قوم کے شریف حکمران

جمعرات اپریل    |    انوار ایوب راجہ

بہت سال پہلے کی بات ہے ، میرے روم میٹ ایک شاہ صاحب تھے ۔بہت نفیس آدمی تھے اور جب بھی اپنے گاوٴں سے آتے تو سنانے کے لیے ان کے پاس کوئی نہ کوئی نئی بات ہوتی ۔ایک بار شاہ صاحب نے بتایا کہ ان کے علاقے کے راجپوتوں اور جاٹوں میں انتہا کا تناوٴ پایا جاتا ہے اور اب یہ بیماری بزرگوں سے بچوں میں منتقل ہو رہی ہے ۔میں نے شاہ صاحب سے پوچھا کہ اس ٹسل کا سب سے زیادہ نقصان کسے ہو رہا ہے ؟ شاہ صاحب نے مسکرا کرجواب دیا " چا چا رحمت کو "۔

میں نے حیرانگی سے پوچھا کہ یہ رحمت صاحب کون ہیں ؟ شاہ صاحب نے بتایا کہ ان کے گاوٴں میں راجپوتوں اور جاٹوں کے گھروں کے درمیان ایک گھر چا چا رحمت کا ہے جن کی برادری کا کسی کو علم نہیں مگر سب چا چا رحمت کی عزت کرتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

شاہ صاحب نے بتایا کہ ایک بار نوجوانوں کے درمیان لڑائی ہوئی تو کمزور فریق مار کھانے کے بعد ایک چھت پر چڑھ گیا اور زور زور سے کہنے لگا "میں آج چا چا رحمت کو نہیں چھوڑوں گا "، شاہ صاحب ہنسے اور بولے " جسے کوئی نہیں ملتا وہ کمزور کی طرف دوڑتاہے".
آج دوپہر جب میں کام سے واپس آ رہا تھا تو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم قوم سے سرکاری خرچے پر اپنے دفتر کے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے بہت شرافت سے کہہ رہے تھے " میں نے ایک کمیشن بنا دیا ہے جو میرے خلاف تحقیقات کرے گا اور یہ میرے خاندان کے خلاف سازش ہے، وغیرہ وغیرہ " پتہ نہیں کیوں مجھے لگ رہا تھا کہ میاں نواز شریف پانامہ لیکس کے بعد کسی چھت پر کھڑے ہو کر کہہ رہے ہوں کہ " میں آج چا چا رحمت کو نہیں چھوڑوں گا " یعنی پاکستان کی کمزور عوام نے اگر مجھ سے اور میرے خاندان سے کوئی سوال پوچھا تو میں انہیں نہیں چھوڑوں گا ۔


اس ضمن میں کچھ باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
1-سب سے پہلے اس بات کی تحقیق کی جائے کہ کیا آج کا قوم سے خطاب پاکستان کا وزیراعظم کر رہا تھا یا شریف خاندان کا نمائندہ؟
2-اس خطاب کے لیے جو انتظامات کیے گئے کیا ان کے اخراجات ، ٹی وی کا ائیر ٹائم، اور دیگر بندوبست کا خرچہ حکومت پاکستان کے خزانے سے ادا ہو گا یا ان آف شور بینکوں سے جن میں علی با با اور چالیس چوروں کا پیسہ دفن ہے ؟
3-اگر میاں نواز شریف قومی میڈیا کا استعمال اپنے خاندان کو کلین چٹ دینے یا دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں تو کیا یہ اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں ؟ اور کیا اس کے بعد انھیں اس دفتر میں بیٹھنے کا حق ہے ؟
4-وزیراعظم اپنے خلاف کمیشن کیسے تشکیل دے سکتے ہیں جب وہ خود ملک کی سب سے طاقتور کرسی پر بیٹھے ہیں ؟
بقول رانا ثنا الله یہ پانامہ لیکس شیطانی لیکس ہیں اور ان پر بات کرنے والا بھی شیطان ہے ۔
اگر اس میں حقیقت ہے تو اس گفتگو کا آغاز تو پاکستان میں نہ
پاکستان کے میڈیا نے کیا اور نہ ہی عوام نے ۔۔اپنے جال میں خود پھنسے شریف خاندان کو ایک بار ان دوستوں سے بھی بات کر لینی چاہیے کہ جن کے ملکوں میں ان کی سرمایہ کاری ہے اور پھر شائد اگلے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم بات کا آغاز کچھ ایسے کریں :
میرے عزیز ہموطنو !
باغبان نے آگ دی جب آشیانے کو میرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن
زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے
آئینہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا
کیا مزہ ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

انوار ایوب راجہ کے جمعرات اپریل کے مزید کالم