سانحہ گلشن پارک انسانیت کے خلاف جرم

جمعرات اپریل    |    ڈاکٹر اویس فاروقی

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے اقبال ٹاوٴن میں گلشن پارک میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 76 زائد افراد جان بحق اور300 سے زائد زخمی ہوگئے تھے اس طرح کا ہر حادثہ اپنے پیچھے کئی المناک داستانیں چھوڑ جاتا ہے سانحہ گلشن پارک میں پورے کے پورے خاندان لقمہ اجل بن گئے چھٹی کا دن تھا اور ایسٹر کا تہوار بھی لوگ پارکوں میں خاندان سمیت سیر اور پکنک منانے کے لئے نکلتے ہیں لیکن ستائس مارچ خون آلود دن کے طور پر تاریخ میں رقم ہو گیا جن بچوں کے سامنے یہ سب ہوا انہون نے جو کچھ دیکھا ان کی نفسیاتی کیفت کب تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہے گی اس پر کوئی غور نہیں کرہا ۔

27 مارچ 2016 کا سورج لاہور کے لیے اتنا تباہ کن ثابت ہوا کہ مردوں اور عورتوں سمیت بچوں کو بھی دہشت گردانہ سفاکی کا نشانہ بنا ڈالا گیا۔

(خبر جاری ہے)

شام کے وقت جو بچے اپنے والدین کے ہمراہ پارک میں جھولے جھولنے آئے تھے، وہ بچے جو دنیا کے باغ میں کھیلتے کھیلتے جنت کے باغ میں پہنچ گئے۔جو گزر گئے سو گزر گئے، لیکن کیا سوچا ہے ان بچوں کا کیا ہوگا جو اس حملے میں بچ گئے؟ اور اس بچے کا بھی جس کا پورا گھرانہ اس سانحہ میں چل بسا اور اس معصوم کو اکیلا چھوڑ گیا؟کیا یہ بچے اب کبھی پارک جائیں گے؟ کیا یہ بچے اب کبھی اسکول سے تھک کر گھر واپس آنے کے بعد اپنی والدہ سے فرمائش کریں گے کہ انہیں کسی پارک لے کر جایا جائے؟کیا یہ بچے اب اپنے والد کی انگلی تھام کر کسی جھولے پر بیٹھنے جا پائیں گے؟ دہشت گردی کی اس جنگ نے نہ صرف ہمارے ملک اور ہماری قوم کو جانی نقصان پہنچایا ہے، بلکہ ہر حملے کے بعد بچ جانے والوں پر ایسے شدید ترین نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو عمر بھر کا روگ بن کر رہ جاتے ہیں جبکہ معذور ہونے والے افراد ساری زندگی کرب و بلامیں گزار دیتے ہیں المیہ یہ ہے کہ انہیں کوئی پوچھنے ولا بھی نہیں۔

وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی فول پروف سکیورٹی انتظامات میں بھی ہو جاتی ہے اس لئے ہمیں دہشت گردی کے مائنڈ سیٹ کو ختم کرنا ہو گا پھر ہی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے یہ بات
پنجاب اسمبلی کے باہرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی کہ سانحہ گلشن پارک میں بے گناہ اور معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ، ہم ایسے انسانیت دشمنوں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کریں گے اور جن لوگوں نے مذکورہ دہشت گردی کے دہشت گردوں کیلئے سہولت کاری کا کام کیا ہے ان کو بھی ان کے انجام تک پہنچائیں گے رانا ثنا اللہ کی یہ بات سو فیصد درست ہے کہ”مائنڈ سیٹ“کو ختم کرنا ہو گا لیکن سوالیہ ہے کہ کرئے گا کون؟
اب تو صورت حال یہ بن چکی ہے کہ نہ ہی ہمارے اسکول محفوظ رہے ہیں، نہ ہی ہماری یونیورسٹیاں، اوراب تو ہمارے پارک بھی محفوظ نہیں رہے اور نہ ہی ہمارے گھر۔
کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بچوں پر سرمایہ کاری کی جائے اور ان کی حفاظت کی جائے، پر سانحہ پشاور، سانحہ باچا خان یونیورسٹی، سانحہ گلشنِ اقبال پارک، اور ایسے لاتعداد سانحوں میں اس قوم کا مستقبل جیسے برباد ہوا ہے، جس پر صرف مذمت کافی نہیں ۔لاہور بم دھماکوں کا نشانہ مسیحی بھی تھے اور مارے مسلمان بھی گئے۔ طالبان کے جس دحٹئے نے اس کی زمہ داری قبول کی ہے اس دھڑئے کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں، خاص طور پر مغربی مسیحی دنیا میں، انہیں کافی حد تک توجہ حاصل ہو گی۔
ان انتہاپسندوں کے اہداف کچھ بھی ہوں، بڑے پیمانے پر ان کا شکار مسلمان ہی بن رہے ہیں، چاہے یہ داعش کے زیر قبضہ شام یا عراق، افریقہ، انڈونیشیا یا پھر افغانستان اور پاکستان میں کارروائیاں کریں۔
دوسری جانب اس ملک میں روز بروز انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے قوت برداشت میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے اپنے اپنے سچ کو دوسروں سے زبردستی منوانے کا چلن عام ہوتا جارہا ہے اور جو نا مانے اس کے ٹھکائی سر عام کی جارہی ہے۔
جبکہ حکومت فوری طور پر تعلیمی اداروں کی تقریبات اور دیگر تفریح پروگراموں کے انعقاد پر پابندی لگا دیتی ہے اس بار تو پارک بھی بند کر دیئے گئے حالانکہ حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کیپسٹی بلڈنگ کے ساتھ ان کی غفلتوں اور کوتاہیوں پر قابو پانے کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔دیکھا گیا ہے کہ شہر بھر میں پولیس ناکوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور یہ عمل گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے جس کا فائدہ تو شائد کوئی ہو مگر عوام کی جانب سے شکایات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
حکومت کو لا اینڈ آرڈر کی صورت حال کوبہتر بنانے کی لئے اپنی تمام صلاحتیوں کا استعمال کرنا چاہیے۔۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ،شہریوں کو اعتماد میں لینے اور انہیں ان وجوہات سے آگاہ کئے بنا اور ان بنیادوں کو جہاں سے دہشت گردی پروان چڑھتی اور پنپتی ہے صرف پابندیوں اور مذید خوف پیدا کرنے سے کیا وہ نتائج حاصل ہو پائیں گے جس کی ملک و قوم کو اس وقت ضرورت ہے۔خوف اور پابندیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا اور شہری گھروں اور گلیوں میں مقید ہر گلی محلے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کئے جارہے ہیں ، بیرئیر لگائے جا رہے ہیں جبکہ سکولوں کا تو انتہائی برا حال کر دیا گیا ہے اونچی دیواریں ، خار دار تاریں ، گیٹ کے باہر مورچے ، جبکہ باہر کی طرف کھلنے والی کھڑکیاں اینٹیں لگا کر بند کی جارہی ہے۔
علم روشنی کا نام ہے جسے اندھیرئے میں ڈبویا جارہا ہے ، بچے خود پھول ہیں جن کو تازہ ہوا نہ ملے تو کملا جاتے ہیں وہ ہوا اور روشنی سے محروم ہو رہے ہیں یہ سب سیکورٹی کے نام پر ہو رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا خوف کی فضا پیدا کرنے اور اسے مستقل قائم رکھنے اور مختلف طرح کی پابندیوں سے دہشت گردی کی خلاف جاری جنگ جو نہ جانے کب تک لڑی جانی ہے کو جیتا جا سکتا ہے ؟ جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ پابندیاں ، اور خوف بذات خود ایک مسلہ بن کر شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے اور لوگوں میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے تحمل اور روادری اور برداشت جیسے رویوں کے عنقا ہونے کے ساتھ معاشرے میں لڑائی جھگڑوں کے واقعات ، دوران ڈرائیونگ حادثات میں اضافہ معمول بن جاتا ہے دیواریں اونچی ہو جاتی ہیں شہری اور انسان چھوٹے ہوتے جاتے ہیں ؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

سانحہ گلشن اقبال لاہور

ڈاکٹر اویس فاروقی کے بدھ اپریل کے مزید کالم