"خدمتگاروں "کا حق

جمعرات اپریل    |    سید شاہد عباس

سیاستدان کیونکہ عوام کے خدمت گار ہوتے ہیں لہذا ان کو انکی خدمت کا صلہ ضرور ملنا چاہیے اور بسا اوقات "وکی" یا " پانامہ" ہمیں بتاتے ہیں کہ وہ اپنی خدمات کا صلہ عوام پہ کمال مہربانی فرماتے ہوئے خود اپنی مدد آپ سے وصول کررہے ہوتے ہیں۔ یہ تو عوام کی سہولت کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔ کیوں کہ سیاستدان ملک کے ملازم ہوتے ہیں اس لیے یہ تنخواہ بھی لیتے ہیں۔ اب اگر" اس معمولی" سی تنخواہ سے وہ اپنی دو چار کمپنیاں بنا لیتے ہیں تو اس میں ہرگز کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔
یہ تو یقینا "خدمتگاروں" کا حق ہوتا ہے۔
پانامہ لیکس میں سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ یورپی ممالک کے سیاستدان بہت کم ہیں۔ اس فہرست میں ایک بڑی تعداد ان ممالک کی ہے جو آج بھی یورپ پہ مختلف معاملات میں انحصار کرتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

سربراہان کی بات کی جائے تو سعودی شاہ، سابق قطری امیر، سابق قطری وزیر اعظم،سابق سوڈانی صدر، سابق عمانی وزیر اعظم، عراق کے سابق وزیر اعظم، آئس لینڈ کے موجودہ وزیر اعظم و دیگر پانامہ لیکس کے مطابق کمپنیوں کے مالک یا شراکت دار ہیں۔

