ہمارا مسئلہ

منگل اپریل    |    محمد عرفان ندیم

ہمارا پہلا مسئلہ ہمارا میڈیا اور ہماری یونیورسٹیاں ہیں ۔ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں اور اکیسویں میں یہ واحد دو ادارے ہیں جو کسی ملک اور قوم کی ترقی اور بہتری میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں ،ہم آج تک یہی سمجھتے آ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں سیاست کے ذریعے تبدیلی آئے گی جبکہ یہ تصور پرانا ہو چکا ہے ، دنیا اس اپروچ سے بہت آگے نکل چکی ہے اور اب ہمیں بھی اس ” متھ “ سے جان چھڑانی پڑے گی۔
پچھلی صدی نے میڈیا اور یونیورسٹیاں ان دو ادروں کو سیاست کے متبادل کے طور پر پیش کیاہے ،آپ دیکھ لیں دنیا میں آج جتنے ممالک بھی ترقی یافتہ ہیں ان کے پیچھے ان کی یونیورسٹیوں اور ان کے میڈیا کا ہاتھ ہے ۔ میڈیا کا بنیادی کام عوام کی درست راہنمائی ، حقائق کی ترسیل اور خبر کی فراہمی ہے لیکن ہمارا میڈیا اس کام کے سوا باقی سب کچھ کرتا ہے ۔

(خبر جاری ہے)

تیسری دنیا کے ممالک کو آگے نکلنے کے لیے ضرورت سے ذیادہ محنت، لگن اور مشنری جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

