باعزت روزگار۔۔۔؟؟

جمعرات اپریل    |    عمر خان جوزوی

جان نہ پہچان کی کہانی تو الگ۔۔اس نے تودعا اور سلام بھی نہیں کی۔۔ نوجوان فائل میز پر رکھتے ہوئے گویا ہوئے تم ہی روز کہتے اورلکھتے ہو نہ کہ خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی نہیں آئی نہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے عوام کیلئے کچھ کیا۔ اب دیکھ لیا ہماری حکومت نے غریب عوام کو گھروں اور محلوں کے اندر کیسے باعزت روزگار دے دیا ہے۔۔؟ نہ سرکاری محکموں میں مغز کھپانے کی ضرورت۔۔ نہ کوئی کدال مارنے اور بوجھ اٹھانے کی جھنجھٹ اور نہ ہی سات سمندر پاریعنی امریکہ ۔
۔ برطانیہ۔۔ سعودی عرب۔۔ دبئی اور کویت وغیرہ میں جانے اور پردیس کاٹنے کا غم۔۔ اب غریب لوگ بھی گھروں میں بیٹھ کر گلی اور محلے کی سطح پر روزانہ سو دو سو نہیں ہزاروں روپے کما سکتے ہیں۔۔ میں نوجوان کو غور سے دیکھ اور اس کی یہ باتیں سنجیدگی کے ساتھ سن رہا تھا۔

(خبر جاری ہے)

وہ بولتے جارہے تھے۔ اچانک فل سٹاپ لیتے ہوئے گہری سانس لینے کے بعد وہ دوبارہ کہنے لگے۔ غریب کو گھر پر روزگار ملے اس سے بڑی تبدیلی اور کیا ہو سکتی ہے۔

