جناب خا دم اعلیٰ! صحت کا شعبہ آپ کی راہ تک رہا ہے

بدھ اپریل    |    حافظ ذوہیب طیب

میں، بطور بہترین منتظم خادم اعلیٰ پنجاب کی صلاحیتوں کا نہ صرف معترف ہوں بلکہ میرے نزدیک یہ ایک خوبی ہے جس کی وجہ سے بندہ بیک وقت خالق اور مخلوق کا مقرب ٹہرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خالق انہیں ہمت دے دیتا ہے کہ صحت کی خرابی کے باوجود صبح سے شام اور شام سے صبح تک میاں شہباز شریف دیوانہ وار لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے مصروف عمل اور عام عوام بھی ان سے اتنی ہی محبت کر تی دکھائی دیتی ہے ۔ میرے نزدیک یہ اسی بھاگ دوڑہی کی وجہ ہے کہ طاقت کے نشے میں مست بیوروکریسی نامی مخلوق میاں صاحب سے گھبراتی ہے اور ان کے سامنا کر نے سے کتراتی ہے ۔

لیکن جہاں ان کا بس چلتا ہے وہاں یہ لوگ میاں صاحب کو اپنی کالی کرتوتو ں کی وجہ سے ایسے شیشے میں اتارتے ہیں کہ وہ ان بھی ان کی باتوں پر یقین کر بیٹھتے ہیں ۔

(خبر جاری ہے)

جس کا نظارہ ویسے تو ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے لیکن سب سے زیادہ یہ چیز پنجاب کے محکمہ صحت میں دیکھنے کو نظر آتی ہے ۔ او۔کے بوس کی جھوٹی رپورٹیں دے کر ہسپتالوں میں دودھ کی نہریں بہانے کے ایسے ایسے جھوٹے دعووں کے نعرے لگائے جاتے ہیں کہ جس پر خادم اعلیٰ بھی یقین کر بیٹھتے ہیں اور پھر انہی جھوٹی رپورٹس پر کار کردگی کے اشتہارات دے کر مزید بیوقوف بنایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ میں بطور صحا فی اور ایک عام آمی کے دیکھتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ پنجاب میں صحت کے شعبے کے حالات پولیس سے بھی زیادہ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں تعینات ایم۔ ایس صاحبان اپنا الو سیدھا رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے افسران بالا کا بول بالا رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں ، انہیں اس کی کی پرواہ؟ مشیر صحت سے لیکر سیکشن افسر تک ہر بندے کی خواہش پوری کرنے کا بندوبست انہوں نے کیا ہوتا ہے ۔

ایک ، دو ہسپتالوں کی بات ہوتی تو چپ رہا جا سکتا تھا لیکن پنجاب کے تما م سر کاری ہسپتالوں کی صورتحال اس قدر مخدوش ہوتی جا رہی ہے جسے لفظوں میں بیان کر نا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ جناح ہسپتال میں مریضوں کو معمولی چیزوں کے حصول کے لئے گھنٹوں ذلیل ہو نا پڑتا ہے ۔ کلرک سے لیکر ڈی۔ایم۔ایس اور پھر ایم۔ایس آفس تک کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ہے۔ ایمرجنسی کا حال یہ ہے کہ روزانہ1000سے 1200کی تعداد میںآ نے وال مریضوں کے لئے صرف 49بیڈز ہیں جن کا حال یہ ہے کہ چادریں تو دور کی بات ان کے کور بھی گل سڑ گئے ہیں ۔
یہاں ایک ایسے مریض کو بھی دیکھا جس کا جسم پوری طرح جھلس چکا تھا اور وہ ایک بیڈ پر لا وارثوں کی طرح پڑا تھا ۔ ذارئع سے معلوم ہوا کہ مریض کا جسم اس قدر جھلس چکا ہے کہ اس کا علاج ممکن نہیں لہذا یہاں صرف اس کے لواحقین کو تسلی دیتے ہوئے اس کی سانسیں ختم ہونے کا انتظارکیا جا رہا ہے ۔ اگر ہسپتال میں موجود ہر سہولت سے مزین برن یونٹ کو ”پرویز الہٰی فوبیا“سے نکل کر آپریشنل کر دیا جائے تو روزانہ کی تعداد میں آنے والے ایسے کئی مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

