مسیحا کون!

منگل اپریل    |    نبی بیگ یونس

اندھوں میں کانا راجا ہو تو صورتحال ٹھیک نہیں بلکہ اب سے ابتر ہی چلی جاتی ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے ایک بہت بڑے ریوڑ میں لگتا ہے بہت سارے اندھے اور کانے راجے موجود ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ پوری قوم کو دھوکہ دینے میں کامیاب، مگر کب تک، بلآخر ہر چیز کی ایک انتہا ہوتی ہے، اُس کے بعد پھر ڈاون فال شروع ہوتا ہے ۔ لیکن طوفان جب آتا ہے تو اسمیں گناہ گاروں کے ساتھ بے گناہ بے کچلے جاتے ہیں۔ پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں جس عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اُس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے اگرچہ ایک طرف بحران کو نہ صرف مزید سنگین کردیا بلکہ دوسری طرف شکست کے اسباب اور پاکستانی کرکٹ میں پیچیدگیوں، نظم وضبط کے فقدان ، من مانیوں، ہٹ دھرمیوں، گروپ بندیوں ، اقربا پروریوں اور پرچی سسٹم کو قوم کے بے نقاب کردیا۔

(خبر جاری ہے)


بغور جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے پاکستان میں کرکٹ کے بحران میں کوئی ایک ذمہ دار نہیں بلکہ کھلاڑیوں سے لیکر چیئرمین اور چیئرمین سے لیکر پیٹرن انچیف تک ہر شخص ذمہ دار ہے۔ شائد کوئی نہیں چاہتا کہ پاکستان میں کرکٹ ٹھیک ہوجائے، سب انا پرستی میں اس حد تک گھرے ہوئے ہیں کہ بحران سے اتنی جلدی نکلنا محال نظر آتا ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزارت کھیل کی طرف سے کرکٹ بورڈ تحلیل کرنے اور ماجد خان کو نگراں سربراہ بنانے کی سفارش مسترد کردی، شائد صرف اس بنیاد پر کہ ماجد خان عمران خان کے رشتہ دار ہیں۔

پی سی بی پر معمر افراد کا راج ہے جنکی عمریں 60 سے 82 سال تک ہیں۔ چیف ایگزیکٹو نجم سیٹھی 68سال، چیئرمین شہریار خان 82، انتخاب عالم 74 ، ذکا اشرف 63سال کے ہیں جبکہ یاور سعید 80 سال کی عمر تک کئی عہدوں پر بلا جمان رہنے کے بعد گزشتہ سال انتقال کرگئے۔ ایک شخص سرکاری طور پر 60 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے پاس 60 سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مخدوش ہوتی ہے۔
لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں 80سال سے زائد عمر کے لوگ بھی اعلیٰ عہدوں پر بلا جمان ہیں جن کو ہلانا شائد وزیر اعظم کی بس کی بات بھی نہیں۔ وقار یونس کا کہنا ہے کہ پی سی بی پر نان کرکٹرز کا راج ہے صرف آغا زاہد اور علی ضیا ہی ٹیسٹ کرکٹر رہے ہیں۔ صاف سی بات ہے اگر کسی غیر پیشہ ور شخص کو کسی ادارے میں کوئی عہدہ دیا جائے تو وہ کامیاب نہیں رہ سکتا۔ لیکن پی سی بی پاکستان کرکٹ کے منتظمین وہ لوگ ہیں جنہوں نے کبھی بیٹ یا بال کو ہاتھ تک نہ لگایا ہو۔
قصور صرف ان کا نہیں بلکہ انہیں ان منصبوں تک پہنچانے والوں کا ہے۔
ہمارے ہاں ایک پرانی روایت ہے کہ ہر ایک خود کو سمجھدار اور دوسرے کو ناسمجھ قراردینے میں پیش پیش ہے۔ قومی کرکٹ ٹیم کے مینجر انتخاب عالم نے شاہد آفریدی کو ناسمجھ قراردیا ، اگر شاہد آفریدی ناسمجھ ہے تو اُسکوبنانے والے کیا ہیں،وہ خود کپتان نہیں بنا بلکہ اُسکو بنانے والے اور ہیں۔ چیئرمین شہریار خان کو ہی لیجئے ، انہوں نے ٹی ٹوئنٹی میں شکست سے پہلے ہی بیان دیا کہ قوم کو ٹیم سے اچھی امیدیں نہیں رکھنی چاہئیں۔
اِس کا دوسرے الفاظ میں مطلب یہ ہوا کہ پاکستانی ٹیم جیت کیلئے نہیں بلکہ ہار کیلئے میدان میں اُتر رہی ہے لہذا قوم بھی اس شکست کیلئے اپنے دل پر پتھر رکھ کر تیار ہوجائے۔
دیکھا جائے تو پاکستان کرکٹ ایک ایسے دلدل میں پھنس چکی ہے جہاں سے نکلنے کیلئے اسے کسی مسیحیٰ کی ضرورت ہے، وہ مسیحیٰ کون ہوسکتا ہے اور وہ موجودہ سیٹ اپ میں سے ہی ہوگا یا سیٹ اپ سے باہر نکل کر اسے ڈھونڈا جاسکتا ہے، یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا چہروں کو بدلنا ہی ضروری ہے یا مائینڈسیٹ کا بدلنا بھی ضروری ہے، لیکن مائینڈ سیٹ کیسے بدلا جائے، فرسودہ نظام کو بدلنے کیلئے جس اینرجی کی ضرورت ہے وہ کون فراہم کرے۔ ہم ایک بے بس قوم کی طرح یہی کہہ سکتے ہیں: پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

نبی بیگ یونس کے پیر اپریل کے مزید کالم