ویایا میں چند روز

ہفتہ اپریل    |    عارف محمود کسانہ

پراگ سے ویانا جانے کے لئے ریل کا انتخاب اس لئے کیا کہ ایک تو یورپ میں ریل کا سفر بہت آرام دہ ہوتا ہے اور دوسرا یہ کہ دوران سفر چیک ریپبلک اور آسٹریا کی سرزمین دیکھنے کا موقع ملے گا۔ چند گھنٹوں کے پر لطف سفر کے بعد جب ویانا ریلوے اسٹیشن پہنچے تو چوہدری فاروق اور ارشد باجوہ ہمارے منتظر تھے۔ دونوں احباب سے مل کر محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ ہماری پہلے ملاقات ہے۔ چوہدری فاروق سے تو ایک مدت سے رابطہ تھا جبکہ ارشد باجوہ سے پہلی بار تعار ف ہوا۔
دونوں احباب ایک طویل عرصہ سے آسٹریا میں مقیم ہیں۔آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے اندر یو این سٹی یعنی اقوام متحدہ کا شہر بھی آباد ہے جس میں اقوام متحدہ کے بہت سے دفاتر قائم ہیں۔ ان دفاتر میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے روکنے کا ادراہ CTBT، تجارت، مہاجرین، خلا، منشیات اور دیگر شعبوں سے متعلقہ آٹھ اہم ادارے ہیں۔

(خبر جاری ہے)

انہی میں سے ایک عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی (IAEA)ہے جس میں چوہدری فاروق اکتیس سال کام کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں۔

اُن کے دل میں پاکستان دھڑکتا ہے اور وہ وہاں کے حالات بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ حال ہی میں وہ عمران خان سے پاکستان میں جا کر مل کر آئے ہیں جس کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے دل سے آواز آئی یہ سچا اور کھرا انسان ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنا چاہتا ہے۔ چوہدری فاروق اپنے زمانہ طالب علمی میں گجرات کی معروف درسگاہ زمیندارہ کالج کی سٹوڈنٹس یونین کے صدررہے ہیں۔ ان دونوں احباب کو مل کر وہی احساس ہوا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی حب الوطنی کے جذبہ سے نہ صرف سرشار ہیں بلکہ وہ وطن عزیز کی ترقی اور خوش حالی کے لئے بھر پور کرادر ادا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

