اجازت نہیں دی جائے گی

منگل اپریل    |    شاہد سدھو

گذشتہ روز وفاقی وزیرِ داخلہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آیندہ ڈی چوک، اسلام آباد میں کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کو دھرنے، احتجاج اور جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کے عوام کے لئے مقامِ اطمینان ہے کہ موجودہ وزیرِ داخلہ نے اپنے پیشرووٴں کی طرح کئی برسوں سے جاری اجازت نہ دینے کے سلسلے کو بڑی جانفشانی سے جاری رکھا ہُوا ہے۔ وطن عزیز میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
عوام کی جانوں سے کھیلنے، سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کرنے، سڑکیں بلاک کرنے، مذہبی و غیر مذہبی تقریبات اور رسومات کے لئے عوام کو عذاب میں مبتلا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسی طرح ناجائز منافع خوری، جعلی ادویات کی فروخت، ملاوٹ شدہ اشیاء کی تیاری اور فروخت کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

(خبر جاری ہے)

ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، چائنہ کٹنگ، جعلی ہاوٴسنگ اسکیموں،فراڈ ترقیاتی اسکیموں، جعلی ڈاکٹروں، ڈبل شاہوں، جعلی پیروں کو بھی اجازت نہیں دی جاتی۔

ظاہر ہے جب عوام کے چاہنے اور پرزور مطالبات کے باوجود اتنے بہت سارے کاموں کی اجازت نہیں دی جاتی توپھر دھرنوں کی اجازت بھلا کیسے دی جاسکتی تھی۔ تاریخ بتاتی ہے (نوٹ: تاریخ نام کی اس محترمہ کو پاکستان سے خاص محبت ہے۔یہ پاکستان میں ان دنوں بھی نہ صرف لکھی جارہی ہے بلکہ با ر بار دہرائی بھی جارہی ہے۔) اجازت نہ دینے کا سلسلہ قیامِ پاکستان کے کُچھ عرصے بعد ہی شروع ہو گیا تھا اور ہر دور میں بلا تعطل جاری رہا ، تاہم اس میں تیزی چارلس ڈیگالوں، مرد حقوں، جنرل رانیوں اور کمانڈووٴں کے پاکستان پر قبضے کے دوران آئی ۔
ان کے سنہری ادوار میں اجازت نہ دینے کے سلسلے کو تیز کر دیا گیا۔ ان صاحبان تیغ نے ملک ٹوٹنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کردیا، انہوں نے منشیات ، کلاشنکوف کلچر اور مذہبی انتہا پسندی کو ملک میں پھیلنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ جناب کمانڈو نے تو ملک بھر میں بم دھماکوں کی اجازت دینے سے بھی صاف انکار کردیا۔ جناب کمانڈو کے دلیرانہ عہد کے دوران بم دھماکوں کی اجازت نہ دینے کا سلسلہ ملک کے چپے چپے پر شروع ہوگیا اور ہر بڑے شہر میں بم دھماکے کی ہر گز اجازت نہیں دی گئی۔
کمانڈو کے بعد جمہوریوں نے بھی اجازت نہ دینے کے سلسلوں کو دل و جان سے جاری رکھا۔ ہاں تو عرض کی جارہی تھی کہ تاریخ بتاتی ہے کہ دھرنوں کی اجازت پاکستان کے سابق نیلسن منڈیلا نے بھی نہیں دی تھی۔ اور موجودہ وزیر داخلہ نے دو ہزار چودہ میں بھی دھرنوں کی اجازت نہیں دی تھی۔اسی طرح سکندر اصغر کے خطہ پوٹھوار پر دوسرے حملے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔ گلشن پارک میں دھماکوں کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ ا س سے پہلے غیر ملکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں، فائیو اسٹار ہوٹلوں، مون مارکیٹوں ، بوہری بازاروں، قصہ خوانی بازاروں ، حساس اور غیر حساس اداروں کے دفتروں ، بری، بحری اور فضائی افواج کے ٹھکانوں ، پولیس تھانوں، جیلوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں، مسجدوں، امام بار گاہوں، درگاہوں، چرچوں ، ٹی وی چینلوں کے دفتروں اور دفاعی اثاثوں پر حملے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اجازت نہ دینے کے معاملے میں اتنی ثابت قدمی اور درخشاں روایات دیکھ کر تو پروفیسر عنایت علی خان نے بھی اپنے شاگرد سے کہ دیا تھا
اس کے رخسار پہ ہے اور تیرے ہونٹ پہ تل
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اجازت نہ دینے کے اس حوصلہ افزاء ماحول کو دیکھ کرعوام نے مقتدر حلقوں کی خدمت میں عرضی بھیجی ہے کہ بے شک آپ ان لوگوں کے اسماء گرامی افشاں نہ کریں جنہوں نے ان سب کاموں کے لئے اجازت طلب کی تھی اور اجازت نہ دینے کے سلسے کو اسی طرح جاری رکھیں مگر اپنے افسروں میں کم از کم اتنی اہلیت تو پیدا کریں کہ وہ اجازت کے طلب گاروں کے اگلے ٹارگٹ کا اندازہ ہی لگا لیا کریں۔
اگر واردات ہو جانے کے بعد اجازت نہ دینے کا راگ الاپنا ہے تو اس کام کے لئے یہ پینتیس پینتیس گریڈ وں اور درجن درجن بھر پھولوں اور چاند ستاروں والے افسروں کی کیا ضرورت ہے یہ کام تو کسی چھوٹی موٹی وزارت کا لوئر ڈویژن کلرک بھی کر سکتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

شاہد سدھو کے پیر اپریل کے مزید کالم