آج کا کیوشک

ہفتہ اپریل    |    سید شاہد عباس

بھارت دشمنی کی تازہ ترین مثال کلبھوشن یادیو ہے۔ جو بلوچستان سے لے کر کراچی تک حالات بگاڑنے کا نہ صرف اقرار کر چکا ہے بلکہ اپنے دست راست حضرات کے نام بھی تفصیل سے بتا رہا ہے۔ جو کچھ مضافاتی علاقوں سے اداروں کے ہتھے چڑھ رہے ہیں تو کہیں شوگر ملوں سے "علی بابا چالیس چور" کے مصداق سامنے آ رہے ہیں۔
بھارت کی "پاکستان دوستی" کی چند تاریخی مثالیں بھی موجود ہیں یہ کوئی آج کی بات نہیں ۔
ہر دور میں کلبھوشن یادیو جیسے کردار بھارت کا کردار واضح کرتے رہے ہیں۔بھارت نے حقیقتاً بغل کی چھُری دکھانے میں کبھی بھی بغل سے کام نہیں لیا ۔ ہم جتنا مرضی پڑوسی پڑوسی کر لیں۔ جتنا مرضی ہم امن کی آشائیں اڑا لیں۔ جتنا مرضی یہ راگ الاپ لیں کہ پڑوسی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے ۔

(خبر جاری ہے)

بھارت نے بہر حال ہر لمحہ یہ احساس ضرور دلانا ہے کہ ہندو بنیا پاکستان کو اپنا ازلی اور واحد دشمن نہ صرف تصور کرتا ہے بلکہ عملی اقدامات بھی اُٹھاتا رہتا ہے۔


دشمنی کی واضح مثال بھارت کا 1975 میں رویندرہ کیوشک کو پاکستان جاسوسی کے مشن پر بھیجنا تھا۔ 52ء میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان جو سٹیج تھیٹر میں اپنی صلاحتیں منوا چکا تھا کہ "را" کے کرتا دھرتا اس کی صلاحیتوں کے گرویدہ ہو گئے اور 2 سال کی تربیت کے بعد 23سال کی عمر میں یہ نوجوان پاکستان پہنچ گیا۔ نبی احمد شاکر اس کو کوڈ نیم تھا۔تعلیم حاصل کی ۔پاکستان کے اہم ترین ادارے میں ملازمت تک حاصل کر لی ۔
پاکستان کی خوش قسمتی کہ عنائیت مسیح جسے بھارت نے پاکستان کیوشک سے رابطے کے لیے بھیجا، پکڑا گیا،ا ور اسی وجہ سے کیوشک بھی گرفت میں آ گیا۔ اسے 85ء میں سزائے موت ہوئی جو ناگزیر وجوہات کی وجہ سے نہ ہو سکی اور یہ 99ء میں جیل میں ہی مر گیا۔ ٹیلی گراف انڈیا پہ 30دسمبر2002کو کیوشک کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع ہوئی جو لاکھوں لوگوں نے پڑھی۔کیوشک پہ بھارت میں ایک فلم بھی بن چکی ہے" ایک تھا ٹائیگر"۔
جس کے حوالے سے کیوشک کے خاندان کے فرد نے مقدمہ بھی دائر کیا کہ یہ کیوشک کے بارے میں ہے۔ یاد رہے کہ کیوشک کے بارے ہی خیال ہے کہ اس کا کوڈ بلیک ٹائیگر تھا۔ کیوشک سے ملتی جلتی ہی ایک کہانی کا ذکر انڈین انٹیلیجنس کے سابق جائنٹ ڈائریکٹرملائے کرشنا دَر نے اپنی کتاب " مشن ٹو پاکستان (2002) " میں بھی کیا ہے۔ لیکن بھارت نے کبھی کیوشک کو تسلیم نہیں کیا بطور ایجنٹ اسی لیے کیوشک نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ " کیا بھارت جیسے بڑے دیس کے لیے قربانی دینے والوں کو یہی ملتا ہے"۔

کشمیر سنگھ کو ہمارے ایک نگران وزیر صاحب نے کمال مہربانی دکھاتے ہوئے رہائی میں مدد دی، یہ ثابت کر تے ہوئے کہ موصوف ذہنی بیمار ہیں اور 35 سال جیل کاٹ چکے ہیں۔ اور ثابت بھی نہیں کہ یہ ایجنٹ تھا۔ 2008 ء میں رہائی کے بعد واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی اس کی ذہنی حالت بھی ٹھیک ہو گئی اور موصوف ہیرو بن کر گئے کہ میں واقعی ایجنٹ تھا اور ابراہیم کوڈ نیم تھا۔ جب کہ 62-66 تک انڈین آرمی کا حصہ بھی رہا۔ اور اس بات سے بھی انکاری کہ مسلمان ہوا ہوں۔

سربجیت سنگھ(یا منجیت سنگھ) کے اہل خانہ کا یہی مطالبہ رہا کہ وہ ایجنٹ نہیں تھا۔ لیکن ہندوستان ٹائمز کی ہی برقی اشاعت پہ راجیش آہوجا کی ایک سٹوری فائل ہوئی جس میں یہ مانا گیا کہ سربجیت ایجنٹ تھا اور اس کیس کو انڈین انٹیلیجنس میں مانیٹر بھی کیا جا رہا تھا۔ یہ بھی جیل میں ہی بناء موت کی سزاء کے باہمی لڑائی میں مر گیا۔ ونے دیوناتھ سوشل میڈیا پہ ایک تحریر دسمبر 2015 میں شائع کی جس کا ٹائٹل تھا" 06 رئیل انڈین سپائی سٹوریز دیٹ ول میک یو پراؤڈ"اس میں جن 6افراد کا ذکر ہے اس میں سب سے اوپر نام "اجیت دوول " کا ہے جو بھارت کے موجودہ قومی سلامتی کے مشیر ہیں اس رپورٹ کے بقول موصوف 7سال تک انڈر کور ایجنٹ رہے پاکستان میں۔
اس فہرست میں رویندرہ کیوشک اور کشمیر سنگھ کے نام بھی شامل ہیں ۔ بھارت کے ہی ایک مشہور نشریاتی ادارے نے انکیت تویجا کی ایک رپورٹ شائع کی 26 ستمبر2013 کو۔ جس کا عنوان تھا " 12ٹیلز" یعنی 12 کہانیاں، ان افراد کے بارے میں جو بھارت کی تاریخ کے کامیاب ایجنٹس رہے۔
پاکستان چاہے جتنا بھی بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے لیکن بھارت سرکار دوستی کی آڑ میں اس لیے اپنے مذموم مقاصد جاری رکھے ہوئے ہے کہ اس نے کبھی پاکستان کا وجود تسلیم ہی نہیں کیا۔
لیکن کلبھوشن یادیو کے معاملے میں حالات اس لیے بھی مختلف ہیں بھارت اس کو نہ صرف اپنا شہری مان چکا ہے بلکہ نیوی ملازم بھی تسلیم کر رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں موجود اپنے سفارت خانوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کیس عالمی دنیا میں بہترین انداز میں لڑ کر ملکی تشخص کو مضبوط بنائے اور دشمن کو چالوں کو ناکام بنائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے ہفتہ اپریل کے مزید کالم