”شدید مذمت“

بدھ مارچ    |    ممتاز امیر رانجھا

آج کا کالم بھارت میں ہونے والے کرکٹ میچز میں پاکستانی ٹیم کی ناقص کارکردگی سے شروع ہوگا اور بھارت پر ختم ہوگا۔ ہماری کرکٹ ٹیم جس پر کبھی عوام کو بہت فخر تھا۔سب گیا ”بھاڑ میں“ سب گیا ”کھوہ کھاتے“۔یقین کریں کسی عام سی گلی محلے میں ٹینس بال سے کھیلنے والے یقینا موجودہ ٹیم سے اچھا کھیل سکتے ہیں۔اس وقت سارا پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کی فضول کارکردگی دیکھ کر پریشان اور پشیمان ہے۔
ہم نے بھی 1997سے 2015تک ”تھرڈ امپائر“ کے مونو گرام سے کالم لکھے اور پھر اسی کرکٹ ٹیم سے مایوس ہو کر اپنا مونو گرام ”عزمِ عالیشان“ کر لیا۔اس سال تو آفریدی الیون نے انتہا ہی کردی۔نیوزی لینڈ،ہندوستان اور آسٹریلیا سے ہار کر نہ تو آفریدی کو شرم آئی اور نہ ہی اس کے باقی ماندہ کھلاڑیوں کو۔

(خبر جاری ہے)

کرکٹ بورڈ انتظامیہ،نجم سیٹھی ،چیئرمین شہریار خان اور ٹیم کوچ وقار یونس سب کی بدفعلیاں دنیائے کرکٹ میں پاکستان کا نام ڈبونے میں اہم اہم ہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ شاہد آفریدی اور وقار یونس قومی ہیرو اور قومی سٹار ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اب یہ دونوں نا اہل ہو چکے ہیں،وقار یونس اب بطور کوچ ٹھیک نہیں اور شاہد آفریدی بطور کپتان اور کھلاڑی اپنی خدمات سر انجام دینے سے معذور۔
محمد عامر نے سارے میچز میں اچھی باؤلنگ کا مظاہرہ کیا۔محمد سمیع جس نے کئی مشہور ٹورنامنٹس میں اہم اہم میچز میں پاکستان کا بیٹرہ غرق کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا اسے پھر ٹیم میں شامل کرنا ہی ایک بہت بڑی بیوقوفی سے کچھ کم نہیں۔
سب شائقین کرکٹ نے پورے ٹورنامنٹ میں دیکھا کہ وہاب ریاض اور عرفان کی لائن لینتھ میں مسائل نمایاں رہے ۔
جہاں تک بیٹنگ کا تعلق ہے۔عمر اکمل نے کسی میچ میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔احمد شہزاد نے بھی اوپننگ میں کوئی خاطرخواہ کمال نہیں دکھایا۔شرجیل نے آخری دو میچز میں اچھی بیٹنگ کی لیکن اس کی بیٹنگ میں میچورٹی کی ضرورت ہے،اگر شرجیل پر محنت کی جائے تو مستقبل میں اچھا بیٹسمین ثابت ہو سکتا ہے۔
ہماری ٹیم میں کوئی ایسا بیٹنگ کوچ ہونا ضروری ہے جو اس کو سلو بال کھیلنا بھی سکھا دے۔محمد حفیظ اچھا بیٹمسین ہے لیکن اسکا نہ کھیلنا او ر میچز میں دلچسپی نہ لینا کوئی سیاست ہی لگتی ہے۔شعیب ملک اب باقی ماندہ وقت اگر ٹیسٹ سیریز یا ثانیہ مرزاکے لئے وقف کریں تو اسی میں ملک و قوم کا فائدہ ہے۔اب وہ ونڈے اور ٹی ٹونٹی کے بیٹسمین نہیں رہے۔انہضمام الحق کو دیکھیں اس کی کوچنگ افغانستان کی ٹیم کو کہاں سے کہاں لیکر چلی گئی۔
ہمارے ملک میں ٹیلنٹ بہت ہے،حقیقیت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اجارہ داری نے ہر چیز کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔نجم سیٹھی ہو یا شہریار خان دونوں ہی ذہنی طور پر مفلوج ہیں۔یہ تو کرکٹ کے دوبوڑھوں کی مثالیں ہیں ہمارے ملک میں ہر شعبے میں گھس بیٹھنے کی روایت پرانی ہے۔کسی بھی انسان کی ساٹھ سالہ زندگی ہی اس کے پیشہ ورانہ امور کے لئے کافی ہوتی ہے،ٹھیک ہے کئی لوگ بہت تجربہ کار اور پرفیکٹ ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ساٹھ سال کے بعد بھی ایسا ہی ہو۔
شہر یار خان اور نجم سیٹھی جیسے لوگوں کی نا اہلی سے کئی موقع پرست فوائد حال کرتے ہیں اور نہ صرف ملک و قوم کا پیسہ ہڑپ کر جاتے ہیں بلکہ ملک و قوم کا ستیا ناس کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔اسی مثال کے موازنے میں ملک میں دیکھیں میٹرک،ایف اے اور بی اے پڑھے لکھے لوگ ایسے افراد کی بدولت عیاشی کے سمندر میں غرق ہو کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ماسٹرز یا زیادہ پڑھے لکھے لوگ معاشرے میں ان پڑھ افراد کی طرح ٹریٹ ہوتے ہیں۔
کرکٹ ایک ایسا گیم تھا جس پر ہمیں فخر تھا لیکن اب نہیں۔نہ جانے کب اور کون اس گیم کو ملک کے لئے دوبارہ بحال کرے ۔پی ایس ایل ایک اچھی روایت ہے۔اس طرح کے ایونٹس سے اچھے اور بہترین کھلاڑی تلاش کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔جب اچھے کھلاڑی ملک کے لئے کھیلیں گے تو پھر ہمیں ہندوستان جیسی کمزور کرکٹ ٹیم کے سامنے ہار کر سجھکانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ہارنے کے بعد نئی اور اچھی ٹیم بنانے کی ضرورت ہے۔ایماندار کوچ،چیئرمین اور کھلاڑی کئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں سے کہیں اچھے ہیں۔
اب جب تک پرانی مینیجمنٹ ،ٹیم اور کوچز کی چھٹی نہیں ہوگی ،جب تک ان کا بوریا بستر نہیں اٹھایا جائے گا تب تک نئی بہترین ٹیم شاید کبھی نہ بن سکے۔
اس ہفتے پکڑے جانے والے کلبھوشن یاجعلی حسین مبارک بھارتی افسر نے بڑے خوفناک قسم کے انکشافات کئے ہیں او ر وہ خدانخواستہ وہ سابقہ مشرقی پاکستان کی طرز پر بلوچستان کو الگ کرنے کے عزائم پر عمل پیر ا تھا۔جب کالم کمپائل کر رہا تھا تو لاہور کے پارک میں دھماکہ ہونے کی افسوس ناک خبریں چلنا شروع ہو گئیں۔
سچ بتاؤں تو اس سانحے کی وجہ سے قلم کی سمت بھی تبدیل ہو گئی۔ لگتا یہی ہے کہ گزشتہ روز کا واقعہ اسی کا ری ایکشن محسوس ہوتا ہے۔سفاک دہشت گردوں نے پارک میں دھماکہ کیا ہے۔ اب تک اطلاعات کے مطابق 72افراد جن میں مردوخواتین اور معصوم بچے شامل ہیں شہید ہو چکے ہیں اور 300سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔اگرچہ پاک فوج اور حکومت کی کی یک جہتی سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن پھر بھی دہشت گردوں کی باقیات کو ختم کرنے کے لئے تھوڑا وقت درکار ہے۔

