صاحب، آپ کو مبارک ہو

پیر مارچ    |    سید شاہد عباس

صاحب آپ کو مبارک ہو۔۔۔ صاحب آپ کو بہت زیادہ مبارک ہو۔۔۔ آپ کے جوان نے صرف آپ کا بلکہ پوری قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔۔۔ اور مجھے فخر ہے کہ اس نے وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا۔۔۔ میجر صاحب جو شاید دلاسا دینے آئے تھے وہ چند لمحوں کے لیے ساکت سے ہو گئے۔۔۔ اپنے تئیں تو وہ والد کو دلاسا دینے آئے تھے۔۔۔ لیکن والد ان کو مبارکباد پیش کر رہا تھا۔۔۔ وہ کچھ دیر حیران کھڑے رہنے کے بعد" سفید بالوں والے اس نوجوان" کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے ۔
۔۔ میرا آپ سے وعدہ ہے کہ ہم ان کو چھوڑیں گے نہیں۔
نصیر عباس شہید۔۔۔۔ وانا کے قرب و جوار میں اپنے چند دوسرے ساتھیوں سمیت ایسے دشمن کا نشانہ بن گئے جو چھپ کر وار کرنے کا عادی ہے۔ میں نے راولپنڈی کی تاریخ میں ایک عام آدمی کا اس سے بڑا جنازہ نہیں دیکھا۔

(خبر جاری ہے)

اور ہر لمحے پر ملٹری پولیس کے نوجوانوں کو لوگوں کے آگے تقریباً ہاتھ جوڑ کے راستہ صاف کرنا پڑا۔ جنازہ گاہ سے قبرستان تک کا 15 منٹ کا فاصلہ کم و بیش ایک گھنٹے میں طے ہو پایا۔

تابوت مکمل طور پر بند تھا اس کے باوجود ایک ہجوم تھا جو اس تابوت کو ہاتھ لگانے کی کوشش میں سعی کر رہا تھا۔ اور جب تابوت کو چھو لیتا تو ایک عجیب فاتحانہ اور خراجِ عقیدت پیش کرتا تبسم اس کے ہونٹوں پر ہوتا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کم و بیش 50 ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود اکثر سوچ ابھرتی ہے کہ آخر ایسا کیا ہے اس قوم میں کہ یہ اپنے جوانوں کے لاشے اُٹھاتی ہے روتی ہے اور پھر سنبھل کر سینہ تان لیتی ہے۔
کیا ہے اس دھرتی کے سپوتوں میں کہ لڑتے ہیں زخمی ہوتے ہیں اپاہج ہو جاتے ہیں پوچھا جائے تو جواب ملتا ہے کہ دل چاہتا ہے دوبارہ بندوق ہاتھ میں ہو اور دشمن کے ماتھے کا نشانہ ہو۔ ایک دفعہ ایک صاحب سے پوچھا کہ یار اکثر سنتے آئے ہیں کہ دشمن ڈر کر بھاگ گیا یا اس نے ہتھیار ڈال دیے تو آخر کیا وجہ ہے کہ آپ جوان نہ ہی بھاگتے ہو نہ ہی ہتھیار پھینکتے ہو تو اس کا جواب کچھ ایسا تھا کہ آج تک ذہن میں ابھرتا ہے تو سینہ فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ہم جب دشمن کا سامنا کرتے ہیں تو دشمن مادی مفادات کو مقدم سمجھتے ہوئے ہم سے لڑتا ہے اسی لیے وہ بھاگتا بھی ہے اور ہتھیار بھی پھینکتا ہے۔ جب کہ فوجی جوان کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہوتا ہے کہ اگر فتح یاب ہو کر زندہ لوٹے تو غازی کو 18کروڑ کندھوں پہ بٹھا لیں گے۔ اور اگر شہادت مقدر ٹھہری تو 18 کروڑ کندھوں پہ اُٹھا لیں گے۔
نصیر عباس شہیدکے والد ایسے سینہ تان کر چل رہے تھے کہ محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے بیٹے نے ان کا وقار اس فانی دنیا میں بلند کر دیا ہے ۔
جب نصیر عباس شہید کی تصویر ، رینک،پرچم ایک شیشے کے محفوظ باکس میں اہل خانہ کے حوالے کیے جا رہے تھے تو اس کے خاندان کے افراد فخر کے ساتھ نصیر عباس شہید سے اپنا اپنا تعلق اپنے احباب کو بتا رہے تھے حتیٰ کے جو لوگ خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے وہ بھی اس بات پہ نازاں تھے کہ اس سپوت کا تعلق ان کے گاؤں، علاقے یا شہر سے ہے۔ رات گئے نصیر عباس شہید کی تدفین مکمل ہو پائی لیکن مجال ہے کہ لوگ اِدھر سے اُدھر ہوئے ہوں۔
میں حیران تھا کہ جیسے جیسے شہید کو سلامی پیش کی جاتی رہی تو ماشاء اللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھی۔ صدرِ پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف، چیف آف جنرل سٹاف، کمانڈر ٹین کور کی جانب سے پھول چڑھانے تک اِک ہجوم سا تھا جو ہلنے کا نام تک نہیں لے رہا تھا۔
جب فوج کا سپہ سالار اگلے مورچوں پہ خود موجود ہو تو اس فوج کے جوانوں کے لیے موت کو گلے لگانا کیونکر مشکل ہو سکتا ہے۔ شوال میں آپریشن کیا گیا تو چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پوری رات اگلے مورچوں پر جوانوں کے ساتھ گزاری۔
تصور کریں جوان کو پتا ہو کہ اس کا سپہ سالار ان ہنگامی حالات میں بھی اس کے ساتھ اگلے مورچوں پہ موجود ہے تو اس جوان کا ولولہ کیا ہو گا۔ اس میں جوش کی لہریں کیسے طلاطم بکھیر رہی ہوں گی۔ وہ اپنے سامنے آنے والے دشمن کو یا تو چیر پھاڑ کر رکھ دے گا یا سینے پہ گولی کے نشان سجائے گا۔ دونوں صورتوں میں ابدی حیات تو وہ یقینا پا لے گا۔
عرصہ پہلے ایک ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک فوجی جوان کا ڈائیلاگ تھا کہ ، جب تک ہم زندہ ہیں آپ سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔
آج نصیر عباس شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے یقینا ایک فخر سا محسوس ہوتا ہے کہ جب تک اس قوم کے پاس ایسے جوان ہیں جو ضرورت پڑنے پہ اپنے لہو سے اس دھرتی کی آبیاری کر سکتے ہیں تب تک اس دھرتی کی طرف کوئی میلی آنکھ سے سامنے آکے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا۔ آج دشمن چھپ کر وار ضرور کر رہا ہے لیکن وہ دن دور نہیں کہ نصیر عباس شہید جیسے ہزاروں شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور یہ دھرتی امن کا گہوارہ بن جائے گی ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے اتوار مارچ کے مزید کالم