شفقت کا ترانہ

جمعہ اپریل    |    عمار مسعود

موسیقی کے گھرانوں میں گھرانہ کہلانے کے مستحق وہی خاندان ہوتے ہیں جن کی کم از کم تین نسلیں اس شعبے سے وابستہ رہی ہوں۔ پٹیالہ گھرانے کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ موسیقی کے گھرانوں میں پٹیالہ گھرانے کی اپنی ایک منفرد شناخت ہے۔ اس فن کی خدمت میں پٹیالہ گھرانہ کئی صدیوں سے لگا ہے۔ ہر دور اور ہر عہد میں اسکے فنکاروں نے اپنے انگ اور رنگ سے لوگوں کو محظوظ کیا۔ اپنی طرز موسیقی کی بقاء کے لیئے اس گھرانے کوکام کرتے مدتیں ہو گئیں۔
برصغیر کے بہت سے نامور موسیقار وں نے اس گھرانے میں جنم لیا اور اپنا نام بنایا۔اس گھرانے نے کلاسیکی موسیقی کو اس کے اصل رنگ میں برقرار رکھا اور اس میدان میں وہ کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے کہ جن پر ایک زمانہ فخر کر سکتا ہے۔

(خبر جاری ہے)

استاد بڑے غلام علی خان کو اس گھرانے کا سب سے معتبر نام کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ بڑے غلام علی خان صاحب کے دادا استاد ارشاد علی خان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار کا حصہ تھے اور مہاراجہ کے نورتنوں میں شامل تھے۔

آپ نے موسیقی کی تعلیم اپنے والداستاد علی بخش خان اور استاد کالے خان سے لی۔ برصغیر کی تاریخ میں استاد بڑے غلام علی خان سے زیادہ معتبر نام تلاش کرنا مشکل ہے ۔ جن لوگوں نے استاد بڑے غلام علی خان کو سنا ہے وہ ان کو تان سین ، بیجو باورا اور نائک ہری داس سوامی کے ہم مرتبہ گائک قرار دینے پر مجبور ہو گیا ہے۔
پاکستان میں اس گھرانے کی پہچان دو بھائیوں استاد امانت علی اور استاد فتح علی خان کی جوڑی بنی۔
دونوں کا رنگ مختلف تھا مگر دونوں ساتھ ہی سجتے تھے۔ استاد امانت علی خان نے کلاسیکی موسیقی کے علاوہ غزل اور نغمے کو بھی مشق سخن بنایا۔ انکے گائے ملی نغمے اے وطن پاک وطن کی دھمک آج تک دلوں میں وطن سے محبت کا جذبہ جگاتے ہیں۔امانت علی خان کی گائی ہو ئی نظم انشاءء جی اٹھو اب کوچ کرو اب بھی آنکھوں میں آنسو لاتی ہے۔ صرف بیالیس برس کی عمر میں امانت علی خان کے انتقال کے بعد اس گھرانے نے ایک اور جوڑی متعارف کروائی۔
استاد حامد علی خان اور اسد امانت علی خان میدان میں اترے اور اپنے فن کے جھنڈے گاڑ دیئے۔امانت علی خان کی وفات کے بعد بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر جب اسد امانت علی خان نے اشکبار آنکھوں سے انشاء جی اٹھو گائی تو سارا پاکستان اسد امانت علی کے ساتھ رویا تھا۔ اسد امانت علی خان بھی جلد اس دنیا کو چھوڑ گئے ۔ اب اس گھرانے کے ایک اور ہنر مند فنکار شفقت امانت علی سامنے آئے۔شفقت اس گھرانے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے فنکار ہیں گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور جلد ہی موسیقی کی دنیا میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
شفقت کے فن کا کمال یہ کہ انہوں نے بعض چیزوں میں لہجہ ، لہن اور بعض اوقات لفظ بھی وہی رکھے مگر اس سب کے باوجود اپنی آواز اور ہنر سے پرانی گائکی کو نیا رنگ دیا۔غزل، ٹھمری ، گیت اور فوک جیسی دشوار اصناف میں قدم رکھا اور کامران ٹھہرے۔ شفقت سے میری جب بھی ملاقات ہوئی ہے میں نے انکو بہت ذہین ، محب وطن ، مخلص اور حساس فنکار کے طور پر پایا ہے۔
اس سارے تاریخی پس منظر کو بیان کرنے کی وجہ شفقت امانت علی خان کی وہ بھول ہے جو کلکتہ کے میدان میں ترانہ پڑھتے ان سے ہو گئی
تھی۔
یہ غلطی تھی اور نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ یہ بات یہاں تک محدود رہتی تو ٹھیک تھا۔ شفقت امانت علی خان نے پہلی فرصت میں پاکستانی قوم سے اپنی اس نادانستہ چوک کی معافی مانگ لی۔ لیکن بھلا ہو ان تجزیہ کاروں کا، سوشل میڈیا کے دانشوروں کا اور جذباتی مفکرین کا کہ جنہوں نے اس کوسازش سے لے کر غداری تک کے القابات سے موسوم کیا۔غلطی ہونا انسان کے انسان ہونے کی دلیل ہے۔ غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ عہدہ ، منصب اور مقام غلطیوں سے ماورا نہیں ہوتے۔
لیکن بس اتنی استدعاہے کہ غلطی اور غداری میں تمیز کرنا سیکھ لیں۔ جس خاندان کے گائیکوں کے ملی نغمے گا گاایک نسل جوان ہوئی ہے اس خاندان کے ایک فرد کی غلطی کو اتنا بڑا بہتان نہ بنا دیں۔معاف کرنا سیکھ لیں۔ درگرز کا رستہ اپنانے کی کوشش کریں۔ ہر بات پر قومی غیرت اور حمیت کے فیصلے نہ سنا دیا کریں۔اتنا شدید ہو کر قومیں زندہ نہیں رہ سکتیں۔یاد رہے۔ شدت کی یہ کیفیت دوطرفہ ہے۔ امیتابھ بچن کسے ساتھ بھی انڈیا میں اس ضمن مین وہ سلوک ہوا جس کے وہ قطعی مستحق نہیں تھے۔

