چلنا تھا، لیکن ٹیلی وژن پر عمران خان صاحب کا طالبان لیڈر کے علاج بارے انکشاف کی خبر چھ بجے ہی بریکنگ نیوز کے طور پر چلی جو نہ خان صاحب اور نہ ہی اُنکی پارٹی کیلئے اچھا تھا۔ ۔۔ یعنی خان صاحب کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ خیر خان صاحب اکثر ایسے بیانات دیتے رہتے ہیں جن کا کوئی سر نہ پیر ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ سیاست کا میدان ہے، کرکٹ کا نہیں جہاں ایک بال پر چوکا ہو تو دوسری یارکر یا باؤنسر ماری جاتی ہے ۔
عمران خان اور مشرف کے وزیر اعظم یا صدر بننے کی تو دور کی بات ہے لیکن انہیں نائی کی دکان پر اُن کے بارے میں اچھی رائے رکھنے والے اَن پڑھ شخص کا بھرم رکھنا چاہئے جو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ پاکستان کے اگلے وزیر اعظم اور صدر ہونگے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نائی کی دکان پر بھی ان کا کوئی حمائتی نظر نہ آئے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

نبی بیگ یونس کے جمعہ مارچ کے مزید کالم