رنگ برنگ

پیر مارچ    |    محمد ثقلین رضا

## جب بھارت میں کوئی مسلمان صدر بن سکتاہے تو پھر پاکستان میں کوئی ہندو کیوں نہیں؟ہم مسلمانوں ‘اقلیتوں کیلئے یکساں قوانین والا پاکستان بنائیں گے؟ بلاول بھٹو منظر عام پرآتے ہی پھر متنازعہ باتیں کرنے لگے
#بلاول بھٹو کے سپیچ رائٹرز شاید نہیں جانتے کہ موصوف ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں‘ اور شاید انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ موجودہ آئین پاکستان بھی بھٹو نے ہی تیار‘منظورکرایاتھا ۔
جس کے ماتھے پر کنداں ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ آگے تشریحات میں وزیراعظم ‘صدر کے حوالے سے بنیادی شرط ہی مسلمان ہونا قرار پایا۔ ہوسکتاہے کہ بلاول بھٹو کی یہ خواہش دراصل ان قوتوں کی خواہشات کا مظہر ہے جو پاکستان کو نام نہاد لبرل ازم کی طرف لے جاناچاہتے ہیں‘ ایک سازش کے ساتھ مگر آہستگی سے مہرے چلنے والے یہ ہاتھ اب پاکستان کو اس مقام پر لے ہی آئے کہ ہرسو یہی آواز اٹھ رہی ہے۔

(خبر جاری ہے)

خاص مگر حیران کن طورپراقلیتوں کے نام پر جس قسم کی سیاست جاری ہے وہ سمجھ میں نہ آنیوالا مسئلہ بن چکاہے۔