اس کے علاوہ حواریوں کی بات کی جائے تو پاکستانی وزیر اعظم کی اولاد، روسی صدر کے دوست،چائنیز وزیر اعظم کی بیٹی، شامی صدر کا خاندان، مراکش اردن کے حکومتی اہلکاروں کے احباب، مصر ، گیانا، جنوبی افریقہ کے سربراہوں کے رشتہ دار، آذر بائیجان کے صدر کا خاندان اور دیگر شامل ہیں۔ یورپی ممالک میں سب سے اہم وزیر اعظم کے والد کا نام ہے ۔
اس پورے قضیے کے حوالے سے سب سے پہلی اور اہم پیشرفت یہ رہی کہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم تنقید کی وجہ سے صحافیوں سے الجھ پڑے اور لوگوں نے پارلیمان کا گھیراؤ بھی کر لیا۔
لیکن حیران کن طور پر پاکستان سمیت دیگر کئی ترقی پذیر ممالک میں حالات میں کسی واضح تبدیلی کی شنید نہیں ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم کے صاحبزادے کا نام آتے ہی حکومتی ترجمان اس بات پہ خوش دکھائی دیے کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام نہیں ہے۔ جب کہ ان کو تو افسوس کرنا چاہیے تھا اس بات پہ کہ حکمران خاندان کے افراد ملوث پائے گئے۔
آف شور کمپنی، یا ملک سے باہر رجسٹرڈ کمپنی کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہوتے ہیں کہ وہاں قائم کی جاتی ہے جہاں ٹیکس کی چھوٹ ہو یا پھر خود سامنے نہ آنا مقصود ہو۔
"موساک فونسیکا" اپنے کلائنٹس کو یہ سہولت فراہم کرتی ہے کہ وہ آف شور کمپنی خریدنے یا بنانے کے حوالے سے معاملات طے کرنے میں انفرادیت رکھتی ہے۔ آف شور کمپنی کا طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے کمپنی بنائی یا خریدی لیکن آپ خود کو سامنے نہیں لانا چاہتے تو ڈمی ڈائریکٹرز سامنے لے آتے ہیں جو عموماً گورے ہی ہوتے ہیں۔ یہ آ پ کے تنخواہ دار ہوتے ہیں لیکن حقیقی مالک خریدنے یا بنانے والا ہی رہتا ہے۔
ان کمپنیز کا سب سے بنیادی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں یہ کمپنیاں قائم ہوتی ہیں وہاں یہ نہیں پوچھا جاتا کہ سرمایہ کاری کا پیسہ کہاں سے آیا اور سرمایہ کاری کے مقاصد کیا ہے اس کے علاوہ وہاں ٹیکس میں بہت زیادہ چھوٹ سے منافع کمانا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جواب طلبی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے جرائم پیشہ عناصر بھی آف شور کمپنیز کے کاروبار میں کود چکے ہیں۔تیسری دنیا کے حکمرانوں کی ان آف شور کمپنیوں میں سرمایہ کاری قانونی ہے یا نہیں یہ الگ بحث ہے لیکن اس میں ہرگز کوئی دو رائے نہیں کہ وہ اپنے اپنے ملک کے ساتھ مخلص نہیں۔
کیوں کہ اگر وہ مخلص ہوں تو سرمایہ کاری اپنے ممالک میں کیوں نہ کریں۔اورٹیکس دے کر ملک کو مضبوط کریں۔
وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے ایک طرف خود صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ انہوں نے غیر قانونی کام نہیں کیا۔ ساتھ ہی حکومتی ترجمان بھی ان کا پورا ساتھ دے رہے ہیں۔ محترمہ مریم نواز شریف بھی خود کو صرف ٹرسٹی ثابت کر رہی ہیں۔ العزیزیہ سٹیل مل سے پیسہ نکلا ان آف شور کمپنیز کو خریدا گیا تمام قانونی معاملات پورے ہوئے۔
لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو ہمارے سر پہ مسلط ہیں ان کی اولادیں کمپنیز کے ایڈریس تک میں پاکستان کے بجائے سعودی عرب کا پتہ لکھواتی ہیں۔ بے شک سب کچھ قانونی ہولیکن وہ شرم کہاں گئی وہ حیا کہاں گئی جو سکھائی جاتی تھی۔ سعودی عرب میں تو "ہل میٹلز" جو اپنی سٹیل مل ہے اس کو تو مستقبل قریب میں صفِ اول کی سٹیل مل بنانے کی یقین دہانی دی جاتی ہے لیکن پاکستان سٹیل مل کو خسارے تک سے نکالنا ممکن نہیں ہو پایا۔
چلیں مان لیا کہ کچھ غیر قانونی نہیں کیا لیکن کیا موصوف عزت مآب وزیر اعظم صاحب اپنے صاحبزادے سے اتنی سی درخواست نہیں کر سکتے کہ بیٹا جی جیسے آپ نے اپنی سٹیل مل " ہل میٹلز(Hill Metals) کو ایک کامیاب ادارہ بنایا ہے ایسے ہی پاکستان سے محبت کا ثبوت دے کر یہاں آ کر پاکستان سٹیل مل کی بھاگ دوڑ بھی سنبھال لیں۔ آپ بے شک قوم کے خدمت گار ہیں، آپ کا حق بھی ہے۔ لیکن حق کو تھوڑا سا حلال کر لیں۔
پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ اس کے حکمرانوں کی اولادیں فخریہ بیان کرتی ہیں کہ ہم نے تو ٹیکس اس لیے نہیں دیا کہ 20 سالوں سے پاکستان میں رہ ہی نہیں رہے۔
خدارا آپ میں اور ان عام پاکستانیوں میں واضح فرق ہے جو دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ وہ بے چارے دیارِ غیر مزدوری کے لیے گئے اور وہیں کے ہو رہے۔ آپ تو اس قوم کے سر پہ مسلط ہیں تو پھر آپ کے لیے اس بات میں ہرگز فخر نہیں کہ آف شور کمپنیز اور ٹیکس نہ دینا ہمارے لیے جائز کہ ہم 20 سال سے باہر ہیں۔ بلکہ یہ آپ کے لیے شرم کا مقام ہے کہ ایک ہی طرح کے ادارے ہیں لیکن جو ذاتی ہے وہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی، اور جو ملک کا ہے وہ آج گیا کہ کل۔ شرم ہم کو تو آتی ہے ، اے کاش کہ شرم و حیا کے کچھ ذرات آپ بھی باندھ رکھیں جو بوقت ضرورت کام آئیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

سید شاہد عباس کے بدھ اپریل کے مزید کالم