سانحہ لاہورظلم کی انتہاء

اتوار اپریل    |    عمر خان جوزوی

وہ تصویر دیکھتے ہی میرے دل کی دھڑکنیں تیز اور میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے، بھری محفل اور دن کی روشنی میں ہزار کوششوں کے باوجود میں اپنی آنکھوں سے آنسو روک نہیں سکا۔ والدہ کی جدائی کے غم میں تو اب رات کی تاریکیوں میں آنسو بہانے کی گویا عادت سی ہو گئی ہے لیکن دن کی روشنی میں آنکھوں سے آنسوؤں کا اس طرح سے بے قابو ہونا خود میرے لئے بھی حیرت کا باعث تھا۔ میں بار بار آنسو روکنے کی کوشش کرتا لیکن جونہی میری تھوڑی سی نظر بھی اس تصویر پر لگتی تو آنکھوں سے اچانک آنسو ٹپکنے لگتے۔
وہ تصویر ہاتھ پاؤں سے معذور کسی شخص کی نہیں تھی ۔۔ نہ ہی وہ بھوک سے بلکتے کسی بچے کی تھی ۔۔ نہ ہی اس تصویر میں شام، فلسطین، عراق اور افغانستان میں جاری جنگ و ظلم کا کوئی منظر تھا ۔

(خبر جاری ہے)

۔ وہ تصویر کسی کشمیری کی بھی نہیں تھی کہ جس کو بھارتی فوج تشدد کا نشانہ بنا رہی ہو ۔۔ وہ تصویر کسی فلسطینی کی بھی نہیں تھی کہ جو اسرائیلی فوج سے لڑتے ہوئے ان پر پتھر پھینک رہا ہو ۔۔ وہ تصویر صدر کی بھی نہیں تھی نہ وہ وزیر اعظم کی تھی اور نہ ہی وہ ہمارے بے حس اور نااہل ممبران قومی و صوبائی اسمبلی میں سے کسی کی تھی ۔