دہشت گردی کے تانے بانے چاہے ہندوستان،افغانستان یا ایران سے ملتے ہوں سب کا قلع قمع کرنا نہایت ضروری ہے۔اپنے ملک میں موجود دہشت گردی کے تمام مد دگاروں کی گرفت بھی ضروری ہے جوکہ چند روپوں کی خاطر نہ صرف ملکی ساسکھ داؤ پر لگا لیتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کا سودا کر لیتے ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے کہ جو بچے اپنے والدین کے ساتھ پارک میں چند سکھ کی سانسیں لینے گئے تھے وہ بھی کم بخت دہشت گردوں نے قیامت صغریٰ میں تبدیل کر دیں۔
پاکستانی حکومت اور فوج کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ گرفتار بھارتی افسر اور بھارت کی گردن تک رسائی حاصل کریں۔انٹرنیشنل او ر نیشنل فورم پر ہندوستان کی اینٹ سے اینٹ بجانا نہایت ضروری ہے۔اس سلسلے میں تمام پاکستانی ذمہ دار اداروں اور افراد کی دلچسپی اور حب الوطنی کا بہترین موقع ہے کہ سارے ملکر تمام حقائق کی روشنی میں ہندوستان کی سفاکیت،بربریت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کواس طرح ننگا کریں کہ نہ صرف مستقبل میں ہندوستان اس عمل سے باز آجائے بلکہ پاکستان سے اور دنیا سے ”ان رائٹنگ“ معافی بھی مانگے۔ ہندوستان کے اس فعل کی شدید مذمت ضروری ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے بدھ مارچ کے مزید کالم