ملک کی دس فیصد سے بھی کم اقلیتوں کے حقوق سے کسے انکار مگر انہیں باقی نوے فیصد لوگوں پر اہمیت دینا نجانے کس ایجنڈے کاحصہ ہے؟
بہرحال بلاول بھٹو کی سابقہ تقاریرکی طرح ہوسکتاہے کہ آئندہ دو روز میں کوئی نہ کوئی وضاحت یا تردید آجائے مگر دل کی بات بہرحال زبان پر آہی گئی۔ ویسے ایک عجیب بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور بااثر سیاسی شخصیات جس بھی کمیونٹی میں جاتے ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا ”دل جیتا “ جائے اوراس کے لئے وہ ہربات کہہ گزرتے ہیں جیسا کہ ماضی میں الطاف حسین اور نوازشریف بھارت میں جاتے ہی دو قومی نظریہ کی تضحیک پر اتر آئے۔
دیکھنا یہ ہے کہ اسلام اوراسلامائزیشن کی تضحیک ‘توہین کے بعد کس قسم کا نیا پاکستان ”لبرل پوٹلی“ سے نکلتا ہے
##پاکستان کرکٹ ٹیم میں گروپنگ کے انکشاف کے بعد واضح تردیں سامنے آنے لگیں‘اخبارات میں شائع ہونیوالی خبریں
#حیرانی تو انکشاف کرنے والوں پر ہورہی ہے جو ماضی کی حقیقتوں کو تاحال جان نہیں پائے‘آصف اقبال ‘سرفراز نواز‘ عمران خان کے دور سے لیکر آج شاہد آفریدی تک ہردو ر میں ٹیم مخصوص گروپ میں تقسیم رہی ہے‘ مگر یہ عمران خان کی ریٹائرڈ منٹ کے بعد زیادہ ابھر کا سامنے آیا۔
وقار یونس‘ وسیم اکرم کی طوفانی جوڑی جب اکٹھی تھی تو ٹیم کی کامیابیوں کی شرح بہت بلند رہی مگر کرکٹ بورڈ کے کچھ ”نادیدہ“ ہاتھ کام دکھاگئے اور جوڑی ٹوٹتے ہی دو واضح گروپ سامنے آگئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ خاص طورپر وقار یونس نے جونہی کوچ کا عہدہ سنبھالاتو اختیارات کی جنگ شروع ہوگئی ‘ حالانکہ کرکٹ میں کوچ کی ذمہ داری شروع ہی اس وقت ہوتی ہے جب ٹیم اسکے حوالے کی جائے مگر یہاں کا باواآدم ہی نرالہ ہے‘ ٹیم کی سلیکشن میں بھی کوچ کی مداخلت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پلیئر زپاورکا چنگل تاحال کرکٹ ٹیم کے ساتھ بھوت کی طرح چمٹاہوا ہے ۔
ایک خاص مگر افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بذات خود ٹیم کی تقسیم میں ملوث ہے ‘بورڈ کے کارپردان بذات خود نہیں چاہتے کہ کھلاڑی متحدہوکر خود بورڈ کیلئے خطرہ بن جائیں ۔ دوسری اور اہم بات کہ سالوں سے کرکٹ بورڈ سے چمٹے ہوئے خواہ مخواہ کے اضافی بوجھ سے بھی چھٹکارا حاصل کئے بغیر بھی اس ٹیم کا ڈسپلن میں آنا ممکن نہیں‘ابھی کچھ ہی عرصہ قبل جب آئی سی سی نے تمام اراکین ممالک کی حکومت کو وارننگ دی تھی کہ وہ سیاسی بنیادوں پر اپنے بورڈ وں میں تقرریاں نہ کریں خاص طورپر بورڈ کا سربراہ سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً ووٹ کی بنیاد پر ٹیکنیکل پرسن ہی نامزد کیاجائے تو اس وقت کی پاکستانی حکومت نے اس واضح ہدایت کو کونوں کھدروں میں دفن کر کے نجم سیٹھی جیسے غیر ٹیکنیکل شخص کو بورڈ کی ذمہ داری سونپ دی ۔
ظاہر ہے جب پہلی اینٹ ہی غلط لگی ہوئی ہوگی تو پھر باقی عمارت کا اللہ ہی حافظ ہوگا۔
بہرحال کرکٹ ٹیم میں پائی جانیوالی گروپنگ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں واضح ہوگئی کہ ایک سلو وکٹ پر جس انداز میں عمراکمل‘ شعیب ملک‘ احمدشہزاد کھیلے وہ بذات خود شرمناک ہے‘ خاص طورپر ایک عرصہ سے دیمک کی طرح چمٹے احمد شہزاد نے جس شرمناک انداز میں بیٹنگ کی وہ باعث افسوس ہے
## مشرف این آر او کے تحت ہی ملک سے باہر گئے اگر میں چیف جسٹس ہوتا تو دیکھتا کہ مشرف کیسے ملک سے باہر جاتاہے‘ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری
#چوہدری صاحب کی بات بھی درست مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرف وہ مکھی ہے جسے نگلنا بھی حکمرانوں کیلئے آسان نہ تھا اور نہ ہی تھوکنا ‘بیچارے ڈوریوں سے بندھے حاکمین کچھ نہ پائے سوائے اس کے کہ کسی نہ کسی طرح سے سابق آمر کی راہ ہموار کرکے اسے چلتا کیا ‘ مگر سوال تو یہ بھی ہے کہ صاحب اقتدار ن لیگ اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی کا اپناکردار اس حوالے سے کیسا ہے‘ دونوں جماعتوں پر مشرف کے ”احسانات “ کا ایسا بوجھ ہے کہ بیچارے منہ ملاحظہ پر بھی مجبورہوجاتے ہیں۔
یعنی لکیر پیٹنے والی سیاسی جماعتیں اب اپنا سینہ پیٹنے کی بجائے دوسرے کی طرح انگلیاں اٹھاکر بین کرنے میں مصروف ہیں حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ مشرف نے جاناتھا ‘سوچلا گیا مگر ایک بات بہرحال واضح ہوگئی کہ پاکستان واقعی قانون سے عاری اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی تفسیر ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد ثقلین رضا کے اتوار مارچ کے مزید کالم