ابھی کل کی بات ہے کہ شعبہ صحت کو دیکھنے والے صحافی مجھے بتا رہے تھے کہ لاہور کے بڑے گائنی ہسپتال لیڈی ایچی سن میں ایمرجنسی اور آوٹ ڈور میں جان بچانے والی ادویات کا قحط جبکہ وینٹی لیٹرز، کارڈیک مانیٹر،ای۔سی۔جی۔مشین سمیت نوزائیدہ بچوں کے لئے نرسری تک موجود نہیں ہے ۔غریب مریضوں اور ان کے لوا حقین کو مہنگی ادویات باہر سے خریدنے کے لئے پرچی تھما دی جاتی ہے ۔ سروسز ہسپتال میں تو انتظامیہ نے باقاعدہ ایک پرائیویٹ لیبارٹری سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتال میں ٹیسٹ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر لوگوں کو مہنگے ترین ٹیسٹ کرانے پر مجبور کیا جاتا ہے اور اپنی کمیشن وصول کر کے جیبیں بھری جا تی ہیں۔

چلڈرن ہسپتال کی صورتحال بھی اس سے ملتی جلتی ہے،یہاں مسائل کی بھر مار ہے ۔رش کے باعث ایک بیڈ پر چار چار مریض بچوں کو لٹا یا جا رہا ہے ۔جس کے باعث کراس انفیکشن سے معصوم بچوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔کئی عرصے سے انتہائی اہم شعبوں جیسے کینسر، نیورالوجی اور میڈیکل تھری کے پروفیسرز کی سیٹیں خالی پڑی ہیں جبکہ میڈیکل ون میں پروفیسر ہونے کے باوجود آج تک کسی پروفیسر کو یہ زحمت گوارہ نہیں ہوئی کہ وہ راؤنڈ کر سکیں۔
جنرل سر جری کا ایک یو نٹ ہونے کے باعث مریضوں کو آپریشن کے لے سالوں انتظار کی سولی پر لٹکنا پڑتا ہے ۔ دل کے عارضہ میں مبتلا بچوں کی سر جری کے لئے چار سال کا وقت دیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے دل کے عارضہ میں مبتلا 50فیصد سے زائد بچے اپنی باری آنے سے پہلے ہی خادم اعلیٰ کے خلاف شکایت لے کر رب کے حضور پیش ہو جاتے ہیں ۔ ہسپتال میں جلے ہوئے بچوں کے لئے تاحال برن یونٹ تعمیر نہیں ہو سکا جبکہ ہسپتال کی سی۔
ٹی سکین مشین بھی پچھلے آٹھ ماہ سے خراب ہے ۔
افسوسناک بات تو یہ ہے کہ بجائے حکمران جماعت کے ذمہ داران سسٹم میں بہتری لانے میں اپنا کردار اداء کرتے ،وہ ہسپتالوں میں موجود چند ایماندار افسران کو اپنی ناقص اور غیر معیاری اشیا ء کو خریدنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ قصور سے مسلم لیگی ایم۔پی۔اے جس کی زندہ مثال ہے جو چلڈرن ہسپتال کے لئے اپنی ناقص ایمبولینس کی خرایداری کر نے پر عملہ پر پریشر ڈال رہے ہیں ۔
یہ سب صرف اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ محکمہ صحت کے عہدوں پر براجمان جونکوں، ہسپتالوں میں بیٹھے ان کے کارندوں اور حکمران جماعت میں شامل آستین کے سانپوں کو یہ معلوم ہو گیا ہے کہ خادم اعلیٰ اب صرف اورنج لائن پروجیکٹ میں مصروف ہیں لہذا جو مرضی کرتے پھرو۔لیکن اگر خادم اعلیٰ یونہی ان جھوٹوں کے سر براہوں کے چکمے میں آتے رہے تو کچھ بعید نہیں لوگوں کی محبتیں نفرتوں میں تبدیل ہو جائیں اور پھر سالہا سال کی محنت بھی اکارت چلی جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

حافظ ذوہیب طیب کے بدھ اپریل کے مزید کالم