سیاسی آف شور

ہفتہ اپریل    |    ممتاز امیر رانجھا

#چو ہدری شجاعت کا شور
چلو بھائی جان۔”بندے شندے“ اکٹھے کرو۔سب کو روٹی شوٹی کھلاؤ۔سارے تیاری کرلو اور ”نِکے اور وڈے پیجے (پرویز الٰہی او رمشرف) “ کو بتا دو ۔اس دفعہ ہم پاناما لیکس کی مہم ایسے چلائیں گے کہ محلے کے سارے بچے باجامہ اتار کے ہمارے ساتھ ساتھ چلنے کو تیار ہیں۔ہم اپنے ساتھ 1122کی گاڑیاں اور کسانوں کی ٹریکٹر ٹرالیاں بھی لیجانے کو تیار ہیں ،بس شرط یہ ہے کہ پٹرول ان کا اپنا ہو،کھابہ ہمارا چل جائے گا۔
اگر اس دفعہ دھرنا کامیاب ہو گیا تو وزیراعلیٰ پرویز الٰہی ہی بنے گا۔ہم اپنی ساری آف شور فیکٹریوں کو آف شور ہی رکھیں گے،ہمارا تو اصل مقصد ہے کہ میاں بردران کی آف شور کمپنیوں کا شور ٹھیک سے مچ جائے۔آ جاؤ ،فری روٹی شوٹی کھا جاؤ۔

(خبر جاری ہے)

ہم اپنے ساتھ اس دفعہ شیخ رشید اور قادری کو ہر گز نہیں رکھیں گے۔شیخ رشید پلیٹ سے ساری بوٹیاں اور قادری ہمارا دماغ کھا جاتا ہے۔آ جاؤ ،روٹی شوٹی کھا جاؤ۔ساڈی وی سیاست چمکاؤ۔


