ہنگامہ ہے کیوں برپا

منگل اپریل    |    پروفیسر مظہر

سوچتا ہوں کہ ان کرم خوردہ فضاؤں میں گزرتی ساعتوں کا بے معنی اور لاحاصل سفر کب ختم ہو گا؟ کب ہاتف کی صدابلند ہو گی اور کب رب کی دراز ہوتی رسی کی طنابیں کھینچی جائیں گی۔ کب نرگسیت میں گُندھی اناؤں کے بت پاش پاش ہوں گے اور کب مصلحتوں کی چادر تارتار کرتا کوئی منصورحلاج کی طرح اناالحق کا نعرہ بلند کرے گا۔ کب تیرگی کے مہیب سایوں کو پاش پاش کرتی نورِمنور کی شمعیں فروزاں ہوں گی، کب خزاؤں کا کفن اتار کر بہاروں کے سفینے رواں دواں ہوں گے اور کب زیست کی اُکتا دینے والی یکسانیت انقلاب آفریں نغموں میں ڈھلے گی۔
کب میرے دیس کے نوجوان کو اپنی ذات کا عرفان ہو گا اور کب وہ فکر کی گہری نیلگوں جھیلوں میں اتر کر اپنے حصے کے کنول چُنے گا۔ کب وہ گندی سیاست کے آسیب زدہ ماحول سے نکل کر آزاد فضاؤں میں سانس لے گا اور کب اُسے ادراک ہو گا کہ اس قحط الرجال میں سب نعرے فریب، سب دعوے فریب۔

(خبر جاری ہے)

․․․․․
بات وزیراعظم کے بچوں سمیت اُن دو سو افراد کی نہیں، بات اُس منفی سوچ اور اپروچ کی ہے جو ڈھلتے وقت کے ساتھ اذہان و قلوب کو مسخر کرتی چلی جا رہی ہے۔

