پھولوں کی مالا

جمعہ اپریل    |    ندیم تابانی

میاں نواز شریف وزیر اعظم پاکستان کو بہ خیر و خوبی وطن واپسی مبارک ہو، توقع تھی،وزیر اعظم کے کامیاب دورے پر وزراء ہوائی اڈے پر پھولوں کے ساتھ استقبال کریں گے ،لیکن کسی کے ہاتھ میں پھول نہ تھے ،خیر کوئی بات نہیں واپس آنے والے میاں صاحب بھی پھول ہیں بلکہ مہا پھول اور استقبال کرنے والے بھی پھول ہیں ، جب سدا بہار پھولوں کی پوری مالا استقبال کے لیے موجود ہو تو ذرا سی دیر میں مرجھا جانے والے پھولوں کی کیا ضرورت اور حیثیت ۔
وزیر اعظم کے بہ قول وہ مکمل صحت مند ہو کر لوٹے ہیں، ایسی بیماری جس کے علاج کے لیے لندن جانا ضروری ہو، اس سے محض ٹسٹ ہونے کے بعد ہی صحت مل جانا کرامت شریفیہ ہے ۔ اللہ نظر بد سے بچائے ۔اب میاں صاحب وعدے اور عہد کے مطابق اقتصادی راہ داری کے لیے دن رات کام کریں ، مانگ اور ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی کے انتظامات کریں اور کروائیں، کراچی کے دو تین منصوبے مکمل کروائیں ، لاہور سے کراچی موٹر وے پر ان تھک محنت کر کے جلد ز جلد مکمل کروائیں۔

(خبر جاری ہے)

قوم کو اس سے کوئی غرض نہیں آپ نے کتنا کمایا ، کتنا بچا یا ، کتنا چھپایا ،قوم کی ضرورت پوری کر دیں قوم ان کے نام کے قصیدے پڑھے گی ۔ ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔!
####
عمران خان اینڈ کمپنی ابھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے بلاامتیاز احتساب کے بیان پر بغلیں بجانے کی تیاری ہی کر رہی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے بیان کی تائید کے بیانات کی رم جھم برسات شروع ہو گئی ، یعنی جن کی کھوکھ میں کرپشن پرورش پاتی ہے ، جو کرپشن کے ہیڈ ماسٹر اور ماسٹر مائنڈ سمجھے جاتے ہیں، کرپشن کے نت نئے طریقوں کی ایجاد پر شیطان جن کو 52توپوں کی سلامی دیتا ہے ، انہیں آرمی چیف کے بیان سے نہ صرف ایک سو ایک فی صد اتفاق ہے بلکہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ،جامے اور پاجامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔
یہ بیانات دراصل ایک پیغام ہے کہ مسٹر جنرل یاد رکھیں : ”اس کرپشن کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں۔
####
سچ تھا یا جھوٹ لیکن کسی دور میں بہت مشہورہوا تھا :” سب سے بڑے جنرل نے ایک فہرست بنائی ہے پانچ سو لوگوں کی،اگر انہیں پاکستان سے غائب کر دیا جائے تو پاکستان ترقی کی منزلیں اتنی تیزی طے کرے گا ،دنیا حیرت میں ڈوب ڈوب جائے گی ۔“پھر پتا نہیں چلاان جنرل صاحب کا ، کدھر گئے ۔
وہ اچھا زمانہ تھا تب پانچ سو لوگوں کا صفایا کافی تھا ، اب تو پانچ ہزار بھی سمندر برد کر دیے جائیں تو کرپشن ختم نہیں ہو گی ، ہر ایک یہی کہتا ہے ا حتساب ضروری ہے ، کل نہیں آج سے ہونا چاہیے ، بے رحمانہ ، کڑا احتساب ! کر لے جس نے کرنا ہے چھٹی کے ساتھ ساتھ ساتویں اور آٹھویں کا دودھ بھی یاد نہ آئے تو سیاست دان نہ کہنا ۔
####
لوگ کہتے ہیں یہ ملک فوج کا ہے ، پتا نہیں کیسے کہہ دیتے ہیں،سراسر غلط کہتے ہیں ،بے سوچے سمجھے کہتے ہیں ، دماغ کو حاضر ناظر رکھ کر سوچیں تو کہیں گے یہ ملک سیاست دانوں کا ہے ،فوج ایک بار نہیں کتنی بار آئی ، سب کو بہا کر لے گئی، جس جس دور میں جنرل آئے اس دور کے اخبارات دیکھ لیے جائیں ہر خبر کے آگے پیچھے، دائیں بائیں جنرل ہی جنرل ہوتے ہیں ، ہر خبر کا ماضی حال اور مستقبل احتساب سے شروع ہو کر احتساب پر ہی ختم ہوتا رہا ہے ، لیکن بڑے سے بڑا جنرل ، تگڑے سے تگڑا جنرل ایوب جیسا دبنگ جنرل اور جنرل پرویز مشرف جیسا منہ پھٹ اور کسی کو خاطر میں نہ لانے والا جنرل آخر سیاست دانوں کی سیاست کا شکار ہو ہی جاتا رہا ،گو جنرل ضیاء کے سامنے سیاست دانوں کی ایک نہ چلی، موصوف نے جب چاہا ، جو چاہا ، جتنا چاہا ،جیسا چاہا ہنستے ہنستے اور مسکراتے مسکراتے کر دیا ، لیکن ان کے پچاس سالہ منصوبے گیارہ سال میں کیسے مکمل ہو سکتے تھے۔

####
کسی دورمیں سیاست دانوں کی کمزوری یہ تھی کہ ایک میز پر بیٹھ نہیں سکتے تھے ، ایک ساتھ کھیل نہیں سکتے تھے ، جناب ِ زرداری نے یہ ریت ڈالی اور اس کو روایت بنانے کا عزم لے کر میدان میں آئے کہ ہم مشکل اور کڑے وقت میں ایک ہو کر رہیں گے ،سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے ، کس کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے،شاہ محمود قرشی اگر عمران خان کو یہ بات سمجھا سکیں تو ان کا سیاست اور ساست دانوں پر احسان ہو گا ۔ مگر سنا ہے خان صاحب کو وزیر اعظم بننا ہے ، جیسے بھی، بھلے سے ہاتھ میں لکیر نہ ہو، بھلے سے وزیر اعظم بنانے والے تیار نہ ہوں مگر خان صاحب تیار ہیں ، ماضی میں کسی نے کہا تھا ،خان نے شاید موقع مس کردیا، اب کوئی کہہ کر تو دیکھے ! ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم تابانی کے جمعرات اپریل کے مزید کالم