ویل ڈن میاں جی!

اتوار اپریل    |    ندیم تابانی

میاں صاحب کی چالاکی کی داد دینا پڑے گی ، پتاّ کافی خوب صورتی سے کھیلا ہے ، پاناما جب لیک ہوئی تو ہر طرف ایک شور مچ گیا ، اس وقت میاں جی نے جو فیصلہ کرنے میں دیر کردیا کرتے ہیں ایک فوری فیصلہ لیا ، قوم سے خطاب کر ڈالا، خطاب جیسا بھی تھا ، جو بھی تھا، ضرورت تھی یا نہیں، قوم کیا سیاست دان کیا اور میڈیا کیا ،سب خطاب کی طرف متوجہ ہو گئے جس میں سابق جج کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن بنانے کی پیش کش کی گئی تھی ۔
(دھنک نگار نے تب بھی لکھا تھا کہ یہ پتّا ہو سکتا ہے ) خیر قوم ابھی خطاب میں ہی اٹکی ہوئی تھی کہ میاں صاحب پتلی گلی سے نکل گئے ، اس گلی کا اگلا سرا لندن میں نکلتا تھا ، جہاں ان کا برخوردار موجود تھا، اب ساری قوم سیاست دان اور میڈیا میاں صاحب کے نکل جانے پر بحث میں مصروف ہو گئی ،اُدھر میاں صاحب نے بیٹے کے ساتھ مل کر ہوم ورک مکمل کیا اور واپس پاکستان آگئے ۔

(خبر جاری ہے)


پیچھے قوم کے لیڈر حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن کے لیے چیف جسٹس کو خط لکھنے کے مسئلے پر اتفاق کیے بیٹھے تھے ، ان کے اتفاق میں مزید پختی آگئی ، سب پکے ہو گئے ، کہ کمیشن بھی بنے گا اور بنے گا بھی چیف جسٹس کی مرضی سے، حکومت خط لکھے ، چوں کہ زرداری صاحب پرڈالا گیا ڈول مبینہ طورپر زیادہ کامیاب نہیں ہوا، پی پی والے بھی بلیک میلنگ کے موڈ میں تھے ، خان صاحب تو خیر ایک ہی رٹ لگائے بیٹھے کہ چیف جسٹس پر اعتماد ہے ، انہی کی سربراہی میں تحقیق ہونی چاہیے میاں صاحب بھی فرنٹ فٹ پر آگئے ہیں اور اطلاع کے مطابق عدالت عظمی کے سب سے بڑے جج کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔

اب خان صاحب اس کو اپنی فتح قرار دیں ، اعتزاز احسن مذاق اڑائیں ، میڈیا اس کو جنرل راحیل کے کسی بیان اور اقدام کا کرشمہ سمجھے ، لیکن اس میں شک نہیں پتّا تو میاں صاحب کھیل گئے ۔ ویل ڈن میاں جی !
####
دو روز پہلے پاکستان کے سب سے بڑے شریف اور سب بڑے جنرل نے ایک بیان دیا تھا کہ کرپشن کے خلاف ہر سطح پر احتساب ہونا چاہیے ، جو بھی ا حتساب کرے گا اس کی پشت پناہی کریں گے ، اس بیان پر واہ وا کے ڈونگرے ابھی برس ہی رہے تھے ، حکم ران جماعت پر طنز اور تیر کی بارش ہو ہی رہی تھی کہ سب سے بڑے شریف نے ایک درجن کے لگ بھگ بڑے بڑے لوگوں کو فارغ کردیا ، یہ سب حاضر سروس تھے، ان میں کرنل، جنرل ، بریگیڈیر سبھی ہیں، مراعات ختم ، لوٹا گیا مال واپس ، پنشن کی بنیاد پر انہیں گھر بھیج دیا گیا ، نام بھی شائع ہو گئے ، عزت بھی گئی ، مال بھی ۔
پنشن سے گزارہ تو جائے گا ، اور باہر نکل جائیں توذلت سے بھی بچ جائیں گے ، مگر جو کام ہونا تھا وہ تو ہو گیا نا! یہ بڑا کام ہے ، جو تحقیقات کے بعد انجام پایا ، بتایا جا رہا ہے ، دو سو سے زیادہ اور وردی پوشوں کی بابت بھی تحقیق چل رہی ہے ، ابھی کئی ایک کو رگڑا لگے گا ، کئی ایک کی مٹی پلید ہو گی ، کئی ایک کو رسوائی سمیٹنا ہو گی ، کئی ایک کو بوئے بیج کا پھل کاٹنا پڑے گا۔
####
چلو یہ تو ہو گیا ، یعنی ایک مقدس گائے تو ذبح ہو گئی اب دوسری مقدس گائے سے بھی یہی توقع رکھی جائے گی، لیکن لوگ اُس مقدس گائے کی بات نہیں کر رہے ، لوگ غریب کی جورو پر برس رہے ہیں ، بے چارہ سیاست دان گلی کا سب سے ماڑا کتا بھی جس کے لیے شیر بن جاتا ہے ،پبلک پراپرٹی جو ٹھہرا خیر میاں جی کا یہ دعوی اگر مان لیا جائے کہ وہ صاف ستھری سیدھی سچی ، دھلی دھلائی معصوم سی گائے ہیں ، اور چیف جسٹس کی سربراہی میں ان کی معصومیت ثابت ہو جائے(امکان یہی ہے) تو میاں صاحب ایک بڑا میلا لوٹ سکتے ہیں پی پی کے پاپا مسٹر زرداری اور ان کے بال و پر کاٹے جا سکتے ہیں ، میاں جی کا باہر موجود پیسا قانونی ثابت ہو جائے اور زرداری کا لَوٹ کر گھر واپس آجائے تو اور کیا چاہیے خان صاحب کی تو ہو جائے گی کچی ۔
لیکن اس کچی کے لیے قدم پکے اٹھانا پڑیں گے ، میاں جی کو کئی بیل ذبح کرنا ہوں گے ، کئی گایوں کو لمبا لٹانا ہوگا، کئی بکریاں اور بھیڑیں شہید کرنا پڑیں گی۔ چلیں میاں جی قدم بڑھائیے!بڑے شریف اور بڑے جنرل آپ کی پشت پر ہیں ، آپ سچے ہیں تو بہت سارے آپ کے لوگ کچے بھی ہیں ، ذرا ان کی خبر لیجیے انہیں شہید کیجیے یا خود شہاد ت کی تیاری کیجیے!
####
ذرا بات ہوجائے سب سے بڑے خواجہ کی، جو وزارت دفاع کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں اور بجلی و پانی کے بھی راجا ہیں ، کبھی فوج اور اس کے بڑوں پر برس رہے تھے ، اب لگتا ہے فوج کے ترجمان وہی ہیں ، جنرل کے ہر بیان پر دہلا وہی مارتے ہیں اور اس خوبی سے مارتے ہیں کہ لوگ حیرت سے تکتے اور ایک دوجے سے پوچھتے ہیں یہ وہی خواجہ ہے؟ راجا خواجہ کہتے ہیں حکومت بھی احتساب کرے ۔
یعنی جیسے حکومت کسی اور کی ہو ، اور آپ کسی اور کے ہوں ،خواجہ جی ! فوج کی گڈ بک میں نام لکھوانے کے لیے بیان کافی نہیں ہوا کرتے جب اولے برسیں گے تو بہت سی ٹنڈیں مزے لوٹیں گی ان اولوں کے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

ندیم تابانی کے اتوار اپریل کے مزید کالم