پاگل مٹھو خان سے عمران خان تک

جمعرات اپریل    |    نبی بیگ یونس

ایک دن ایک مسجد میں عشاء کی نماز جماعت کیلئے کھڑی ہوگئی تو مٹھو خان نے امام مسجد کو دھکا دیا اور کہا "یہ تمہارے گھر کی مسجد نہیں، آج میں نماز پڑھاوں گا، اس ممبر پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا"چونکہ مٹھو خان دماغ سے فارغ تھا اور تھا بھی بہت وحشی ٹائپ ۔لہذا اما م مسجد ڈر کے مارے پیچھے ہوگئے، کچھ بزرگ لوگو ں نے آگے بڑھ کر مٹھو خان کو کافی سمجھانے کی کوشش کی، مگر مٹھو نے ایک بھی نہیں سنی،،، بالآخر ایک بزرگ نے پوچھا مٹھو تم امامت کر بھی لو تو پڑھو گے کیا؟ یہ میری مرضی میں کیا پڑھوں گا، مٹھو شدید لہجے میں بولا۔
نماز بھی کافی لیٹ ہوگئی لیکن مٹھو نے ممبر سے ہٹنے کا نام نہیں لیا۔ بالآخر ایک شخص نے مسجد میں تمام نمازیوں سے کہا ٹھیک ہے مٹھو کو ممبر پر نماز پڑھنے دی جائے لیکن یہ اکیلاپڑھے گا ہم اس کے ساتھ نہیں پڑھیں گے تاکہ اس سے جان چھوٹے گی ، سب نے اس پر اتفاق کرلیا۔

(خبر جاری ہے)

لیکن مٹھو تو مٹھو تھا ، اُس نے کہا "یہ نہیں ہوسکتا ہے، تم سارے لوگ اسی طرح میرے پیچھے نماز پڑھو گے جیسے امام کے پیچھے پڑھتے ہو، یہ دو نمبری نہیں چلے گی میرے ساتھ ۔

۔۔۔ آخر کار مٹھو کی والدہ کو گھر سے لایا گیا اور وہ اپنے پاگل بیٹے کو سمجھانے میں کامیاب ہوگئی اور مٹھو کو اپنے ساتھ گھر لے گئی، یوں مسجد میں موجود تمام لوگوں کو پاگل مٹھو سے جان چھوٹ گئی اور انہوں نے نماز ادا کی۔
خان صاحب نے بھی آج مٹھو خان جیسا مطالبہ کیا کہ انہیں پی ٹی وی پر قوم سے خطاب کرنے کی اجازت دی جائے۔ خان صاحب اس کیلئے دو دلائل پیش کرتے ہیں، ایک یہ کہ وہ جی بہت مشہور ہیں۔
مشہورر تو بلاول بھی ہیں، مشہور الطاف حسین بھی ہیں، مشہور اور بھی بہت رہنما ہیں،،، حتیٰ کہ مشہور تو خواجہ سراہوں کا گرو الما س بوبی بھی ہے وہ بھی پھر قومی ٹیلی وژن پر تقریر کرنے کا حق رکھتا ہے۔ خان صاحب کی دوسری دلیل یہ ہے چونکہ پی ٹی وی قومی ادارہ ہے اس پر سب کا برابر کا حق ہے،،، او بھائی پھر تو ہر بندہ پی ٹی وی پر تقریر کرنے کا دعویٰ کرے گا، کس کس کو روکو گے!
ویسے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ خان صاحب نے پی ٹی وی پر تقریر میں کہنا کیا ہے، ایک روز قبل ہی تو انہوں نے پارلیمنٹ میں تقریر کی جو کہنا تھا کہہ دیا، اگر کوئی کسر رہ گئی ہو تو ایک بہت بڑی پریس کانفرنس کا اہتمام کریں۔
انہوں نے آج 8اپریل کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وہی ساری باتیں دھرائیں جو پارلیمنٹ میں تقریر میں بتائیں۔ خان صاحب کو سمجھانے والا کوئی نہیں۔ پاگل مٹھو خان کو تو اُسکی والدہ نے سمجھایاتھا لیکن خان صاحب کو کون سمجھائے!
گزشتہ روز یعنی 7اپریل کو کراچی میں این اے 245 اور پی ایس 115پر ضمنی الیکشن ہوئے تو پی ٹی آئی کو وہاں ایک عجیب سانحہ کا سامنا کرنا پڑا۔ پولنگ شروع ہونے سے صرف پانچ گھنٹے قبل این اے 245 میں پی ٹیی آئی کے امیدوار امجداللہ نے پارٹی چھوڑ کر ایم کیو ایم میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے خان صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ سیاست چھوڑ کر فلاحی کام شروع کریں۔
وہ ایک اچھے انسان ہیں لیکن اچھے سیاستدان نہیں۔ پی ٹی آئی کو 2013میں اِس حلقے سے تقریباً 55ہزار ووٹ ملے تھے اور ایم کیو ایم کے بعد دوسرے نمبر پر رہی تھی لیکن ایسا کیا ہوا کہ پہلے پی ٹی آئی نے اِس بار حلقے میں الیکشن مہم ہی نہیں چلائی اور عملاً سرنڈر کیا ، پھر ان کے امیدوار نے راہ فرار اختیار کیا۔ کیا یہ خان صاحب کی سیاست میں بڑی ناکامی نہیں !
خان صاحب کو چاہئے کہ وہ غیر سنجیدہ ایشوز کے بدلے اپنی پارٹی کو فعال بنانے کیلئے توانائی استعمال کریں ایسا نہ ہو کہ 2018کے انتخابات میں انکی پارٹی کے ساتھ وہی کچھ ہو جو اس کے ساتھ این اے 245کے ضمنی انتخاب میں ہوا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

عمران خان

نبی بیگ یونس کے جمعرات اپریل کے مزید کالم



متعلقہ کالم