اس کی واضح مثال جاپان ہے ، 1945کے بعد اگر جاپانی ایک قوم نہ بنتے توآج جاپان جاپان نہ ہوتا ۔ ہم بھی اس وقت 1945کے جاپان میں کھڑے ہیں ۔ہم بکھری ہوئی قوم ہیں ، ہماری ذاتی مفادات ہیں اورہم کرپشن، بد عنوانی اور جعلی مینڈیٹ کی چکی میں پس رہے ہیں ، اس نازک صورت حال میں ہمارے میڈیا اور ہماری یونیورسٹیوں نے جو لیڈنگ رول پلے کرنا تھا وہ یہ دونوں ادارے نہیں کر رہے ۔ آپ دیکھ لیں ہمارے جتنے بھی میڈیا ہاوٴسز ہیں ان کے اپنے ذاتی مفادات ہیں اور ان میں سے اکثر نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے میڈیا کی چھتری کا سہار الیا ہواہے ۔
میں ذاتی طور پر لاہور کے ایک طاقتور گروپ کو جانتا ہوں جو بہت بڑی جاگیر اور سوسائیٹیوں کے مالک ہیں ،انہوں نے اپنی پراپرٹی کو بچانے کے لیے ٹی وی چینل کے اجرا کا لائسنس حاصل کرلیا ہے اور اب یہ لوگ اس چینل کے ذریعے ملکی ”ترقی“ کا کارنامہ سرانجام دیں گے۔ آپ کو اکثر میڈیا ہاوٴسز کے پیچھے ایسے ” مخلصانہ “ جذبات کار فرما نظر آئیں گے ۔ آپ کسی بھی چینل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کا جائزہ لیں ، آپ کو کوئی فکری ،تعمیری یا علمی موضوع پر کوئی پروگرام نہیں ملے گا۔
ہمارا میڈیا کمرشلزکا کتنا بھوکا ہے اس کا اندازہ آپ رمضان ٹرانسمیش سے لگا لیں ،صرف ریٹنگ بڑھانے اور کمرشلز کے حصول کے لیے بجائے کسی عالم دین اور صاحب علم کویہ ذمہ داری سونپنے کے کسی اداکار یا اداکارہ کو پکڑا جاتا ہے اور اسے رمضان ٹرانسمیشن کا ”ٹھیکہ “ دے دیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو سارا سال ناچ گانا کر تے اور اپنے جسم کی نمائش کرتے ہیں رمضان میں عوام کو پردے اور نیکی کا بھاشن دینے لگ جاتے ہیں ۔
ہمارا میڈیا اور ہمارے ٹی وی چینلز جو دکھا رہے ہیں اس پر محترم عامر خاکوانی اور خورشید احمد ندیم اچھا تبصرہ فرمان چکے ہیں ، ایک طرف انڈین چینلز پر پابندی عائد کی گئی ہے اور دوسری طرف وہی سارا گند ہمارے اپنے چینلز دکھا رہے ہیں لیکن اس پر کوئی رو ک ٹوک نہیں۔ سال کے 365دنوں میں انڈین کلچر اور تہذیب دکھا کر توقع کی جاتی ہے کہ ہماری نوجوان نسل محب وطن ثابت ہو گی اور اپنی تہذیب واقدار کی پاسبانی کرے گی۔
ہمارے میڈیا ہاوٴسز خود کو میڈیا انڈسٹری کہلاتے ہیں، جب تک یہ انڈسٹری کا لفظ مشنری میں نہیں بدلے گا تب تک میڈیا کا قبلہ درست نہیں ہو گا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تحریک پاکستان اور پاکستان کے قیام میں پرنٹ میڈیا کا کردار بڑا اہم تھا ،مولانا ظفر علی خان اور مولانا شوکت علی کی تحریر اور نثر کو کون بھول سکتا ہے،مولانا ظفر علی خان کے زمیندار اور ان کے ادریوں کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے ،مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد اور کامریڈ کی اردواور انگریزی نثر کو کوئی کیسے فراموش کر سکتا ہے ،یہ سب صرف اس وجہ سے ممکن ہواتھا کہ اس وقت میڈیا انڈسٹری نہیں مشنری تھااور ایسے معجزے صرف مشنری جذبے کے تحت ممکن ہوا کرتے ہیں۔
ہمارے میڈیا کی ترجیحات کیا ہیں اس کا انداز ہ آپ اس رپورٹ سے لگا لیں ،کچھ عرصہ پہلے نیب نے جو ڈیڑھ سو میگا کرپشن اسکینڈلز کی فہرست سپریم کورٹ میں پیش کی تھی اس میں ا یک نام جے ایس گروپ کا تھا ،اس گروپ کے دو بڑے کیسز کی نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں ، پہلا کیس جے ایس آئی ایل کی این آئی سی ایل کے ساتھ دو ارب روپے کی غیر قانونی سرمایہ کاری تھی اور دوسرا کیس اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ کا سب سے بڑا میگا کرپشن اسکینڈل ایز گارڈ نائن تھا جس میں 2007سے2009تک جہانگیر صدیقی نے اسٹاک ایکسچینج کو انگلیوں پر نچا کر اربوں روپے کمائے تھے ۔
نیب ان دونوں کیسز کی تحقیقات کر رہا ہے اور سپریم کورٹ میں پیش کیئے جانے والے ڈیڑھ سو میگا کرپشن اسکینڈلز میں اس کی تفصیلات موجود ہیں ، آپ نیب کی ویب سائٹ پر بھی یہ تفصیلات دیکھ سکتے ہیں ۔2016کے شروع میں جب ان کیسز کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی اور نیب نے نیشنل بینک سمیت دیگر اداروں کو خط لکھے اور ساتھ جے ایس گروپ کو بھی طلب کیا تو یہاں سے ایک نیا کھیل شروع ہوا ۔ جے ایس گروپ نے میڈیا سے بچنے کے لیے ہر چھوٹے بڑے اخبار اور ٹی وی چینل کو اشتہارات دینے شرو ع کر دیئے ۔
کچھ عرصہ پہلے آپ نے ” جے ایس گروپ ،ایک قدم آگے “ کے اشتہارات میڈیا پر اکثر دیکھتے ہوں گے ، اتنے اشتہارات اس وقت بھی نہیں چلائے گئے تھے جب اس بینک کا افتتاح ہوا تھا ۔ رپورٹر ان کیسز کی خبریں فائل کر کر کے تھک گئے ہیں لیکن کوئی اخبار یا ٹی وی چینل انہیں نشر نہیں کر رہا کیونکہ انہیں جے ایس گروپ کی طرف سے کروڑوں کے اشتہارات مل رہے ہیں اب میڈیا کروڑوں روپے کمائے یا عوام کو درست حقائق بتائے ۔
پرنٹ میڈیا کا دور الیکٹرانک میڈیا سے پھر بھی بہتر تھا ، اس میں ایڈیٹر کو اختیارات ہوتے تھے اور وہ انسٹی ٹیوشن کا درجہ رکھتا تھا لیکن اب معاملات مالک کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں ، پہلے صرف اندرونی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہوتا تھا اب انٹر نیشنل اسٹیبلشمنٹ بھی میڈیا ہاوٴسز پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہمارے کئی میڈیا ہاوٴسز ایسے ہیں جنہیں باقاعدہ باہر سے فنڈنگ ہوتی ہے حالانکہ صحافتی ضابطہ اخلاق میں یہ بات درج ہے کہ کوئی بھی میڈیا ہاوٴس بیرونی امداد نہیں لے گا۔
اکیسویں صدی میں شروع ہونے والی جنگوں میں پاکستانی میڈیا کو جس طرح استعمال کیا گیا یہ ایک الگ کہانی ہے ۔ عالمی طاقتیں جس خطے میں جنگ کا ایجنڈا طے کرتی ہیں وہاں اس ایجنڈے پر بھی کام کیا جاتا ہے کہ وہاں کے میڈیا کو کس طرح استعمال کیا جائے گا، نائن الیون کے بعد ایک طرف ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کو ان جنگوں میں شامل کیا گیا اور دوسری طرف اس خطے کے میڈیا پر بھی محنت کی گئی،ایک طرف مختلف چینلز اور اخبارات کو فنڈز دیئے گئے اور دوسری طرف ان میڈیا ہاوٴسز سے وابستہ افراد کو اسکالرشپ پر امریکہ اور یورپ میں بلایا گیا اور وہاں انہیں کورسز کروائے گئے ۔

ہم اس وقت جس صورتحال سے دو چار ہیں اور جس دور سے گزر رہے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ میڈیا اپنا قبلہ درست کرے ، جب تک میڈیا اپنا قبلہ درست نہیں کرے گا تب تک اس ملک میں تبدیلی کی ہوائیں نہیں چلیں گی۔ ہمار ا دوسرا مسئلہ ہماری یونیورسٹیاں ہیں ، ہماری یونیورسٹیوں کا المیہ کیا ہے اس کاتذکرہ پھر کبھی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

محمد عرفان ندیم کے پیر اپریل کے مزید کالم