طاہر شاہ ، اینجلز اور پانامہ لیکس

منگل اپریل    |    انوار ایوب راجہ

ایک روز میاں شہباز شریف کنگنا رہے تھے " تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں،اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں،چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں،میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا " ۔ جس روز اینجلز پاکستان میں طاہر شاہ کو ملنے آئے تھے اور اسی روز کسی نے پانامہ پیپر لیک کر دیے ۔ اکثر جب کچھ لیک ہوتا ہے تو اس کے اثرات کافی دیر تک رہتے ہیں۔اینجلز کو واپس پہنچنا تھا پانامہ لیکس کی بد بو پرستان تک پہنچ چکی تھی ۔
کسی نے پرستان میں بتا دیا تھا کہ ایک انسان طاہر شاہ اینجلز کی مدد سے زمین پر کچھ کر رہا ہے اور اس کام کے لیے اس نے اینجلز کو جو رقم دی ہے وہ آف شور بنکوں میں رکھی ہے ۔ ان میں سے ایک اینجل جس کا نام ببلو اینجل تھا وہ طاہر شاہ کا قریبی دوست تھا اور پہلے بھی پاکستان آتا جاتا رہتا تھا وہ میاں شہباز شریف کی آواز کا دیوانہ تھا ، اس روز جب اس نے میاں صاحب کو اس قدر درد میں گاتے دیکھا تو سوچا کہ وہ میاں صاحب سے ضرور پوچھے گا کہ ان کی آواز میں اتنا درد کیوں ہے ۔

(خبر جاری ہے)


وہ واپس زمین پر آ گیا اور اس نے میاں صاحب سے پوچھا کہ کیا وہ یہ سیاسی نغمہ زرداری صاحب کے خلاف گا رہے ہیں ؟میاں صاحب نے اینجل کو دیکھا تو سمجھ گئے کہ آج ضرور طاہر شاہ کی شوٹنگ ہو گی اور بولے " نہیں اس زیادتی کے خلاف جو پاکستان کا میڈیا میرے بھائی اور اس کے معصوم بچوں کے ساتھ کر رہا ہے ، ہمارا سارا پیسہ تمھارے پروں کی طرح شفاف اور طاہر شاہ کی موسیقی کی طرح پاک ہے "
اینجل بولا" اگر ایسا ہے تو آپ وضاحت فرما دیں کہ یہ آف شور کمپنیاں کہاں سے آئیں اور یہ پیسہ لندن کیسے پہنچا، ہمارے پرستان میں بھی بڑی کھپ پڑی ہے ؟"
میاں صاحب نے دو کپ چائے کا آرڈردیا اور بولے " دیکھو لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں مگر کسی کی زہر آلود معلومات سے اپنے خیالات کو آلودہ نہ کر لینا ۔
ان کمپنیوں اور پیسوں کے پیچھے کچھ امکانات ہیں تم ایک اینجل ہو ، نوٹ کرو : پہلاامکان: مریم کو بچت کی عادت ہے اس کی کمیٹی نکلی اور اس کے بھائیوں نے بہن سے پیسے لیکر فیکٹری کھول لی۔ دوسراامکان: مریم اور صفدر کا ٹوپیوں کا کاروبار تھا، منافع اسقدرتھا کہ لندن میں فلیٹ خریدنے کے بعد چوری کے ڈر سے باقی پیسہ آف شور کھاتوں میں رکھا گیا ۔ تیسرا امکان: ایک روز باغ میں ٹہلتے ہوئے ایک لاٹری کا ٹکٹ بڑے میاں صاحب کو ملا ، انہوں نے وہ ٹکٹ حسین کو دیا ، حسین یہ ٹکٹ لیکر قریبی دوکان پر گیا اور اسے پتہ چلا کہ وہ کھرب پتی ہو گئے ہیں ، حسین نے حسن کو فون کیا ، دونوں بھائیوں نے مریم سے ایک تھیلا لیا ، لاٹری کے پیسے ایک کشتی میں رکھے اور آف شور کمپنی کھولنے پانامہ جا پہنچے "۔
میاں صاحب نے چائے پینے کے بعد ایک نئے پل کے افتتاح کے لیے جانا تھا اس لیے وہ مزید امکانات پر بات نہ کر پائے ۔
جاتے ہوئے میاں صاحب نے ببلو اینجل سے وعدہ کیا کہ اگر وہ طاہر شاہ کی مدد سے پاکستانی قوم سے اس زیادتی کا بدلہ لے سکا جو انہوں نے شریفوں پر الزامات لگا کر کی ہے تو وہ پرستان سے پاکستان تک ایک موٹروے کے لیے بڑے میاں صاحب سے بات کریں گے۔ ببلو اینجل اڑ اڑ کر تھک چکا تھا ، اسے یہ آئیڈیا اچھا لگا اور اس نے میاں صاحب سے وعدہ کیا کہ دنیا میں جہاں جہاں سے پانامہ پیپر کے لیک ہونے کے امکانات ہیں وہاں کے لوگوں نے اگر کان نہ پکڑے تو جو جمہور کی سزا وہ اس کی سزا۔۔ اینجل ببلو واپس زمین پر آ گیا اور اس نے اپنے لیے اور طاہر شاہ کے لیے دو گاو ن سلوائے اور ایک گیت سے دنیا پر حملہ کر دیا - گیت کے الفاظ تھے " اینجل ، مین کائنڈ"۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

پانامہ پیپر لیکس

انوار ایوب راجہ کے منگل اپریل کے مزید کالم



متعلقہ کالم