براستہ ایران

جمعہ اپریل    |    اسرار احمد راجہ

حال ہی میں بھارتی ایجنٹ بلوچستان سے گرفتار ہوا جسکا آپریشنل بیس ایران کا ساحلی شہر چاہ بہار تھا۔چاہ بہار میں اس ایجنٹ کا بظاہر سونے کا کاروبار تھا جس کی آڑ میں وہ پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کا نیٹ ورک چلاتا تھا۔ دنیا بھر میں پھیلتے انیٹلی جنس نیٹ ورک کے ایجنٹ یا کارندے طرح طرح کے حلیے اور روپ اپناتے ہیں جنہیں Coverکہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ بھیس بد ل کر دوسرے ملکوں میں کام کرتے ہیں اور معلومات حاصل کرنے کے علاوہ اُن ملکوں میں بغاوتیں اور تشد د آمیز کاروائیاں بھی کرواتے ہیں ۔
بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور ہمیشہ سے ہی ہماری قومی سلامتی ، یکجہتی اور پرامن ریاستی ماحول کو تباہ کرنے کی سازشوں میں مشغول رہتا ہے۔
1965ءء کی جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندر ہ گاندھی کی خواہش پر RAWکا ادارہ وجود پذیرہوا جسکا پہلا حدف مشرقی پاکستان تھا۔

(خبر جاری ہے)

اس ادارے کے کچھ اغراض و مقاصد پر ”را“ کے سابق چیف اور بھارتی قومی سلامتی کے اہم عہدیدار اے ایس دلت نے روشنی ڈالی ہے کہ یہ ادارہ کس طرح کا م کرتا ہے۔

دلت نے اپنی کتاب ”کشمیر واجپائی کے دور میں “ زیادہ فوکس کشمیر پر رکھا ہے مگر جہاں ضرورت پڑی پاکستانی سیاستدانوں ، اعلیٰ عہدیداروں ، صحافیوں اور جرنیلوں کو ذلیل کرنے کی بھی بھر پور کوشش کی ہے۔ دلت نے کشمیر ی قیادت کا تو بھانڈہ پھوڑ ا ہی ہے مگر پاکستانیوں کو بھی نہیں بخشا ۔ دلت نے یٰسین ملک کی ساس اور سالے صاحب کی سر گرمیوں اور کاروبار سے واضح کیا کہ یٰسین ملک اور مشعل ملک کی شادی بھی انیٹلی جنس ایجنسیوں کی کا رگزاری ہے۔
اسی طرح امان اللہ خان کی بیٹی سے سجاد لون کا رشتہ بھی ہے۔ سجاد لون کا باپ عبدالغنی لون پاکستان مخالف شخص تھا جو آزادی کشمیراور الحاق پاکستان کا صف اول کا دشمن تھا ۔ عبدالغنی لون کی زندگی پر لکھتے ہوئے دلت کہتا ہے کہ وہ تو خدا کے وجود کا ہی قائل نہ تھا اور مقبوضہ کشمیر میں قائم God Lessسوسائٹی کا ممبر تھا۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ عبدالغنی لون کی موت کے بعد سجاد لون نے بتایا کہ ایک زمانے میں اُس کے والد God Lessسوسائٹی کے ممبر تھے مگر بعد میں اس سوسائٹی سے الگ ہو گئے۔

امر جیت سنگھ دلت کی تحریر کئی حوالوں سے اہم ہے جس پرکسی نے توجہ نہ دی ۔ دلت نے بڑے دلچسپ پیرائے میں نہ صرف پاکستانیوں اور کشمیریوں پر طنز کے تیر برسائے بلکہ جی بھر کر توہین بھی کی ہے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی کے مترادف دلت نے خوبصورتی سے ہماری اہم شخصیات کی ذاتی زندگیوں کو بھی نہ چھوڑا اور جہاں موقع ملا آئینہ دکھلا دیا۔
یٰسین ملک کے متعلق لکھتا ہے کہ مشعل اور ملک کی شادی سی آئی اے کی کوشش بتلائی جاتی ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ Though Strange, one theory doing the round is that Yasin's marriage is a CIA Operation to get him to marrry a Pakistani girl. The reason is that this is to get Yasin dependent on someone they know and trust.
آگے چل کر لکھتا ہے کہ
And now like the American Usman Rahim who is also married to a Pakistani.
یٰسین ملک کے سسرالیوں کے متعلق دلچسپ معلومات دیتے ہوئے دلت لکھتا ہے کہ مشعل ملک بلکہ مشعل مالوک یا ملکھ (Mulluck) کی والدہ ریحانہ مسلم لیگ خواتین ونگ کی سابق ممبر ہیں اور انتہائی تیز و طرار ہیں (Even Smarter) اور یٰسین ملک اپنی ساس کے مکمل کنٹرول میں ہیں آگے لکھتا ہے کہ :۔