#اعتزاز احسن کا شور
میں ہوں وکیل۔میری ہوتی ہے الٹی سیدھی دلیل۔اگرچہ میری ایک ہی آف شور کمپنی ہے۔وہ بھی بیگم اور بچوں کے نام ہے۔اگرچہ میں نے بھی ناجائز زمینوں پر جائز قبضے کئے ہیں،اگرچہ میں نے بھی بیگم کے گیس پمپ کے لئے غیر قانونی اضافی کوٹہ لیا ہے مگر پھر بھی میرے لئے جائز ہے ۔میں پی پی پی کا پرانا اور تجربہ کار تیر ہوں میرا نشانہ کہیں نہ کہیں جا کے لگ ہی جاتا ہے۔
پاناما لیکس سے کچھ لیک ہو نہ ہو۔میں اس تو زرداری اور وزیرا عظم کی ملاقات کراکے چھوڑوں گا۔آخر میں نے وزیر اعظم پر الزام جو لگایا ہے۔چوہدری نثار تو مجھے آنکھ نہیں بھاتا کیوں کہ میری دونوں آنکھوں پر عینک جو ہوئی،دوسرا وہ مجھے کھری کھری سناتا ہے۔ہاں اگر عینک میری ایک آنکھ پر ہوتی تو شاید چوہدری نثار مجھے ایک آنکھ بھا ہی جاتا۔
#زرداری کا شور
میاں صاحب کو نہ تو حکومت کرنا آتی ہے اور نہ ہی آیان علی سے مجھے بچانا آتا ہے۔
ڈاکٹر عاصم کو بیگناہ ثابت کرنے کا کیا زبردست موقع ملا ہے۔اب آئے گا مزہ۔پانامہ لیکس والے کو زرداری ایوارڈ دینے کو دل کرتا ہے۔اب جیسے ہی بلاول وزیر اعظم بنے گا ۔میں اپنے ہاتھ سے پانامہ لیکس والے پانامہ پیپر کو ایوارڈ دونگا۔اب میرے سارے پھنسے کام ہو جائیں گے۔میاں صاحب کا باقی دور حکومت پانامالیکس کے چکر میں گزرے گا اور میرا موجودہ اپوزیشن والا رول ”نخرہ ٹخرہ“بڑھا دیگا،شاہ محمود قریشی اور عمران خا ن بھی اب میرے مرید بنیں گے۔
اب نہ ہی شہباز شریف سے ’راجن پور کا’چھوٹو“قابو آئے گا اور نہ ہی میں نواز شریف کے قابو آؤں گا۔
#عمران خان کا شور
اب آئے گا مزہ۔پہلے ہم نے اسلام آباد رہنے والوں کو ذلیل کیا۔اب ہم لاہور والوں کی کلاس لیں گے۔لاہور کو بند کریں گے اور رائے ونڈ میں ”گند “ کریں گے۔ہمارے قافلے میں اگر قادری،پی پی پی، جماعت اسلامی،شیخ رشید اور چوہدری بردران شامل ہو جائیں تو انشاء اللہ مارشل لگ ہی جائے گا۔
پھر نہ ہو گا ”ڈھولا اور نہ ہو سی رولا“۔ہماری آف شور دولت بھی جائز ہو جائے گی۔وزیر اعظم اور ان کے خاندان کی آف شور کمپنیو ں کے چکر میں عوام ہمارے چکر کاٹے گی، اب تو میں ہاتھ میں گیند بیٹ اٹھا کے ووٹ مانگوں گا۔لوگ ہمیں اہل سمجھیں اور اہل ،دھڑے سے نا اہل ہو جائیں گے۔جمائما کا پیسہ اور ریحام خان کی رفاقت ٹی وی پرخوب کام آئے گی۔اب تو دھرنے میں میرے بچے اور بھانجے بھی شریک ہونگے کیوں اب ان کا ریحام خان سے ”شریکا“ جو ختم ہو گیا۔
تیسری شادی کر ہی لونگا چاہے مجھے میرا ہی مل جائے۔کوئی مجھے وزیر اعظم بنا دے پھر دیکھنا میں کیسے حکومت چلاتا ہوں۔خیبر پختوانخواہ کے بعد پنجاب،سندھ اور بلوچستان والے بھی چوہے پکڑ کر ماریں گے اور میں انہیں انعام دونگا۔
#شیخ رشید کا شور
اب تو فائنل لاہو ر ہی ہو گا۔سب کو دھرنے میں دعوت دونگا۔اب تو ریما اور نرگس بھی دوڑتی آئیں گی۔پی آئی اے سے تھوڑی ائر ہوسٹس بھی بلا لوں گا۔
اب میرے سگار چوہدریوں کی جیب سے ہی پورے ہونگے۔کھانا تو قادری کے مریدان یا ترین کے ملازمین کھلا ہی دیں گے۔کہیں نہ ملا تو جگری خان کی جیب سے نکالوں گا۔بھائی بات ہے سیدھی،میں نے تو ساری عمر باتوں سے ہی کھایا ہے۔مجھے کام کے پیسے آج تک نہیں ملے جہاں سے بھی ملے وہیں میں نے اپنی بدتمیزی اور پھکڑبازی ہی دکھائی۔نواز ہو یا شہباز میں کسی کو لفٹ نہیں کراؤں گا۔دیکھنا بہت جلد سعد رفیق سے ریلوے کا عہدہ لیکر ٹرین کی پٹریوں پر اپنے راجہ بازار والے رکشے چلاؤں گا۔
میں شیخ ہوں ،اب گلے میں ڈھول لیکر ہی لاہور جاؤں گا۔اب تو لاہور جانے کا مزہ آئے گا۔ کیا خوب ناشتے ہونگے۔واہ جی واہ،لاہور کے سری پائے اور ٹی وی کی لائیو کوریج کا آئے گا مزہ۔
#چوہدری نثار کا شور
اگر کسی نے مجھے رحمٰن ملک کی طرح ایف اے پاس سمجھا تو اس کی بھول ہے۔میں ہوں اصلی چوہدری۔گجرات کے نقلی چوہدری بھاگتے پھریں،میں کسی خان،قادری اور شیخے سے ڈرنے والا نہیں۔اعتزاز کے تو بیٹری سیل ہی ختم ہیں۔
آخری سیل پر بڑھکیں لگانے والا ٹیکس چور کیا بات کرے گا۔خان تو عورتوں کے پاس سے اٹھنے والا ہی نہیں،وہ کیا دے گا دھرنا۔لندن جمائما سے پیسے لیکر ،ترین کوخالی اکاؤنٹ دکھائے گا اور پیسے لیگا۔پھر جائے گا ریحام کے پاس اس کی منتیں کریگا اور ٹی وی پر اپنی شوخیاں مارے گا۔دھرنے کے چکر میں اب لاہوریے اس کو جی ٹی روڈ پر رکشے میں بٹھا کر ہی گھر بھیجیں گے ۔میاں صاحب کے کاروبار کا وہ جانیں یا ان کی اولاد۔
عمران خان نے اگر کوئی بندر کھیل دکھایا تو شیخے کو ریچھ بنا کر ہی پنڈی بھیجوں گا۔قادری کو اس کی مادری زبان سکھانا ہی پڑے گی۔
#وزیر اعظم کا شور
شرم کرو حیاکرو۔ملک میں اگر کچھ ترقی کے کام ہو رہے ہیں تو چلنے دو۔پانامالیکس میں ملک کی ترقی لیک کرنے والے تم کہاں تھے جب عمران نے چندہ اکٹھا کر کے خیراتی ہسپتال بنایا اور عوام کو چوہے پکڑنے پر لگایا،اس وقت صحافی کہاں تھے جب اس نکمے خان نے دھرنے میں شادی کھڑکا لی،دھرنے میں شادیاں کرنے والے کونسے لیڈر ہوتے ہیں۔
اس کی بنی گالا اور لاہوروالی کوٹھیوں کا حساب نہ لینے والے پاناما لیکس کا بیڑہ غرق۔ قادری اور عمران نے دھرنے کے چکر میں سب کو چکر دیے۔ الیکشن جتنی مرضی دفعہ ہو یہ وزیر اعظم تو کیا وزیر مملکت تک نہیں بنے گا۔وکی لیکس کی طرح پاناما لیکس بھی اپنی موت آپ ہی مرے گا۔جس نے دھرنا دینا ہے شوق سے دے ہم اسے نہیں روکیں گے، ہم دھرنے والوں کو ناشتہ تو کیا ایک نوالہ نہیں دیں گے۔میرے بچوں کے کاروبار کے پیچھے پڑنے والو ،شالا، تم کو اپنی اپنی پڑ جائے۔