آسٹریااگرچہ ایک چھوٹا ملک ہے لیکن بڑا ماضی اور تاریخ رکھتا ہے۔ ۴۵۰ قبل مسیح کے آثار رکھنے والا یہ خطہ جنگ عظیم اول کے بعد ری پبلک آف آسٹریا قرار پایا۔ سولویں اور سترھویں صدی میں ترکوں نے اس خطہ کو حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ وی یانا شہر کے مضافات میں ایک پہاڑی مقام تک ترک پہنچ آئے لیکن محاصرہ کے بعد بھی کامیابی نہ ہوئی اور واپس چلے گئے۔کچھ عرصہ قبل آسٹریا نے اس پہاڑی مقام پر تین سو سال کی فتح کا جشن بھی منایا۔
ترک واپس تو چلے گئے لیکن کافی کو اس خطہ میں متعارف کرا گئے۔ وی یانا کے کافی ہاؤس بہت شہرت رکھتے ہیں جہاں مختلف قسم کے کیک اور پیسٹریاں واقعی لاجواب ہیں۔ آسٹریا نے ترکوں سے تو شکست نہ کھائی لیکن نپولین نے ۱۸۰۵ء کو انہیں شکست دے دی۔ دونوں عالمگیر جنگوں میں یہ میدان کارزار رہا ۔ ہٹلر نے جس بالکونی سے ویانا میں خطاب کیا تھا سیاح اسے دیکھنے ضرور جاتے ہیں۔ ۱۹۵۵ء میں آسٹریا کو آزادی اس شرط پر دی گئی کہ آئین میں غیر جانداری پر کاربند رہنے کا وعدہ کیاگیا یہی وجہ ہے کہ یہ ملک نیٹو یا کسی اور اتحاد میں شامل نہیں۔
یورپ کا اہم پہاڑی سلسلہ ایلپس کے تین سلسلے آسٹریا کو مضرب سے مشرق تک قطع کرتے چلے جاتے ہیں اور تین چوتھائی رقبے پر چھائے ہوئے ہیں۔ یہ سیاحت کا ہم مرکز ہے جو قدرتی مناظر کی دلکشی کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ یورپ کے دیگر بڑے شہروں کی طرح ویانا بھی دریا کے کنارے آباد ہے اور ڈینوب دریا اس کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کرتا ہے۔ دریا سے نہریں نکال کا سیلاابی صورت سے بچنے اک بھی انتظام کیا گیا ہے۔
اسلامک سینٹر ویانا کی مسجد بہت خوبصورت اوروہاں کے مسلمانوں کا ہم مرکز ہے۔
ویانا شہر ماضی کی تاریخ کو اپنے اندر اس طرح سموئے ہوئے ہے کہ سیاحوں کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ عالمی شہرت یافتہ ماہر نفسیات سگمنڈ فرائد کا بھی یہ شہر ہے ۔ اُس نے اعصابی اور نفسیاتی الجھنوں کے حل کے لئے تحلیل نفسی کے نام سے نیا طریقہ علاج وضع کیا۔ انسانی ذہن، خوابوں اور جنس پر اُس کے خیالات کی گہری چھاپ دور حاظر میں بھی موجود ہے اگرچہ مشرق کی طرح مغرب میں بھی اس کے ناقدین بڑی تعداد میں ہیں۔
ویانا میں گوئٹے کے بہت بڑے مجسمے کو بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ جرمن زبان کے اس عظیم مفکر کو علامہ اقبال نے بہت خراج تحسین پیش کیا ہے۔یہ شہر تعلیمی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کاگہواراہ رہا ہے اور اب بھی اپنی ماضی کی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یونیورسٹی آف ویانا یورپ کی ایک قدیم جامعہ ہے جو ۱۳۶۵ء میں قائم ہوئی اور یہ تعلیم و تحقیق کی دنیا میں اہم مقام رکھتی ہیں۔اسی یونیورسٹی کی میڈکل فیکلٹی ۲۰۰۴ء سے ویانا میڈیکل یونیورسٹی کی صورت میں قائم ہے۔
پاکستان سے بہت سے ڈاکٹر اور دیگر شعبوں کے ماہرین آسٹریا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے گئے ہیں۔ آسٹریامیں پاکستانی کمیونیٹی اگرچہ تعداد میں بہت زیادہ نہیں لیکن نمایاں مقام رکھتی ہے۔ دو دہایوں سے قائم پاکستان کرکٹ کلب بہت فعال ہے اور پاکستانی ثقافت اور کرکٹ کے فروغ کا باعث ہے۔ گذشتہ سال اس کلب نے ظہیر عباس کو مدعو کیا تھا جبکہ اس سال یوم آزادی کی تقریب میں کرکٹ کے معروف کھلاڑی عبدالرزاق شرکت کریں گے۔
کشمیر کلچر سینٹر و یانا ریاست جموں کشمیر سے تعلق رکھنے والوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے جو مسئلہ کشمیر کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے کوشاں ہے۔ چوہدری فاروق اور ارشد باجوہ نے میری کتاب افکار تازہ کی تقریب رونمائی بھی منعقد کی جس میں شامل کمیونیٹی کے اہم افراد سے ملاقات کا بھی موقع ملا۔اسی تقریب میں پروفیسر شوکت علی سے بھی ملنے کا موقع ملا جو ادیب، شاعر، کالم نگار اور صحافی ہیں۔ ان کی تحریروں کے ذریعہ دنیا بھر میں اردو پڑھنے والے آسٹریا کے شب و رز سے آگاہ رہتے ہیں۔
آسٹریا میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونیٹی کے جن احباب سے ملاقات ہوئی اُن میں شیخ وحید احمد، مقصود خان، ناصر چوہدری، نعیم خان، ندیم خان، منظور احمد خواجہ، عبدالسلام، رانا شبیر، عابد ملک، چوہدری رشید، سہیل باجوہ، محمد انور، مجاہد منصوری، عارف خان، غلام اظہر، مظہر جعفری، سرفراز اور بہت سے دیگر احباب شامل ہیں۔ اُن سب سے گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ وہ پاکستان کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔انہوں نے تعلیمی پسماندگی دور کرنے کا ایک منصوبہ شروع کیا ہوا ہے کیونکہ تعلیم سے ہی اقوام کی حالت بدلتی ہے۔وہاں کی پاکستانی کمیونیٹی کی توجہ اس جانب بھی کہ یورپی معاشرہ میں اچھے اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنا کرادر ادا کرنا ہوگا اور اپنی نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینا اولین فریضہ ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عارف محمود کسانہ کے ہفتہ اپریل کے مزید کالم