Mushaal's brohter, Haider Ali Hussain Mulluck, is a Profesor at Naval war College and a fellow at the Joint special operation Univeristy in USA . But more important by , his mentor throughout his career has been david petraeus, the former military commander who also served as CIA Chief under Barack Abama.
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یٰسین ملک اور دلت کے درمیان کبھی بھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے۔ دلت خو د لکھتا ہے کہ یٰسین ملک نے کبھی بھی اُسے عزت نہیں دی اور ہمیشہ اکھڑ پن کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک ملاقات کا احوال لکھتا ہے کہ یٰسین ملک نے بالمشافہ ملاقات کے دوران جوتوں سمیت اپنے پاؤں میرے سامنے رکھی کافی ٹیبل پرپھیلائے اور بات کرنے سے پہلے سگریٹ سلگایا مگر میں نے محسوس نہ کیا ۔
بات چیت پر صرف اتنا ہی کہا کہ ہمیں آزادی دے دو۔ دلت لکھتا ہے کہ یٰسین اب اپنی کشتیاں جلا چکا ہے۔ وہ تو بولیویا کا چی گوارا ہے اور نہ ہی کشمیر کا فاروق عبداللہ ؟ یٰسین ملک کے متعلق بہت کچھ لکھنے کے بعدوہ حتمی فیصلہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ :I will always think of Yasin as the James dean of Maisuma.ہمارے لوگوں کی ذہنیت اور بھارتیوں کے بخار میں مبتلا لوگوں کے متعلق لکھتے ہوئے دلت کہتا ہے کہ :
There was also a fellow running a TV channel, Ejaz Haider. He called me up while i was at Lahore and asked me to come on show.
میرے انکار پر اس نے کہا:
No, no, I need you, please come, he said.
شو کے بعد اُس نے کہا کہ یہ بڑی بات ہے پہلی بار را کا چیف کسی پاکستانی ٹیلیویژن چینل پر آیا ہے اسی صفحہ پر لکھتا ہے کہ ایک کانفرنس کے دوران مجھے اور میری بیگم پران کو مشہور سیاسی اور سفار تی شخصیت محترمہ شیریں رحمان نے کلفٹن میں واقع اپنے انتہائی خوبصورت گھر میں مدعو کیا جہاں وہ اپنے تیسرے شوہر کے ہمراہ رہائش پزیر ہیں۔
ان کا خاوند انتہائی نفیس(ّچار منگ پرسن) شخص جو زندگی کی تمام آسائیشوں سے بھرپور زندگی بسر کر تا ہے۔ اس ڈنر پر ہمارے علاوہ دیگر مہمان بھی تھے جن میں محترمہ کا دوسر اسابق خاوندبھی موجود تھا ۔ مہمانوں میں ٹیلی ویژن اینکر نسیم زہرہ بھی شریک ہوئیں اور پھر انہوں نے مجھے کیسپر کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔
And they began calling me casper, which i understood is the name of a friendly ghost on an American Tv show.
سابق آئی ایس آئی چیف ، سعود ی عرب اور جرمنی میں رہ چکے پاکستانی سفیر اور مہران بینک سیکنڈل کے اہم کردار جنہیں حکومت پاکستان نے اُن کی سابق کارستانیوں کے بعدٹریک ٹوڈپلومیسی میں بھی اہم رول دیا کے متعلق دلت لکھتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے ولی ایک میٹنگ کے بعد مجھے اپنی ایمبیسی میں کاک ٹیل پارٹی پر جانا تھا ۔
اُس وقت شام کے ساڑھے چھ بجے تھے اس لیے میں نے اسلام آباد میں شاپنگ کا پروگرام بھی کینسل کر دیا۔ میں نے جنرل اسد درانی کو اپنی مصروفیات کا بتایا تو موصوف نے کہا
would you care to have a drink? General Sahib it is five in the afternoon and so bloody hot, i said in any case, where is the drink here, i have got a bottle in my car, he said. if you are interested i will bring it up to your room
وہ اپنی کارے سے بلیک لیبل کی بوتل لائے اور شام کے پانچ بجے ہم نے شراب پی ہم نے مے نوشی کا لطف اُٹھایا اور ایک دوسرے کی چٹکیاں لیں We enjoyed taking digs at eachotherقارئین کرام یہ ہے ہماری کشمیر پالیسی اور وطن دشمن قوتوں سے ہم آہنگی۔
کلبوشن براستہ ایران آئے یا امر جیت سنگھ دہلی سے، بات ایک ہی ہے۔ اصل چیز دشمن ایجنٹ نہیں بلکہ اس کے سہولت کار ہماری اجتماعی ذھنیت اور مقامی ایجنٹ ہیں جو اپنے کردار اور افعال سے کسی نہ کسی صورت ملک دشمنی کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ اپنی نمود نمائش سے لیکر کاروبار دشمن ملکوں سے مراعات اور دیگر لوازمات کو ملک کی سلامتی پر ترجیح دیتے ہیں ۔ جنرل درانی جیسے کرداروں کا انتہائی اہم اور حساس عہدوں پر فائز رہنا اور پھر بلیک لیبل ڈپلومسی سے منسلک ہونا انتہائی خطر ناک ہے۔