۔ وہ تصویر تو اس دو ڈھائی سالہ شہزادے کی تھی جو ہوش سنبھالنے سے پہلے سانحہ لاہور میں جام شہادت نوش کرکے اس ظالم معاشرے ،سنگدل ا ور بے حس لوگوں کے درمیان سے پرندے کی طرح پرواز کر گیا۔ تصویر میں ہنستا مسکراتا اور گلاب کے پھول سے تروتازہ چہرہ لئے وہ پیارا اور معصوم سا بچہ لاہور خود کش دھماکے میں دہشتگردی اور درندگی کا نشانہ بنا ۔۔ شہادت کا جام پیتے ہوئے اس معصوم بچے نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف جس طرح اٹھائی اور بائیں ہاتھ سے وکٹری کا جس طرح نشان بنایا یہ منظر دیکھ کر آنکھیں بے اختیار نہ ہوں تو کیا ہوں ۔
۔ ؟ جب سے اس دو ڈھائی سالہ وجود کو خون میں لت پت میں نے دیکھا ہے اس کے بعد سے میرے دل کی دنیا اجڑ سی گئی ہے ۔۔ اس معصوم بچے کا خون آلود چہرہ میری آنکھوں میں کانٹے کی طرح چبھک گیا ہے ۔۔اس کی دہشتگردی اور درندگی کا نشانہ بننے کا غم میرے سینے میں پیوست ہو چکا ہے ۔۔اس کا معصوم چہرہ اب میرے سامنے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہا۔ یہ دو ڈھائی سالہ پیارا اور معصوم بچہ بھی تو آخر کسی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ۔
۔ کسی کے دل کا سرور۔۔ کسی کی زندگی کا کل سرمایہ اور کسی کے چین و سکون کا سامان ہوا ہوگا۔ لاہور خودکش دھماکے میں کون نشانہ بنے ۔۔ ؟ وہ بدقسمت لوگ جو سرکاری ڈیوٹیوں، روزانہ کی دیہاڑیوں اور کاموں کی وجہ سے اپنے بچوں کو ٹائم نہیں دے پاتے تھے۔۔ وہ مائیں جو گھریلو کام کاج کے باعث بچوں کے ساتھ ٹائم نہیں گزار پاتی تھیں ۔۔ وہ چھوٹے اور پھول جیسے بچے جو والدین کی مصروفیت کے باعث ہر وقت گھروں میں محصور رہتے تھے۔
۔ گلشن اقبال پارک جانے والے تو یہ سوچ لے کر گئے تھے کہ وہ عرصے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ تھوڑا ٹائم گزار کے دل کا بوجھ اور زندگی کا غم ہلکا کر دیں گے لیکن ظالم دہشتگردوں اور درندوں نے تو ان پروار کرکے پوری قوم کو غم میں مبتلاء کر دیا۔ خود کش دھماکے سے جب بدقسمت ماؤں کی آنکھوں کے سامنے ان کے دودھ پیتے بچوں کے پرخچے ہوا میں اڑے ہوں گے ۔۔ بدقسمت شوہروں کے سامنے جب ان کی بیویوں کو موت نے اپنی آغوش میں لیا ہوگا ۔
۔ غریب والدین کے سامنے جب ان کے معصوم اور پھول جیسے بچوں نے آخری ہچکیاں لی ہوں گی ۔۔ دھماکے کے بعد ان کے ورثاء ۔۔ رشتہ دار، بہن اور بھائیوں نے جب اپنے پیاروں کے جسموں کے ایک ایک ٹکڑے کو زمین سے اٹھا کر اپنے سینے سے لگایا ہوگا ۔۔ کسی کے جلے ہوئے جوتے اور کسی کی پھٹی ہوئی قمیصوں پر جب اپنوں کی نظر پڑی ہوگی ۔۔ اس وقت ان کے دلوں پر کیا گزری ہو گی ۔۔؟ وہ واقعی بہت دردناک۔۔ غمناک اور خوفناک منظر تھا جب لاہور میں چند لمحوں کے دوران سینکڑوں نہیں ہزاروں دلوں کی دنیا اجاڑ دی گئی۔
لاہور خودکش دھماکے میں جو 75 افراد جان قربان کر گئے آخر وہ بھی تو کسی کے چشم و چراغ اور لخت جگر ہوں گے۔ دودھ پیتے بچوں ۔۔ دیہاڑی لگاتے مزدوروں اور گھریلو امورکی انجام دہی میں ہفتے کے 6 دن مصروف رہنے والی ان خواتین نے کسی کا کیا بگاڑا تھا ۔۔؟ بچوں اور خواتین سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے ۔۔ وہ بچے جو ما ۔۔ پا اور تا سے زیادہ کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے ان کو بارود کی آگ میں زندہ جلاتے ہوئے ظالموں کو ذرہ بھی ترس نہیں آیا۔
لاہور خودکش دھماکے میں انسانی جسموں کے بکھرے اعضاء ۔۔جلی ہوئی نعشیں ۔۔خون آلود کپڑے اور جگہ جگہ خون کے داغ دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا کہ انسانیت کی جگہ حیوانیت نے لے لی ہے۔ کوئی انسان تو اس طرح کا قدم اٹھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔ جس نے کیا یا جس نے یہ ظلم کرایا اس کا انسانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔۔ معصوم بچوں اور خواتین کو خون میں نہلانے والے مسلمان تو دور انسان بھی نہیں ہو سکتے ۔
۔ سانحہ لاہور سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس ملک میں انسانوں سے زیادہ حیوانی طاقتوں کاراج ہے جو جب اور جہاں چاہیں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں کو درندگی کا نشانہ بنا کر ظلم کا بازار گرم کر دیں ۔۔ سینکڑوں گھروں کو ایک لمحے میں اجاڑنا اور ہزاروں دلوں کو زخموں سے چور چور کرنا کوئی معمولی بات اور چھوٹا غم نہیں۔ دہشتگردوں نے ایک مرتبہ پھر قوم کے بچوں کو نشانہ بنا کر پورے ملک کے در و دیوار ہلا دئیے ہیں۔
۔ سانحہ لاہور کے باعث آج پورے ملک کی فضاء سوگوار اور ہر دل زخمی زخمی ہے۔ دشمن نے ایک بار پھرہمارے دلوں پر وار کر دیا ہے ۔۔ دہشتگردوں کے سر کچلنے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے کی باتیں ہر سانحے اور واقعہ کے بعد کی جاتی ہیں ۔۔ آج بھی ظالموں کو کٹہرے میں لانے کے وعدے اور دعوے کئے جانے لگے ہیں لیکن حقیقت میں حکمرانوں کو ان خود کش حملوں، بم دھماکوں اور دشمنوں کی سازشوں کے ذریعے عوام کے دلوں پر لگنے والے زخموں، دکھ اور درد کی کچھ زیادہ پرواہ نہیں۔
دہشتگردی کے ان واقعات میں اب تک ہمارے ہزاروں نوجوان۔۔ بچے، خواتین اور عام شہری نشانہ بن چکے ہیں۔ خود کش حملوں اور بم دھماکوں میں شہید ہونیوالوں کے جنازے اٹھا اٹھا کر ہم تھک چکے ہیں ۔۔ آج نہ صرف ہمارے ہاتھ بلکہ ہمارے پورے کے پورے جسم غم و الم کے باعث خون سے رنگین ہیں ۔۔ اپنوں کی جدائی پر آنسو بہاتے بہاتے اب ہماری آنکھیں بھی خشک سی ہو گئی ہیں ۔۔ اس ملک کا کوئی حصہ اور ذرہ ایسا نہیں بچا کہ جہاں بے گناہوں کا خون نہ گرا ہو ۔
دشمن نے ہمارے بہت گھر اجاڑے ۔۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو بہت رلایا ۔۔بہت تڑپایا ۔۔ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کے آشیانے کو بھی آگ لگا کر جلا دیا جائے۔ آخر کب تک ہم اپنوں کی لاشیں اٹھا کر آنسو بہاتے رہیں گے ۔ دشمن اپنا ہو یا بیگانہ، اب ہر حال میں ان کا قلع قمع کرنا ہوگا۔ جن کی قسمت میں ہدایت نہیں ہوتی۔ تباہی اور بربادی ان لوگوں کا مقدر توبنتی ہی ہے۔ اس لئے دشمن کے آلہ کار اور سہولت کار بننے والے بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
بلوچستان سے گرفتار ”را“ کے ایجنٹ سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرکے ان کو یہاں کے مقامی سہولت کاروں اور آلہ کاروں سمیت نشان عبرت بنا دیا جائے تاکہ ملک کی سلامتی کے خلاف سازشوں کا سلسلہ رک سکے۔ بھارت کی دوستی سے ملک کی بقاء و سلامتی ہمارے لئے پہلے ہے کیونکہ یہ ملک ہو گا تو ہم ہوں گے ورنہ ملک کے بغیرپھر ہم بھی نہیں رہیں گے۔ اس لئے بھارت سے دوستی کی آڑ میں را کے ایجنٹ سے رتی برابر بھی نرمی کا مظاہرہ ملک سے سنگین غداری کے ساتھ شہدائے پاکستان کے پاک خون سے بھی غداری ہو گی۔ ایسے میں حکمرانوں کو اب ذاتی اور سیاسی مفادات کے کھیل سے ہر حال میں باہر نکلناہوگا تاکہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو سکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے ہفتہ اپریل کے مزید کالم