شفقت نے جو اس قوم سے معافی کی درخواست کی ہے اس میں واضح طور پر یہ تحریر ہے کہ آڈیو کے کچھ مسائل کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ جن لوگوں کا موسیقی سے کوئی رابطہ رہا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مائیک کی ذرا سی خرابی، ساونڈ سسٹم میں آواز کا بلاسٹ ہونا، آواز کا درست فیڈ بیک نہ ملنا، سٹیج کے پیچھے لوگوں کا شور یا پھرآواز کی بازگشت سنائی دینا گلوکار کی پرفارمنس کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔ کلکتہ میں قومی ترانہ پڑھتے ہوئے شفقت امانت کے چہرے کے تاثرات سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ وہ کسی چیز سے ڈسٹرب ہو رہے ہیں اور اسی پریشانی میں یہ غلطی سرزد ہو گئی۔
شفقت امانت علی اس بات پر معافی ہی مانگ سکتے تھے جو انہوں نے مانگ لی۔ مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو اس بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں۔ اس کو سازش سے تعبیر کر رہے ہیں۔ سکرینوں پر لوگوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اگر آپ ان دانشوروں سے کبھی قومی ترانہ سننے کی فرمائش کر دیں تو ان میں سے بہت سے ہیں جو کئی مصرعوں پر گڑ بڑا جائیں گے۔
ٓآپ قومی ترانے کو پاک سر زمین سے سایہ خدائے ذوالجلال تک پڑھ لیں یہ ترانہ محبت کا ترانہ ہے۔
وطن دوستی کا اسلوب سکھاتا ہے۔ اس کے لفظ وطن کی شادمانی پر ناز کرتے ہیں۔ اس میں عوام کی اخوت پر فخر کا اظہار ہے۔ اس میں سبز ہلالی پرچم کے گن گائے ہوئے ہیں۔ ماضی کی شان کے قصیدے سنائے گئے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر سے دعا مانگی گئی ہے۔یہ وہ ملک ہے جس کے جھنڈے پر سبز اور سفید رنگ ہے۔ سب کے لیئے امن کی خواہش کی گئی ہے۔ شدت کی کہیں ترویج نہیں کی گئی۔ نفرت کا کہیں ذکر نہیں آیا۔ یہ کہنا درست ہے کہ یہ ترانہ امن کا پیغام دیتا ہے۔خوشحالی کا پیام دیتا ہے۔ ترقی کا راستہ دکھاتا ہے۔عوامی قوت کا مظہر بنتا ہے۔ اخوت کا درس دیتا ہے۔شادمانی کے گیت گاتا ہے۔ یہ ترانہ سب کا ہے ۔ یہ ترانہ حب الوطنی کی عبادت کا ہے۔ یہ ترانہ مظہر صداقت کا ہے ۔ یہ ترانہ محبت کا ہے۔ یہ ترانہ شفقت کاہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمار مسعود کے جمعہ اپریل کے مزید کالم