اگر کشمیر کا مسئلہ شراب کی بوتل پر حل ہونا ہے تو بہتر ہے کہ اُسے قدرت کے فیصلے پر چھوڑ دیا جائے ۔ کشمیر سیاسی ، علاقائی اور انسانی مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک روحانی اور دینی مسئلہ بھی ہے ۔ کشمیر علمائے حق اور اولیائے کاملین کی جاگیر ہے جسے کوئی شرابی ٹولہ حل نہیں کر سکتا ۔ انوار ایوب راجہ اپنی کتاب لینٹھا میں ایک کشمیری مجاہد کرنل عبدالحق مرزا کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ کرنل صاحب وادی کشمیر میں جانے سے پہلے وادی نیلم گئے اور وہاں کی مشہور دینی اور روحانی شخصیت جناب حافظ برکت اللہ صاحب  سے دواریاں شریف میں ملے ۔
کرنل صاحب نے حافظ صاحب سے دعا کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ میں کیا کروں والئی کشمیر نہیں مانتے ۔ والئی کشمیر کیسے مانہیں ؟ صرف جنرل درانی ہی نہیں بلکہ ساری کشمیری قیادت سوائے چند ایک کے بلیک لیبل کی شوقین ہے۔ آزادکشمیر کا سیاسی شرابی کلچر تو ساری دنیا میں مشہور ہے۔ وزیر صاحبان کبھی ائیر پورٹوں پر اور کبھی اُڑتے جہازوں میں شراب کی بوتلیں لہراتے اور اُدھم مچاتے ہیں توکبھی مظفرآباد کے ہوٹلوں میں شراب پی کر اپنے ہی وطن کی بیٹیوں سے اجتماعی بدکاری کے مرتکب ہوتے ہیں۔
بھارتی درندوں اور آزادکشمیر کے سیاستدانوں میں کیا فرق ہے؟ کوئی ہے جو اُسکا جواب دے۔
کلبوشن یادو ایک ایجنٹ نہیں بلکہ ادارہ ہے جسکے اصل ایجنٹ ہماری سیاست ، صحافت ، صنعت اور سفارت تک ہر شعبے میں موجود ہیں ۔ کردار کی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ مرحوم سردار عبدالقیوم خان کیساتھ دہلی جانیوالا آزادکشمیر کے سیاستدانوں کا وفد رات بھر شراب خانوں میں مد ہوش رہا ۔ انورا ایوب راجہ اپنی تحریر ” سر زمین بے آئین “ میں لکھتے ہیں کہ ایک آئین کے باوجود ملک بے آئین ہے ایسا آئین جس پر خود حکمران عمل نہیں کرتے اُسے آئینی اور جمہوری حکومت یا ملک کیسے کہا جاتا ہے۔
جس مقدمے پر دس دن فیصلہ ہوسکتا ہے ، عدالتیں اُسے دس سال تک طول دیتی ہیں چونکہ عدلیہ سپریم ہے اور جو چاہے کر سکتی ہے۔