#شاہ محمود قریشی کا شور
میں تو ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ رکھ کے تھک گیا ہوں پھر بھی عوام اور پارٹی توجہ نہیں دیتی۔عمران خان تو جہانگیر ترین کے رزق سے اتنے عیاش ہو گئے ہیں کہ بس مڑ کر میرے جیسے پیرو مرشد کو ہی نہیں دیکھتے۔تقریر کرنا تو بس مجھے ہی آتی ہے بس مجھے پتہ ہے کہ بولتے ہوئے کہاں آواز کم کرنی ہے اور کہاں زیادہ۔ الیکشن ہوتے ہیں تو عوام شدت محبت میں میرے گھر کا گھیراؤ کرتے ہیں۔
بس پھر پولیس ہی ان کو واپس بھیجتی ہے ورنہ میں تو بس گیٹ کے پیچھے سے خان صاحب کو بچاؤ بچاؤ کے ایس ایم ایس بھیجتا رہتاہوں۔کاش کوئی ایسی پارٹی ہو،کاش کوئی ایسا لیڈر ہو جو مجھے ایک بار ہی سہی وزیر خارجہ تو بنادے۔تعویز لے لو سیاسی تعویز لے لو۔چلو چلو لاہور چلو۔
#میرا کا شور
میں اتنی خوبصورتی نکاح پر نکاح یافتہ،نکاحوں میں تجربہ کار،آف شور کے شور میں کہیں کنواری ہی نہ رہ جاؤں۔
میری گزارش ہے سارے سیاستدان آف شور کمپنیوں اور پاناما لیکس کے چکر میں نہ پڑیں۔سب کا اپنا کاروبار ہے سب کا اپنا پیسہ ہے چو چاہے جیسے مرضی کمائے اور بیٹھ کے کھائے۔مولانا فضل الرحمٰن سے منت کرتی ہوں وہ پاکستانیوں سے ایمان افروز تقریر فرمائیں،عمران خان کے انکار پر مولانا میری سیکنڈ چوائس ہے۔میں تیار ہوں اگر عمران خان بھی مجھ سے اپنی تیسری شادی کرلیں۔اس طرح ان کی اور میری دونوں کی ہیٹرک ہو ہی جائے گی۔میری او ر خان کی جوڑی کتنی فٹ لگے گی۔مجھے عروسی لباس اور خان صاحب کے دائیں بائیں پریس کانفرنس” خاص“ کتنی اچھی لگے گی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ممتاز امیر رانجھا کے جمعہ اپریل کے مزید کالم