صرف ہمارے بزعمِ خویش حکمران ہی نہیں، ہم سب من حیث القوم کرپٹ ہو چکے ہیں کہ ہمیں کرپشن ہی میں اپنی بقا نظر آتی ہے۔
بخدا اگر ہمیں یقین ہوتا کہ عمران خاں اپنی صداقتوں کے کلہاڑے سے کرپشن کا دامن تارتار کرنے نکلے ہیں تو ہم ان کا ہراول دستہ ہوتے لیکن وہ تو ”میرے عزیز ہم وطنو“ کے شوق میں اتنے غلطاں کہ جب کچھ بن نہ پڑا تو بنی گالہ میں ہی قوم سے خطاب کر کے تکمیلِ آرزو کر لی۔ ویسے بھی اگر ایسے حواریوں کی معیت میں صبح متبسم کی تنویریں پھوٹنی ہیں جنھیں آزما آزما کے طبیعت اوبھ چکی تو پھر یاد رہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
جن کے ہاتھوں پہلے کبھی قوم کا بھلا نہیں ہوا، وہ اب ”نئے
پاکستان“ کا ادھورا خواب کیسے پورا کر سکیں گے؟ اس میں کلام نہیں کہ سہانے سپنوں کی حسین وادیوں کی سیر کرتے نوجوان جب آنکھیں وا کر کے عالمِ آب و گل میں لوٹیں گے تو اُن کے خونِ گرم کا ردِعمل بھی بہت شدید ہو گا اور وہ عمران خاں کو اصغر خاں بنا کر ہی دم لیں گے۔ ہم نے انہی آنکھوں سے اصغر خاں کا عروج دیکھا اور زوال بھی۔ عمران خاں کے حق میں تو تاحال ”امپائر“ کی انگلی کھڑی نہ ہو سکی، نہ مستقبل قریب میں کھڑی ہونے کی توقع ہے، لیکن اصغرخاں کے حق میں تو وہ ”انگلی“ کھڑی بھی ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو تختہ دار تک بھی پہنچے۔
پھر اصغرخاں کے ہاتھ کیا آیا؟ صرف گمنامی اور گوشہٴ تنہائی۔
طرزِ سیاست میں دونوں ”خان“ بالکل ایک جیسے، غروروتکبر، نرگسیت و انانیت میں گندھی سیاست کا انداز بھی ایک سا۔ مسندِاقتدار تک پہنچنے کی آرزو بھی ایک دوسرے کے مماثل اور اب کپتان صاحب کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے۔ جو اصغر خاں کا ہوا۔ اگر یقین نہ آئے تو 2018ء کے انتخابات تک صبر کر لیں، نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ میں نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے انہی کالموں میں ایک سے زائد بار لکھا کہ تحریک انصاف 25 سے 30 نشستیں ہی لے پائے گی لیکن تب خاں صاحب لکھ کر دینے کو تیار تھے کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوں گے، اس لیے ہمارے لکھے کو مجہول گردانا گیا۔
اب بھی ہمارے لکھے کو محض دیوانے کی بڑ ہی سمجھا جائے گا کہ تحریک انصاف تو ”پانامالیکس“ کے سہارے انتخابات کو 2016ء میں ہی دیکھ رہی ہے۔ خوش فہمی میں مبتلا ہونے کا ہر کسی کو حق ہے اور اس خطہ پاک کے باسی تو کچھ زیادہ ہی خوش فہم ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر میاں نوازشریف نے خود ہی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کا فیصلہ نہ کر لیا تو ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ بظاہر جنرل راحیل شریف کا حکومت سنبھالنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔
اس لیے الیکشن مقرر مدت پر 2018ء ہی میں ہوں گے، بصورت دیگر معدوم امکان اگر ہے تو صرف مارشل لا کا۔
رہی ”پانامالیکس“ کی بات تو سیاست دانوں کی موجودہ کھیپ میں سے تو کوئی نظر نہیں آتا جو کرپشن
کے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈال سکے کیونکہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ ویسے بھی سمندر پار کمپنیوں میں سرمایہ کاری غیرقانونی ہے نہ پاکستان سے رقوم باہر بھیجنا۔ کسی بیرونی ملک میں جائیداد خریدنا بھی غیرقانونی نہیں۔
اگر غیرقانونی ہے تو صرف یہ کہ کیا بھیجی جانے والی رقوم ٹیکس ادائیگی کے بعد قانونی طریقے سے بھیجی گئیں یا ”منی لانڈرنگ“ سے؟ ظاہر ہے کہ جن دو سو اصحاب نے آف شور کمپنیاں قائم کیں، ان کے پاس اس کا جواب بھی ہو گا۔ تحقیقاتی کمیشن اسی لیے قائم کیا جا رہا ہے کہ دودھ کادودھ اورپانی کا پانی ہو سکے لیکن ایساہوتا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ تقریباََ تمام سیاسی جماعتوں کا کوئی نہ کوئی فرد آف شور کمپنیز میں ملوث ہے ۔
پیپلزپارٹی کے رحمٰن ملک کانام پہلے ہی آچکا ،اب تحریکِ انصاف کے عبد العلیم خاں کا نام بھی آگیا ۔ ابھی پتہ نہیں اور کتنے باقی ہیں ۔یہ تو بہرحال طے کہ کبھی کوئی چور کسی دوسرے چور کااحتساب نہیں کرتا ۔اِس لیے حسبِ سابق ہوگا یہی کہ
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دِل کا
جو چیرا تو اِک قطرہٴ خوں نکلا
بہتر یہی کہ کرپشن کے تمام مگرمچھوں پرہاتھ ڈالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں متفق و متحد ہوکر ایک بااختیار تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیں جو فی الحال توممکن نہیں کیونکہ یہ جنگ کرپشن کے خلاف نہیں،اقتدار کی جنگ ہے ۔
پریشانی ہے توصرف یہ کہ بڑی مشکلوں سے پٹڑی پر چڑھی معیشت کہیں پھر سے لڑکھڑانہ جائے کہ ساری قوم کی تمناوٴں ،آرزووٴں کامحور و مرکز اقتصادی راہداری ہے جو دفوعی طور پر مضبوط پاکستان کو اقتصادی طور پر بھی آسمان کی رفعتوں سے روشناس کروا سکتی ہے ۔ظاہر ہے کہ عالمی ”غنڈوں“ کو اپنے قدموں پہ جم کے کھڑا پاکستان کسی صورت قبول نہیں ۔ اورہمارے رہنماء جانے انجانے میں انہی عالمی غنڈوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

پروفیسر مظہر کے منگل اپریل کے مزید کالم