ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی تو مہلت مل رہی ہے

منگل اپریل    |    حافظ ذوہیب طیب

میں کافی عرصے سے اس سوال کے جواب کا متلاشی تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ظلم، نا انصافی اور بر بریت کا نظام کس طرح چلتا رہتا ہے جبکہ قدرت کا قانون جو قانونِ اٹل ہے اس کی روشنی میں ایسا کوئی نظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا جس کی بنیاد ،ظلم ہو۔کچھ روز قبل صوفی بزرگ سر فراز شاہ صاحب نے ایک واقعہ سنا کے مجھے اپنے جواب کے قریب تر کر دیا۔ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ فرعون اول جس کی سنگدلی، ظلم و بر بریت اور اس جیسے کئی اوصاف خبیثہ کے وجہ سے معروف تھا ،وہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کے دستر خوان پر روزانہ 10ہزار افراداپنی بھوک مٹاتے تھے۔
ایک طویل دستر خوان ، جس کی دھوم مصر کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی تھی جہاں لوگ بغیر کسی رنگ و نسل، قوم و مذہب اور طبقاتی جاہ وجلال کا لبادہ ایک طرف رکھ کر یہاں سے فیض یاب ہو تے تھے۔

(خبر جاری ہے)


ایک روز فرعون کی کابینہ کے سینئر وزیر برائے اقتصادی امورو خزانہ ، عالی جاہ کے آگے اپنی گرتی ہوئی معیشت اور صدارتی محل کے بجٹ میں روز بروز اضافے کی شکایت لے کر حاضر ہوتا ہے تو بادشاہ سلامت ، معیشت کو سہارا دینے اور بجٹ کو لگام ڈالنے کے سر سری سے احکامات صادر کرتے ہیں ۔

وزیر جو ہمیشہ سے ہی اپنی حرکتوں کی وجہ سے بادشاہوں کے تخت و تاج کو خاک میں ملانے کے ماہرجانے جاتے ہیں ، نے سب سے پہلے لوگوں کو بھوکا مارنے اور بادشاہ سلامت کا بیڑہ غرق کر نے کے لئے سالوں سے جاری دستر خوان کو بند کردینے کے احکامات جاری کئے۔ بتا یا جا تا ہے کہ وزیر موصوف کی اس حرکت کے ٹھیک پانچ روز بعد فرعون اپنی سر کشی کی وجہ سے دریا برُد ہو گیا۔
قارئین !اس واقعے کے بعد کم از کم مجھے تو اپنے سوال کا تشفی بخش جواب مل گیا ہے کہ اللہ کے سب رنگ نرالے ہیں ۔
مخبر صادق ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں جس کی محبت کا اندازہ ان الفاظ سے لگا یاجا سکتا ہے :” اللہ ! اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے“۔ یہ وہی محبت ہے کہ سر کشی کی تما م حدیں پار کر نے والا، فرعون بھی اپنے ایک نیک عمل کی وجہ سے بچا رہتا ہے ۔ اور اللہ کی سنت کسی ایک فرد، علاقے یا معاشرے پر نہیں بلکہ کرہ ارض پر بسنے والی ہر مخلوق کے کئے یکساں ہوتی ہے ۔
یہی وہ سنت ہے کہ کسی کے ایک اچھے عمل کی وجہ سے شخص، کسی اچھے انسان کی وجہ سے وہ معاشرہ اور کسی اچھے معاشرے کی وجہ سے پوری دنیا کا کاروبار چلتا رہتا ہے ۔
میں جب اپنے آس پاس نظر دوڑا تا ہوں تو مجھے کئی جگہ اللہ کی یہ سنت دیکھنے کو ملتی ہے ۔ بالخصوص اپنے حکمرانوں ، بیورو کریٹ نامی ان کے آلہ کاروں اور انکے بگل بچوں کے کارناموں کو دیکھتا ہوں تو یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جا تا ہوں کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جن کی وجہ سے اتنے مظالم روا ء رکھنے کے باوجود بھی آخر یہ لوگ کیسے بچ جاتے ہیں؟ ۔
قارئین کرام ! مجھے کچھ روز قبل، حال ہی میں تعینات ہونے والے ایڈیشنل سیکریٹری پنجاب خواجہ شما ئل کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا ۔
علی الصبح آنے اور رات دیر گئے تک اپنے دفتر میں بیٹھے، کئی کئی سالوں سے فائلوں کی زینت بنی درخواستوں کودیوانہ وار نمٹا تے ہوئے دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید یہی وہ شخص ہے جس کی بدولت اس سارے نظام کو مہلت دی جا رہی ہے۔ خواجہ صاحب کا شمار ایسے درویش اور پاکباز افسران میں کیا جا سکتا ہے کہ جو جہاں بھی تعینات رہا ، اپنے دروازے عام انسان کے لئے کھلے رکھتا ہے۔یہ اسی محبت کا اظہار تھا کہ اُس روز بھی ملک کے دور رراز علاقے سے لوگ اپنی اپنی جائز ضروریات کوہاتھوں میں تھامے اس امید کے ساتھ یہاں آئے ہوئے تھے کہ آج ہما ری ضرور سنی جائے گی۔
بطور کمشنر گوجرانوالہ تعیناتی کے دوران یہ سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے کہ گوجرانوالہ، گجرات اور وزیرآباد سمیت ان سے ملحقہ علاقوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کراکر یہاں کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیاہے۔
خواجہ صاحب کا کمال یہ ہے کہ وہ کبھی سیٹ و عہدہ کے نشے میں مست نہیں ہو ئے بلکہ اسے اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے ہمیشہ خلقِ خدا کے لئے آسانیاں پیدا کر نے کی سعی میں مصروف ہوتے ہیں ۔ یہ اس بات کا تسلسل ہے کہ اب پورے پنجاب اور بالخصوص لاہور کے سر کاری ہسپتالوں میں غریب مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کا شفاف نظام متعارف کر ادیا گیا ہے جس کے لئے ہر ہسپتال میں یہاں موجود ادویات کے ذخائر کی مکمل فہرست بھی آویزاں کر دی گئی ہے۔
اینٹی کرپشن حکام کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنا یا جا رہا ہے کہ جس افسر پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں انہیں فیلڈ میں تعینات نہ کیا جا سکے ۔
قارئین کرام !میرے نزدیک خواجہ شمائل جیسے لوگ ہما رے اور ہمارے معاشرے کے وہ ہیروہیں جن کی وجہ سے اللہ ہماری کالی کرتوتوں کو نظر انداز کر تا چلا جا رہا ہے ۔ وہ اپنی سنت پر عمل کرتے ہوئے ان جیسے لوگوں کی بدولت ہمارے گناہوں پر بھی پردہ ڈال دیتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ایک خوف بھی سینے میں پرورش پا تا ہے کہ اگر ایسے لوگوں کی ہم نے قدر نہ کی تو اندیشہ ہے کہ پھر ہماری مہلت بھی ختم کر دی جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے منگل اپریل کے مزید کالم