انصاف،،،احساس،،،اخلاق و کردار

جمعرات اپریل    |    عبدالرحمن

مردہ اور بے ضمیر شخص کی مثال ایک جیسی ہے.جسم سے روح نکلنے کے بعد گوشت پوست کے ڈھانچے کو مردے سے تعبیر اسکی سوچ,, عقل اور سانس نہ ہونے کے سبب دی جاتی ہے.فطرت پر پیدا ہونے والے شخص کا جب احساس مرجاتا ہے تو اس پر بے حسی کی چادر آن پڑتی ہے یہی بے ضمیر شخص کی کیفیت ہے.انفرادی زندگی میں چادر دیکھ کر پاوں نہ پھیلانے والا کوئی بھی فرد,,, لالچ ,,,, معاشرتی رویوں یا منفی معاشرتی اقدار کے سبب اپنا احساس مار کر بے حسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے مگر اجتماعی زندگی میں افراد تو معاشرتی بے حسی کے ذمہ دار ہوتے ہی ہیں لیکن معاشرے کی جڑوں میں ابلتا ہوا تیل حکمرانوں کی عیاشیاں,,,,ناانصافی اور کرپشن ڈالتی ہے.مسند اقتدار پر بیٹھے حکمران یا ایوان عدل میں بیٹھے منصف جب نہ انصافی پر اتر آئیں ,,,, مصلحت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں,,کرپشن اور استحصال کو فروغ دینے لگیں تو اسی کے نتیجے میں معاشرے کی تباہی کی بنیادپڑتی ہے.کرپشن ,,,, استحصال ,,,میرٹ نہ ہونا انصاف کی ضد ہیں جو نہ انصافی سے پیدا ہوتی ہے.ناانصافی کو فساد فی الارض سے تعبیر کیا گیا ہے.انصاف کے لئے احساس کی کنجی چاہئیے جو بلند اخلاق و کردار کے بغیر ممکن نہیں.اخلاق و کردار کی بلندی آخرت اور یوم حساب کے تصور پر پختہ یقین ہی فراہم کر سکتی ہے,یہ ایک زنجیر ہے جو کڑی سے کڑی ملائے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتی.سچا راستہ پہاڑ کی طرح ہے جو بلندی کی طرف جاتا ہے جس پر چلنا مشکل ہے اور برا راستہ کھائی کی طرح ہے جس پر اترنا آسان ہے.بات پانامہ لیکس کی نہیں نہ ہی کرپشن کے خلاف ڈاکٹروں ,,,,اور استحصال کے خلاف مزدوروں کے احتجاج کی.دیکھنا یہ ہے کہ حکمران ,,,,جج,,بیوروکریٹ سے لے کر عام آدمی تک کیا ہمارا احساس زندہ ہے .
پانامہ لیکس کے معامکے پرجوڈیشل کمیشن یا پی آئی سی میں کرپشن کے خلاف بننے والی انکوائری کمیٹی کا سہارا لے کر ہم مکھی پہ مکھی تو مارنے نہیں جا رہے.
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

عبدالرحمن کے بدھ اپریل کے مزید کالم