۔؟ اب بھی اگر تم تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے خوش نہیں ہو تو پھر کوئی حکمران تمہیں خوش نہیں کر سکتا۔ میں سمجھ رہا تھا شائد پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے صوبے سے غربت و بیروزگاری کے خاتمے کیلئے کوئی نئی سکیم شروع کر دی ہے یا غریبوں کو گھر پر کاروبار کرنے کیلئے کوئی سرکاری پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔ اچانک نوجوان نے حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے میرے تو ہوش ہی اڑا دئیے۔ ایک چوہا پکڑو 25 روپے کماؤ، چوہا پکڑنا کیا مشکل ہے۔
؟۔ ایک بلی اگر دن میں سو چوہے پکڑ سکتی ہے تو پھر ایک انسان کیلئے دن میں 2 سے 3سو چوہے پکڑنا کیا مشکل۔۔؟پشاور میں حکومت نے ایک چوہا پکڑنے پر 25 روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اب جو شخص دن میں سو اور دو سو چوہے پکڑ کر 2500 سے پانچ ہزار کمائے گا ان کو پھر کام کرنے کیلئے امریکہ، سعودی عرب، برطانیہ سمیت دیگر ممالک جانے کی کیا ضرورت ۔۔؟ نوجوان کی یہ بات سن کر میں نے کہا یہی ایک کام تم سے رہ گیا تھا وہ بھی تم نے کر ہی دیا۔
ویسے تمہاری حکومت اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی ہے ۔۔؟ جو لوگ سرکاری محکموں اور اداروں میں پہلے سے موجود افسروں اور اہلکاروں کو گھر بھیجنے کی راہیں تلاش کریں ۔۔ سڑکوں کی تعمیر اور سیمنٹ سریا کا استعمال جن کے ہاں جرم ہو۔۔ وہ لوگ پھر چوہے مار اور چوہا پکڑ سکیم کے علاوہ عوام کو اور دے بھی کیا سکتے ہیں۔۔؟ درحقیقت جہاں ترقیاتی منصوبوں اور کاموں کو معیوب سمجھا جائے وہاں پھر چوہے، بلیاں، سانپ اور بچھو پکڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔
کیونکہ جب گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہوتی ہیں تو پھر ان کھنڈرات سے سونا چاندی نہیں بلکہ چوہے، بلیاں، سانپ اور بچھو ہی نکلتے ہیں۔ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے جو پالیسی اپنائی ہے اورجو طریقہ کار بنایا ہے اس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ چوہے مار سکیم کا دائرہ بہت جلد پشاور سے صوبے بھر تک وسیع ہو جائے گا کیونکہ پشاور سے کوہستان اور کاغان سے سوات تک جب گلیاں اور سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہونگی۔
۔ جب سیمنٹ اور سریا کی جگہ پر مٹی اور بھوسے کا استعمال ہوگا تووہاں سے پھر چوہوں پر چوہے اور سانپوں پر سانپ ہی نکلیں گے۔ گندم کے بیج بو کر جس طرح چاول اور مکئی کے فصل اگنے کی امید نہیں کی جا سکتی اسی طرح سڑکوں، واٹر سپلائی سکیموں، گلیوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگا کر ترقی اور تبدیلی کی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔۔ مانا کہ چوہا پکڑنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن یہ کام انسانوں کا نہیں بلیوں کا ہے۔
جب کوئی انسان جانوروں والا کام کرتا ہے تو پھر وہ اچھا نہیں لگتا۔ انسانوں سے بلی کا کام لینا کہاں کا انصاف۔۔؟ اور کونسی تبدیلی ہے ۔۔؟ بہتر ہوتا کہ صوبائی حکومت چوہے پکڑنے کی مہم شروع کرنے کی بجائے ترقیاتی منصوبوں اور سیمنٹ سریا کے ذریعے ان کے بل ہی بند کرا دیتی۔ ملک کی تاریخ میں پہلی بار حکومتی سطح پر چوہے پکڑ مہم واقعی ایک قسم کی بڑی تبدیلی ہے مگر معذرت کے ساتھ یہ وہ تبدیلی تو نہیں جس کی امید خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے باندھی ہوئی ہے۔
صوبے کے غریب عوام نے عمران خان کی حکومت سے بہت سی توقعات اور امیدیں وابستہ کی تھیں لیکن صوبائی حکومت نے ہر موقع اور ہر مرحلے پر عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ خود حکومت نے بھی بلدیاتی نظام کے ذریعے بڑی تبدیلی لانے کا دعویٰ اور وعدہ کیا لیکن صوبائی حکومت کا وہی بلدیاتی نظام آج منتخب ہونے والے بلدیاتی ممبران کیلئے درد سر اور دنیا کے سامنے ایک تماشا بن گیا ہے۔ اسی طرح صوبے سے کرپشن و کمیشن کے خاتمے کے دعوے بھی دم توڑ چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی تبدیلی کا آج یہ حال ہے کہ شیر کا شکار کرنے کیلئے نکلنے والے اب چوہے مارنے پر لگ گئے ہیں۔ انصاف والے یہ بات یاد رکھیں کہ چوہے مارنا یا پکڑنا کوئی تبدیلی نہیں اور نہ ہی یہ کوئی باعزت روزگار ہے۔ 25 روپے کی خاطر بلی بن کر چوہوں کے پیچھے دوڑنا باعزت لوگوں کا کام نہیں۔ چند نااہل لوگوں نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو دنیا کیلئے تماشا اور جگ ہنسائی کا کارخانہ بنا دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کے نام پر نئے نئے کھیل کھیلے جارہے ہیں۔ یہ اگر نئے ڈرامے نہ کرتے تو لوگ ان کے پرانے کھیل اور کرتوت بھول جاتے لیکن لگتا ہے کہ ان کو بھی ہر روز خود کو نیاتماشا بنانے کی عادت ہو گئی ہے۔ بہتر ہوتا کہ صوبائی حکمران چوہوں کی بجائے غریب اور معصوم انسانوں کو نوچنے والے انسانی درندوں اور بھیڑیوں کے خلاف مہم شروع کرکے انعام مقرر کرتے۔ چوہوں سے زیادہ انسان نما درندوں اور بھیڑیوں کے زہر خطرناک ہے۔
چوہا تو کسی ایک انسان کو کاٹتا ہوگا لیکن انسان نما درندے اور بھیڑئیے توانسانوں پر انسانوں کو کاٹ کر گھروں کے گھر ویران اور تباہ کررہے ہیں۔ انصاف والوں کو وہ انسان نما چوہے کیوں نظر نہیں آرہے جو میرٹ کے قتل عام۔۔ رشوت و سفارش اور لوٹ مار کے ذریعے غریب، مجبور اور لاچار عوام کو ڈنگ مار کر نوچ اور دبوچ رہے ہیں۔ چوروں اور لٹیروں پر حقیقی معنوں میں ہاتھ ڈال کر صوبائی حکومت کو چوہے مار مہم کی بجائے غریب عوام کو باعزت روزگار دینے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
غریب عوام کو باعزت روزگار دینے اور پورے صوبے میں ترقیاتی عمل شروع کرنے سے ہی چوہوں کا خاتمہ ممکن ہے ورنہ پھر ان چوہوں، سانپوں اور بچھوؤں سے کبھی جان نہیں چھوٹے گی کیونکہ انسانوں کے غریب، لاچار اور مجبور ہونے کی وجہ سے ہی چوہے، سانپ اور بچھو طاقتور ہوتے ہیں۔ ان کی بیخ کنی کیلئے انسانوں کی حقیقی حکمرانی ازحدضروری ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عمر خان جوزوی کے بدھ اپریل کے مزید کالم