کپتان اور کمال

جمعرات اپریل    |    نبی بیگ یونس

عمران خان اور مصطفی کمال کے سیاسی جلسے ایک ہی روز ہوئے۔ کپتان کا جلسہ اسلام آباد کمال کا جلسہ کراچی میں، کپتان کا خطاب آٹھ بجے کمال کا خطاب نو بجے، کپتان نے بسم اللہ کے بغیر تقریر شروع کی کمال نے سورہ فاتحہ ترجمے کے ساتھ تلاوت کی، کپتان کی تقریر بے ترتیب کمال کی تقریر مکمل ترتیب کے ساتھ، کپتان کی تقریر میں زیادہ "میں" کا لفظ تھا کمال کی تقریر میں " آپ" کا لفظ تھا، کپتان کی تقریر Subjective کمال کی تقریر Objective، کپتان نے بلند و بانگ دعوے کئے کمال نے کوئی دعویٰ نہیں کیا، کپتان نے مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کردی کمال نے کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا، کپتان نے طنزیہ جملے کسے کمال نے کسی پر کوئی طنز نہیں کی، کپتان کی تقریر جارحانہ کمال کی تقریر عاجزانہ تھی، کپتان نے کہا سب چور ہیں وہ خود اچھا ہے کمال نے کہا اللہ ہم سب کو اچھے راستے پر چلنے کی ہدایت دے، کپتان نے مخالفین کو دھمکیاں دیں کمال نے کسی کو دھمکایا نہیں، کپتان نے توڑنے کی باتیں کیں کمال نے جوڑنے کی باتیں کیں، کپتان نے ملک کو آگے لے جانے کیلئے کوئی آئیڈیا پیش نہیں کیا کمال نے اختیارات کو نچلی سطح پر ٹرانسفر کرنے کا بہترین آئیڈیا پیش کیا۔

(خبر جاری ہے)

کپتان نے دشمنی کی باتیں کیں کمال نے دوستی کی باتیں کیں، کپتان نے لوگوں کو ناراض کرنے کی باتیں کیں کمال نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جس سے ناراض ہوں یہاں سے جاکر اُن سے گلے ملو، کمال کی تقریر آرگنائز اور جامع تھی کپتان کی تقریر ڈس آرگنائز اور غیر جامع تھی، کپتان کے تقریر کی ابتدا اور اختتام درست نہیں تھی، کمال کے تقریر کی ابتدا اوراختتام ٹھوس تھی، کپتان کی تقریر غیر منظم کمال کی تقریرمکمل منظم ،کپتان لائحہ عمل دینا ہی بھول گئے تھے تقریر ختم کرنے کے بعد یاد آیا اصل کام ہی بھول گیا ہوں اور پھر تقریر شروع کی کمال کوئی چیز نہیں بھولے، کپتان کے جلسے میں بد نظمی کمال کے جلسے میں نظم و ضبط تھا، کپتان کے جلسے میں خواتین سے بدتمیزی کی گئی کمال کے جلسے میں خواتین کو عزت ملی، کپتان کے جلسے میں لوگ آپسمیں لڑتے رہے کمال کے جلسے میں لوگ پیار سے بات کرتے رہے، کپتان کے جلسے میں شور وغل تھا کمال کے جلسے میں خاموشی ، کپتان کے جلسے میں بے سکونی کمال کے جلسے میں سکون لگ رہا تھا، کپتان کے کارکن ان پڑھ کمال کے کارکن پڑھے لکھے لگ رہے تھے، کپتان کے جلسے میں کوئی ڈسپلن نہیں تھا کمال کے جلسے میں مکمل ڈسپلن نظر آیا، کپتان تقریر کرتے ہی سب سے پہلے خود اپنے گھر چلا گیا کمال تقریر ختم کرنے کے بعد بھی اسٹیج پر رہا پہلے لوگ چلے گئے آخر پر خود گیا ۔
۔۔
عمران خان کی صرف ایک بات اچھی ہے وہ یہ کہ وہ خود مالیاتی کرپشن میں ملوث نہیں لیکن اس کے ارد گرد کے لوگ ہر کام میں کسی سے کم نہیں،عمران خان کی پارٹی اندر سے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے لیکن پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد پی ٹی آئی میں تھوڑی اینرجی آئی ہے لیکن عمران خان کے غیر سیاسی ہتھکنڈوں اور پارٹی کی بد نظمی سے اگلے انتخابات میں اِس کا حال بہت بُرا ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com

نبی بیگ یونس کے جمعرات اپریل کے مزید کالم