بے روزگاری بم: جو پھٹا تو پھر کچھ باقی نہ رہے گا

ہفتہ مارچ    |    حافظ ذوہیب طیب

مجھے آج ایک دفعہ پھر وہ واقعہ یاد آرہا ہے جب لاہور کے ایک سینئر پولیس افسر نے میرے سامنے ایک ایسے نوجوان کو پیش کیا جو پولیس کو کئی وارداتوں میں مطلوب تھا۔ بظاہر معصوم اور کسی نیک خاندان کا چشم و چراغ نظر آنے والا یہ نوجوان ڈکیتیوں کی کئی وارتوں میں ملوث تھا ۔ اس کی کہانی میرے، حکمرانوں اور صاحب ثروت لوگوں کے لئے کسی طمانچے سے کم نہ تھی۔ یہ نوجوان انجئیرنگ کی تعلیم حاصل کر نے کے دو سال تک نوکری کی خاطر مختلف دفتروں کے چکر کاٹتا رہا۔
اس دوران اس کا باپ جو ٹی۔بی کے مرض میں مبتلا تھا، علاج اور دوائیوں کے پیسے میسر نہ ہونے کی وجہ سے موت کی وادی کا مسافر بن گیا تھا۔ بوڑھی ماں اور 3جوان بہنوں کی ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے، زمانے کی ستم ظریفیوں کی وجہ سے ،بالآخر جب ایک روز تھک ہار کر جرم کی دنیا کا باسی بن جا تا ہے ۔

(خبر جاری ہے)


میرے اور پولیس افسر کے نزدیک اس اور اس جیسے کئی نوجوانوں کو ملزم، مجرم، چور، ڈکیت اور ان جیسی لعنتوں میں مبتلا کر نے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارا معاشرہ ، حکمران اوریہ سسٹم ہے ۔

یہ تو صرف ایک کہانی ہے جو میں نے ذاتی طور پر دیکھی لیکن ماضی قریب میں میڈیا میں رپورٹ ہو نے والی ڈکیتی اور چوری سمیت دہشت گردی کی کئی وارداتوں میں ملوث کئی ایسے نوجوان ہیں جو ملک کے معروف تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت شہباز تاثیر کی رہائی کے بعد ملنے والے شواہد کی روشنی میں لاہور کی ایک یونیورسٹی کے طالبعلم اور اسکے ساتھیوں کی گرفتاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق اس گروہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نہ وہ صرف شہباز تاثیر کے اغوا ء میں ملوث تھے بلکہ ایک امریکی امدادی عہدیدار کو بھی انہوں نے ہی اغواء کیا تھا۔

قارئین !بے روزگاری کی وجہ سے یہ مسئلہ اس قدر خوفناک نوعیت کا ہو چکا ہے کہ اگر ہمارے اربا ب اختیار نے اس پر بھی کوئی ایکشن نہ لیا تو ”بے روزگاری بم“ ایٹم بم سے زیادہ تباہی مچا سکتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارم برائے لیبر فورس 2014-15کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ دور حکومت میں بیروزگاری کی شرح 13سالوں کے مقابلے میں انتہائی حد تک جا پہنچی ہے ۔ اور پریشان کن بات تو یہ ہے کہ ناخواندہ افراد کے مقابلے میں خواندہ افراد میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے ۔
رپورٹ کے مطابق 15سے 29سال کی عمر کے 10لاکھ سے زائد مرد تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ملازمت تلاش کر رہے ہیں لہذاان کی جانب سے جرائم اور شدت پسندی کی جانب مائل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
قارئین کرام ! ظلم تو یہ ہے کہ جہاں ہمارے حکمران سنگین ہوتے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے فوری طور پر انقلابی اقدامات اٹھاتے وہاں اس موقع پر بھی
صرف زبانی کلامی نعروں پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے ۔
بظاہر معلوم ہو تا ہے کہ ان کے پاس اس صورتحال سے نبٹنے کا کوئی حل بھی موجود نہیں ۔ بلکہ ہمیشہ کی طرح صرف ”آنیاں جانیاں“ہی ہیں جن کے لشکاروں کی وجہ سے عوام کی آنکھوں کو وہ چندھیا دینے کے یہ ماہرہیں ۔ اس کی تازہ مثال اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوری کر نے والے بچوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہے کہ بغیر کسی پلاننگ کے اور قطع نظر اس کے وہ کس مجبوری کے تحت چند ٹکوں کی خاطراپنے بچپن کے ایام کو جسم کو جھلسا دینے والی آگ اورموسموں کی سختی کے نام کر دیتے ہیں ۔

وہ مجبوری ان کے گھروں میں فاقے ہیں، ان کی جوان بہنیں ہیں ،جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہیں ، ان کے چھوٹے بہن بھائیوں کی سکول کی فیس ہے ۔ جب ان مجبوریوں کو پورا کر نے والی ان کی واحد ضرورت کو بھی بغیر سوچے سمجھے کہ اس کے بعد، ان کی یہ تما م ضروریات کون پوری کرے گا ؟، سیاسی سکورننگ حاصل کر نے کے لئے سیاست چمکانے کی نظر کر دیا جا تا ہے تو پھر وہ پوری زندگی یا تواپنی عزت دیہات کے زمیندار کے گھر گروی رکھ کر بے غیرتی کی زند گی گذارنے پر مجبور ہو گا نہیں تو پھر جرائم کی دنیا کا مسافر بن کر بے روزگاری ایٹم بم کلب کا ممبر بن کر کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے جس کی وجہ سے اونچے اونچے محلات کے ٹھنڈے کمروں میں رہنے والے حکمرانوں ، جاگیرداروں اور ان غریبوں کے خون پسینے کی کمائی پر سیر سپاٹے کر نے والے لوگوں کو پھر سنبھلنے کا وقت بھی میسر نہیں آئے گا۔

قارئین محترم !یاد رہے میں یہاں بھٹہ مالکوں یا بچوں کی مزدوری کے حق میں نہیں ۔لیکن میرے نزدیک یہ اس مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تباہی کا باعث بنے گا۔ ارباب اختیار کئی کئی روز سے فاقوں پر رہنے والے ان گھروں میں کم از کم روٹی کا بندوبست سمیت تعلیم اور بنیادی صحت کی سہولیات مہیا کرتے ہوئے پھر اس کے خلاف ایکشن لیتے تو کئی اچھا ہو تا۔ اب بھی وقت ہے کہ حکمرانوں سمیت معاشرے کے امرا ء و طاقتور طبقہ ،سنجیدہ اداروں کی طرف سے معاشرے کے لئے ایٹم بم سے بھی خطر ناک ”بے روزگاری بم “کی رپورٹ پر نظریں جمائیں اور سنجید گی کے ساتھ سر جوڑ کر اس بارے سوچیں۔ اگر اس مسئلے پر معاشرے پر یونہی اجتماعی خاموشی طاری رہی تو کچھ بعید نہیں آج نہیں تو کل ہم خود ہی اپنی بر بادی کی وجہ نہ ٹہریں۔اللہ کرے ایسا نہ ہو
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے ہفتہ مارچ کے مزید کالم