وطن عزیز میں اپنا وکیل وہ نہیں جو علمی قابلیت رکھتا ہو بلکہ اچھا وکیل وہ ہے جو لاکھوں اور کروڑوں میں فیس لیتا ہو اور اپنی پسند کا فیصلہ کروانے کاماہر ہو۔ اسی طرح اچھا سیاستدان وہ نہیں جو عوام دوست ہو بلکہ وہ ہے جو غنڈوں کی فوج لیکر چلتا ہو ، بڑے محلوں میں رہتا ہو اور کروڑوں کی گاڑیوں میں سفر کرتا ہو۔
کرپٹ ہو، مل مالک ہو اور اربوں کی بے نامی جائیدادوں کا مالک ہو۔ مصنف لکھتا ہے کہ ہمارے عوام ایسے سیاستدانوں سے محبت کرتے ہیں اور جانیں تک نچھاور کردیتے ہیں۔
مشرقی پاکستان کے المیے کا ذکر کرتے ہوئے انوار ایوب راجہ لکھتے ہیں کہ را کے بریگیڈئیر راج بیگ سنگھ نے پہلے مشرقی پاکستان کی سرحد پر سو سے زیادہ ٹریننگ سنٹر کھولے جہاں مکتی بانی کو فوجی تربیت دی جاتی تھی اور بعد میں یہ ٹریننگ سنٹر مشرقی پاکستان کے اندر نہ صرف کام کرنے لگے بلکہ مختلف مقامات پر پاک فوج پر حملہ کرنیوالی مکتی بانی فورس کو قیادت بھی مہیا کرنے لگے ۔
مصنف لکھتا ہے کہ نہ جانے کتنے راج بیگ سنگھ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مصروف عمل ہونگے اور پڑوسی ممالک کی مدد سے وطن عزیز کو نقصان پہنچا رہے ہونگے سات سال پرانی اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے آج بھی حرف با حرف سچ ثابت ہو رہا ہے۔ اسی تحریر میں ایرانی مفادات اور بھارت سمیت دیگر ممالک سے تعلقات کا بھی ذکر ہے۔
دیکھا جائے تو آج ہمارے اپنے ہی لوگ کلبوشن اورراج بیگ سنگھ کا روپ دھارے وطن کی سلامتی کے درپے ہیں اگر اندر سے کوئی کنڈی نہ کھولے تو چور آسانی سے گھر میں نہیں گھس آتا آج ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے نہ صرف گھر کے دروازے کھول رکھے ہیں بلکہ دیوار یں بھی کھوکھلی کر دی ہیں۔
خدا کا شکرہے کہ پاک فوج جو اس مقدس گھر کی محافظ ہے اور پوری طرح چوکس ہے ۔ ورنہ بر ا ستہ ایران افغانستان اور واہگہ سے آنیوالے کیسپر اور اُن کے میزبان ہمہ وقت اس گھر کو برباد کرنے کا تہیہ کے ہوئے ہیں ۔ پاکستان ان کا عارضی گھر ہے جہاں یہ لوگ صرف عیش کرنے اور حکمرانی کرنے آتے ہیں۔ یہ لوگ ایسٹ انڈیا کمپنی کا دوسرا روپ ہیں جو سب کچھ لوٹ کر بیرون ملک لے جارہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

متعلقہ عنوان

ایران

اسرار احمد راجہ کے جمعہ اپریل کے مزید کالم



متعلقہ کالم